ہانگ کانگ میں جمہوریت کی لہر
حال ہی میں ہانگ کانگ میں ضلع کونسل کے انتخابات ہوئے۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب گزشتہ کوئی چھ ماہ سے سٹی اسٹیٹ اجتحاج اور مظاہروں کی زد میں ہے۔ ہر طرف سڑکوں پر احتجاج اور ہنگامہ آرائیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ان مظاہروں کے پیچھے کئی طرح کی کہانیاں بھی سننے کو مل رہی ہیں۔ ہانگ کانگ میں مجموعی طور پر 18 ضلع کونسل ہیں جن کے لئے انتخابات ہوئے۔ اگرچہ اقتدار کے ڈھانچے میں یہ کوئی اعلی یا بڑی اہمیت کے حامل ادارے نہیں ہیں بلکہ نچلی سطح کے ادارے ہیں اور ان کی ذمہ داریاں بھی بڑی محدود نوعیت کی ہیں جن میں عام شہریوں کی بعض بنیادی نوعیت کی سہولیات اور ٹریفک لائٹس وغیرہ کا خیال رکھنا ہوتا ہے لیکن بہرحال ضلع کونسل کے انتخابات کی اپنی اہمیت ضرور ہوتی ہے اور چونکہ یہ جمہوری ادارے ہیں، اس لئے جمہوریت کے تئیں عام لوگوں کے رجحان کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ایک لمبے عرصے سے وہاں ہنگامہ آرائیوں کا دور چل رہا ہے، جس میں ہانگ کانگ کا نوجوان طبقہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ احتجاج اور مظاہروں کے دوران کہیں کہیں پرتشدد کارروائیاں بھی ہوئی ہیں۔ لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ کشیدگی کے اس ماحول میں قدرتی طور پر ووٹروں میں خاص جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ووٹنگ کی شرح بہت زیادہ رہی اور 70 فیصد سے زیادہ لوگوں نے ووٹ دیئے۔ اس کا سہرا بھی نوجوانوں ہی کے سر جاتا ہے۔ انتخابات کے نتائج سے پتہ چلا کہ 18 کونسلوں میں سے 17 پر جمہوریت پسند گروپوں نے قبضہ کرلیا جبکہ ایسٹبلیشمنٹ کے حامی حلقوں کے حصہ میں صرف ایک کونسل آئی۔ ممبران کی مجموعی تعداد 452 ہے جن میں سے 392 ممبران جمہوریت پسند پارٹیوں کے منتخب ہوئے اور صرف 60 سیٹیں ایسٹبلشمنٹ کی حامی پارٹیوں کو ملیں۔ اب تک کی سب سے کم سیٹیں ان کے حصہ میں آئی ہیں۔ ضلع کونسل کے گزشتہ انتخابات 2015 میں ہوئے تھے۔ اس وقت مشکل سے 47 فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ حالیہ انتخابات سے قبل ایسٹبلشمنٹ حامی پارٹیوں کا قبضہ 292 سیٹوں پر تھا۔
ضلع کونسلوں کے اختیارات اور ذمہ دارایاں بڑی محدود نوعیت کی ہیں، اس لئے ان انتخابات میں کچھ بہت زیادہ دلچسپی نہیں لی جاتی لیکن اس بار کے انتخابات میں عالمی پیمانے پر کچھ زیادہ ہی دلچسپی لی گئی۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ایک لمبے عرصے سے وہاں اتھل پتھل کی صورتحال ہے اور پرتشدد مظاہرے بھی ہورہے ہیں۔ احتجاج کا سلسلہ کوئی چھ ماہ قبل اس وقت شروع ہوا جب سٹی حکومت نے ایک ایسے قانون کی تجویز پیش کی جس کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ ہانگ کانگ کے لوگوں کو چین کے مین لینڈ بھیجا جاسکے۔ اس کے بعد ہی سے حکومت اور مظاہرین کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی۔دونوں طرف سے غلطیاں بھی ہوئیں۔ عوام کا غم و غصہ دیکھنے کے باوجود شروع میں حکومت یہ بل واپس لینے پر راضی نہ ہوئی لیکن جب احتجاج نے شدید شکل اختیار کی اور جگہ جگہ تشدد کے واقعات بھی پھوٹ پڑے تو حکومت نے بل واپس لینے کا اشارہ کیا لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ ہانگ کانگ انتظامیہ کی سربراہ مسز کیری لیم کے استعفی کا مطالبہ ہونے لگا۔ یاد رہے کہ انتظامیہ نے بل واپس لینے کے فیصلے میں اتنی تاخیر کردی کہ مظاہرین نے بے حد سخت موقف اختیار کیا اور تین مطالبات پر اڑ گئے۔ ان کا پہلا مطالبہ تو یہ ہے کہ مسز لیم استعفی دیں، پولیس نے مظاہرین کے ساتھ جو زیادتیاں کیں، ان کی چھان بین کرائی جائے اور جمہوریت کو مزید فروغ دیا جائے اور اصلاحات کی جائیں۔حکومت نے ان مطالبات کو یکسر رد کردیا اور مظاہرین کی ہنگامہ آرائیوں کو دبانے کے لئے سخت رویے اختیار کئے، نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں طرف سے سخت موقف اختیار کیا جانے لگا اور دونوں فریقوں نے اپنے اپنے طور پر طاقت کا استعمال کرنا شروع کردیا۔ مظاہرین نے خاص ایئر پورٹ کو مختصر سے عرصہ کے لئے بند کردیا اورایک یونیورسٹی پر بھی قبضہ کرلیا۔ انہوں نے پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملے بھی کئے۔ دوسری طرف پولیس نے سینکڑوں راؤنڈ ربر بولیٹ اور آنسو گیس کے شیل داغنے شروع کئے۔
اس طرح کشیدگی کا ماحول اس سٹی اسٹیٹ میں اب بھی برقرار ہے۔ انتخابات کےنتائج اس بات کا اشارہ کرتے ہیں ہانگ کانگ انتظامیہ کو نوشتۂ دیوار پڑھنا چاہیے اور امن اور صلح صفائی کا ماحول پیدا کرنے کی پہل کرنی چاہیے۔ انتظامیہ کی سربراہ مسز کیری لیم نے کہا تو ہے کہ وہ مینڈیٹ کا احترام کریں گی، اگر وہ مخلص ہیں تو انہیں مظاہرین سے بات چیت کرنی چاہئے اور تمام تلخیوں کو بھلاکر ایسی راہ اختیار کرنی چاہیے کہ تعطل اور محاذ آرائی کا ماحول ختم ہو۔
Comments
Post a Comment