موضوع: کشمیر سے متعلق پاکستانی پروپگنڈہ فلاپ



جموں و کشمیر کے دفعہ 370 سے آزاد ہوجانے کے بعد اس خطۂ بے نظیر میں جیسے جیسے زندگی معمول پر آرہی ہے، خصوصی مفادات رکھنے والی طاقتوں کی بوکھلاہٹ بھی بڑھنے لگی ہے جن میں پاکستان کی حکومت اور اپنی سیاست کی دوکان بند ہوجانے سے پریشانی میں آئے ہوئے سیاست داں پیش پیش ہیں۔ اُن کی مسلسل کوشش یہی ہے کہ پوری دنیا میں جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کو انسانی حقوق سے جوڑ کر سامنے رکھا جائے اور سب کو یقین دلا دیا جائے کہ بھارتی حکومت وہاں دن رات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی پراپیگنڈہ مشینری نے طرح طرح کی گمراہ کن خبریں پھیلائی ہیں۔اِن جھوٹی خبروں میں کہا گیا کہ کشمیر میں لوگوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں،کشمیری عوام کے مواصلاتی رابطے بند کردیے گئے ہیں، پوری وادی میں کرفیو لگا ہوا ہے، لوگ گھروں میں بند ہیں، سڑکیں ویران ہیں،کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں، پورے خطے کا رابطہ بھارت سے ہی نہیں بلکہ باقی دنیا بھر سے کٹ گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا نے تویہ افواہیں بھی پھیلائیں کہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہوگیا اور فوج وہاں قتل و غارت گری کابازار گرم رکھے ہوئے ہے۔ ظاہر ہے یہ تمام دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ نہ وادی میں کرفیو نافذ ہوا، نہ لوگوں کو گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آنے سے روکا گیا، اور نہ ہی کشمیر کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہوا۔ عوامی مواصلاتی رابطوں میں یہ تخفیف شروع میں ضرورکی گئی کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسزکو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تاکہ پاکستان کے عملی تعاون اور اُس کی سرپرستی سے کشمیر میں گھسے ہوئے دہشت گرد اِن رابطوں کا تشدد اور تخریب کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔لیکن بھارت سمیت تمام ملکوں کا میڈیا کشمیر سے مسلسل آزادانہ خبریں دیتا رہا اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ میڈیا کی خبروں سے ہی دنیا کو یہ معلوم ہوا کہ کشمیر میں کشیدگی کے باوجود مکمل امن ہے، دہشت گردوں کی حرکتیں یک لخت بند ہوگئی ہیں، عوام موبائل وغیرہ کی پابندی سے کسی قدر پریشان ضرور ہیں لیکن فوج اور حکام کے ساتھ وہ پورا تعاون کررہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے جو انتظامی نوعیت کی پابندیاں عائد کی تھیں وہ نہ تو ہمیشہ جاری رکھی جاسکتی تھیں اور نہ انھیں جاری رکھنے کی کوئی ضرورت ہی تھی۔ چنانچہ رفتہ رفتہ موبائل فون سے متعلق پابندیاں بتدریج نرم کی گئیں۔ لینڈلائن فون کے رابطے پوری طرح بحال کردیے گئے۔ اسکولوں میں بچوں کی حاضری بڑھنے لگی۔ اسپتالوں اور بنکوں وغیرہ میں کام کاج معمول پر آنے لگا۔ سڑکوں پر موٹر گاڑیوں کی آزادانہ آمدو رفت شروع ہوگئی۔ اور آج صورتِ حال یہ کہ جموں کشمیر میں فوجی تنصیبات اور سیکیورٹی فورسز کی اقامت گاہوں کو چھوڑ کر باقی کسی بھی علاقے میں کسی قسم کی کوئی پابندی نہ توعوامی آمدورفت پر ہے نہ کسی اور سماجی یا مذہبی سرگرمی پر ہے۔ پاکستان کے مقبوضہ کشمیری علاقے کو چھوڑ کر آج پورا کشمیر آزاد ہے مگر پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ جموں کشمیر کے موجودہ ماحول کو انسانی حقوق کی باریکیوں کے ساتھ جوڑ کر دنیا کے سامنے اس خطے کی مسخ شدہ تصویر پیش کی جاتی رہے۔پاکستانی وزیراعظم نے اسلامی ملکوں کو بھی اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی لیکن متحدہ عرب امارات ہی نہیں سعودی عرب جیسے ملک نے بھی جو اُس کی ہر قسم کی سیاسی اور اقتصادی مدد کرتا رہا ہے کشمیر سے متعلق حالیہ تبدیلیوں کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے کر اس کوشش پر پانی پھیر دیا۔ 
دراصل انسانی حقوق کی دہائی دے کر پاکستان کشمیر میں دہشت گردوں کی معاونت کی اپنی سرگرمیوں کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹائے رکھنا چاہتا ہے۔ جہاں تک انٹر نیٹ اور دیگر مواصلاتی خدمات پر جزوی پابندیوں کا تعلق ہے تو ہر انسان دوست کی طرح بھارتی حکومت بھی انھیں انسانی حقوق کے خلاف ہی مانتی ہے۔ لیکن وہ یہ بھی مانتی ہے کہ انسان کے زندہ رہنے کا حق تمام حقوق سے بالا تر ہے۔ اگر انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی بے لگام آزادیاں دہشت گردوں کوقتل و غارت گری میں مدد دے سکتی ہیں تو ان آزادیوں کو معطل کردینا درست ہی نہیں بلکہ ایک انسان دوست حکومت کا فرض بھی ہے۔ چنانچہ یہ عارضی پابندیاں بھارتی حکومت نے انسانوں کو پریشان کرنے لیے نہیں بلکہ ان کی جانیں بچانے کے لیے لگائی ہیں۔ کشمیر میں بعض پابندیوں کی وجہ سے انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ رکا ہے اورخطۂ کشمیر کی صورتِ حال دھیرے دھیرے ہی سہی لیکن یقینی رفتار سے معمول پر آرہی ہے۔ لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں، کشمیری عوام کے ساتھ قومی یگانگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور نئے حالات میں جموں کشمیر پورے بھارت سے اور پورا بھارت جموں کشمیر سے جڑتا جا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ