موضوع: عمران خان کی سیاسی الجھنیں
عمران خان گزشتہ سال ریاست کے بعض طاقتور اداروں کے تعاون اور حمایت سے برسراقتدار تو آگئے، لیکن انہوں نے جس طمطراق سے اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پاکستان کے عوام بالخصوص نوجوان طبقوں سے وعدے اوردعوے کیے تھے۔ اس کے باعث ہرطرف امیدیں جاگی تھیں اور بہت سے لوگ، جو سیاست کے داؤپیچ اور سیاست دانوں کے وعدوں اور دعوؤں کی حقیقت سے اچھی طرح واقف نہیں ہوتےیہ یقین کرنے لگے تھے کہ واقعی پاکستان میں بہت بڑی تبدیلی ہونے والی ہے۔ سب سے زیادہ امید معاشی صورت حال کے بارے میں پیدا ہوئی تھی کہ عمران خان کی حکومت پاکستان کو موجودہ اقتصادی بحران سے باہر نکالنے میں یقینا کامیاب ہوگی۔ پھر شفافیت لانے اور بدعنوانی کا قلع قمع کرنے کے لیے بھی لمبے چوڑے دعوے کیے گئے تھے لیکن تھوڑے ہی دنوں میں پتہ چلا کہ عمران حکومت ہر محاذپر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی ماحول میں بھی کافی پیچیدگیاں نظر آنے لگی ہیں۔ بہت جلد لوگوں کو یہ لگنے لگا کہ عمران حکومت سیاسی سطح پر مصالحتی رویہ اختیار کرنے کی بجائے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کررہی ہے، بلکہ انتقامی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ عمران خان کو اس بات کا زعم تھا کہ انہیں فوج کی پوری حمایت حاصل ہے اور وہ ان کے ہر جائز یا ناجائز فیصلہ پر ان کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے شاید اس بات پر غور نہیں کیا تھا کہ انتقامی سیاست کے معاملے میں پاکستانی فوج اپنا کام تو کسی سیاست داں کے کندھے پر سوارہوکر نکال لیتی ہے لیکن اپنی ساکھ کو نقصان پہنچاکر وہ اس طور پر کسی سیاست داں کا مہرہ نہیں بن سکتی۔ مثلا حال ہی میں نواز شریف کی خرابیٔ صحت کے معاملے میں اگرچہ انہیں عدالت سے یہ اجازت مل گئی کہ وہ بغرض علاج لندن جاسکتے ہیں لیکن عمران خان اس کے حق میں نہں تھے۔ ان کی حکومت کچھ مزید شرطوں کے بہانے رکاوٹ ڈال رہی تھی۔ نواز شریف کی حالت کچھ اتنی نازک ہوگئی تھی کہ یہ اندیشہ پیدا ہوگیاتھا کہ ان کی حالت اگر مزید نازک ہوئی اور وہ علاج کے لیے پاکستان سے باہر نہ جاسکے تو بہت سے سوال کھڑے ہوجائیں گے۔ فوج چاہتی تھی کہ نواز شریف کو جانے کی اجازت ملنی چاہیے ورنہ اگر انہیں خدانخواستہ کچھ ہوگیا تو سارا الزام فوج ہی پر آئے گا، ابھی تو فوج پر ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام آسیب کی طرح اس کا پیچھا کرتا رہا ہے۔اگر نواز شریف کے ساتھ کچھ ہوا تو خاص طور سے صوبہ ٔ پنجاب میں فوج کے لیے اپنا چہرہ بچانا مشکل ہوجائے گا۔ ویسے عمران خان کے دوسرے اتحادی بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ اس حالت میں نواز شریف کے پاکستان سے باہر جانے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو۔
بعض دوسری باتوں سے بھی عمران خان کو حالیہ دنوں میں دھکا لگا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے آزادی ٔ مارچ کا اعلان کیا اور صوبہ ٔ سندھ اورپنجاب سے ہوتے ہوئے ان کا یہ مارچ اسلام آباد پہنچا جہاں انہوں نے دھرنے اور احتجاج کا پروگرام ترتیب دیا۔ ان کا یہ دھرنا کئی روز جاری رہا لیکن اچانک 13 مارچ کو مولانا نے اپنے اس احتجاج کا پروگرام واپس لے لیا۔ اور پھر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا۔ ایک قیاس یہ لگایا جانے لگا کہ ارباب اختیار کے ساتھ مولانا سے خفیہ طور پر کوئی سمجھوتہ ہوگیا ہے اور یہ سمجھوتہ گجرات کے چودھری برادران کے توسط سے ہوا ہے۔ چودھری برادران سے مراد ہے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی۔ اس مرحلہ میں اس قیاس کو تقویت اس وقت ملی جب ایک ٹی وی انٹرویو میں چودھری پرویز الہی نے کہا کہ سمجھوتہ ہوجانے کے بعد ہی مولانا فضل الرحمان نے دو ہفتوں بعد اپنے احتجاج کا پروگرام واپس لیا۔ لیکن چودھری پرویز الہی نے یہ نہیں بتایا کہ سمجھوتہ مولانا نے کس کے ساتھ کیا ہے۔ حکومت کے ساتھ یا کسی اور کے ساتھ؟ چودھری برادران نے بھی اس بات کی شدید مخالفت کی تھی کہ نواز شریف کو باہر جانے سے روکا جارہا ہے۔ عمران خان کے ایک اور اتحادی متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس سلسلے میں حکومت کی سخت مخالفت کی ۔ گویا سیاسی سوجھ بوجھ کے اعتبار سے بیشتر مبصرین کی رائے ہے کہ عمران خان کو احتیاط اور توازن کے ساتھ ساتھ اپنی ترجیحات طے کرنی چاہیئں۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے بعد انہوں نے محسوس کرنا شروع کیا ہے کہ سیاست کے دشت کی سیاحی صرف بیانات اور پرجوش تقریروں کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی۔
پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں آج کل اس بات کا کافی چرچہ ہے کہ عمران خان محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب ان کی وہ ساکھ باقی نہیں رہی جو انتخابات سے پہلے تھی۔ اچانک اس مرحلے میں چودھری برادران کے سیاسی منظر نامے پر نظر آنے کے بعد شاید عمران خان کو یہ محسوس ہونے لگا کہ ان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی ہے۔ مشاہدین کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا کسی سے سمجھوتہ ہونے کا ذکر اپنے انٹرویو میں کرکے چودھری پرویز الٰہی نے عمران خان کی الجھن بڑھادی ہے اور وہ سوچنے لگے ہیں کہ چودھری برادران کی قربت اسٹیبلشمنٹ سے بہت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے اندرونی حلقوں سے پوچھا بھی ہے کہ کیا حکومت کو دھوکہ دیا جارہا ہے؟ یہ بھی خبر آئی ہے کہ وہ پارٹی کے اندر بڑے پیمانے پر صلاح ومشورہ کررہے ہیں اور کئی کمیٹیاں بھی بنائی ہیں تاکہ مختلف شعبوں میں تبادلہ ٔ خیال ہوتا رہے۔
****
Comments
Post a Comment