وزیراعظم پاکستان کو کچھ صائب مشورے
پاکستان کے موجودہ منظرنامے میں کافی کشیدگی اور مایوسی کا ماحول نظر آتا ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ لگاتار گر رہی ہے اور اپنے بعض منفی رویوں کے باعث عالمی برادری میں اس کی ساکھ مزید گرتی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی اندرونی صورت حال کچھ اتنی پریشان کن نظر آتی ہے کہ لوگ موجودہ حکومت سے، جسے اقتدار میں آئے ہوئے بہ مشکل سوا سال کا عرصہ ہوا ہے، حد درجہ ناراض اور ناخوش ہیں۔ موجودہ اقتصادی بحران نے تشویشناک شکل اختیار کر لی ہے اور عام شہری مہنگائی، ضروری اشیاء کی عدم دستیابی اور ٹیکس کے بوجھ سے پریشان ہیں۔ پھر ہند۔پاک کشیدگی بھی کچھ کم نہیں ہے۔ ادھر سیاسی محاذ پر بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن نے دھرنا شروع کیا ہے اور عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں اور اس سے قطع نظر سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں شدید طور پر علیل ہوگئے تھے اور ان کی حالت انتہائی نازک ہوگئی ہے۔ عدالت نے تو ان کی خرابیٔ صحت کو دیکھتے ہوئے علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت پہلے ہی دے دی تھی لیکن حکومت نے بطور ضمانت بہت بڑی رقم کا بانڈ دینے کی شرط لگا دی تھی جس کا پاکستانی عوام نے بہت برا مانا اور اسے عمران خان کی انتقامی کارروائی سے تعبیر کیا ۔ لیکن تازہ خبروں کے مطابق اِگزٹ کنٹرول لسٹ سے ان کا نام حذف کردیا گیا اور اب وہ لندن جاسکتے ہیں۔ بہرحال ان گھریلو مسائل سے قطع نظر بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کے پس منظرمیں صائب حلقوں نے حکومت کو بعض ایسے مشورے بھی دئیے ہیں جن پر حکومت اگرتوجہ دے اور عمل کرے تو حالات میں سدھار آسکتا ہے اور پاکستان کی ساکھ کسی حد تک بحال ہوسکتی ہے۔ اس قسم کے مشورے دینے والوں میں سینئر سیاسی تجزیہ کار ، سفارت کار اورسیاسی طور پر باشعور افراد اور اہل نظر بھی شامل ہیں۔
حال ہی میں کرتارپور راہداری کا جو افتتاح ہوا تھا اس کے سباق میں سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے سابق سفیر پاکستان برائے امریکہ، چین اور ہندوستان اشرف جہانگیر قاضی نے عمران خان کو یہ مشورہ دیا ہے کہ انہیں حوصلہ کے ساتھ کچھ مثبت قدم اٹھانے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ ہندوستان کے وزیراعظم مودی نے کرتارپور کاریڈور کے حوالے سے عمران خان کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے اس جانب مثبت پیش قدمی کی تھی اس لئے شکریہ کے مستحق ہیں۔
جہانگیر قاضی نے یہ بھی کہا کہ علاقائی، قومی اور بین الاقوامی پیمانے پر پاکستان کی ساکھ بحال کرنے کے لئے کچھ خاص قسم کے اقدامات کے بارے میں اگر وزیراعظم پاکستان تھوڑی توجہ دیں تو بہت سی مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ مثلاً ہند۔پاک کی موجودہ صورت حال کے پس منظر میں اگر وہ تھوڑی جرأت کا مظاہرہ کریں اور امن کے کاز کو تقویت دینے کے لئے دہلی کا سفر اختیار کرکے کچھ مشترکہ اور عام مسائل کے حل کے سلسلہ میں ہندوستان کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کریں تو اس سے فضا بہت کچھ بدل سکتی ہے۔ مثلاً تبدیلیٔ آب وہوا اور آلودگی سے درپیش خطرات کا ذکر کریں، متنازعہ مسائل کو حل کرکے جنگ اور کشیدگی کے ماحول کو ٹالنے کی باتیں کی جائیں۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جد وجہد کرنے کا عزم ظاہر کیا جائے اور نفرت اور اشتعال پھیلانے والی باتوں سے گریز کیا جائے۔
اشرف جہانگیر قاضی کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک بہتر پیغام جائے گا بلکہ عالمی برادری بھی یقیناً اس کا خیر مقدم کرے گی۔ ایک اور بات کی طرف انہوں نے بطور خاص اشارہ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بے وجہ کی اشتعال انگیزیوں کو روکا جائے اور سیز فائر کے بارے میں کوئی مفاہمت پیدا کی جائے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جس کے لئے کچھ زیادہ محنت یا لمبی مدت کی بات چیت درکار ہوگی۔ ان باتوں کے علاوہ اندرون ملک بھی پاکستان کو صحت مند سیاست اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا اور دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ترقیاتی منصوبوں کو بڑھاوا دینا ہوگا۔ اسی طرح بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل کے تئیں صاف ستھری اور صحت مند سوچ کو اختیار کرنا خود پاکستان کے حق میں ہوگا۔ در اصل ایسی رائیں پہلے بھی دی جاتی رہی ہیں اور ایسے مشوروں میں ایک چیز جو پوشیدہ رہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ باتیں بظاہر تو وزیراعظم اور اس کی حکومت سے کہی جاتی ہیں لیکن روئے سخن ان کی جانب ہوتا ہے جو درپردہ حکومت کرتے ہیں۔
حال ہی میں کرتارپور راہداری کا جو افتتاح ہوا تھا اس کے سباق میں سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے سابق سفیر پاکستان برائے امریکہ، چین اور ہندوستان اشرف جہانگیر قاضی نے عمران خان کو یہ مشورہ دیا ہے کہ انہیں حوصلہ کے ساتھ کچھ مثبت قدم اٹھانے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ ہندوستان کے وزیراعظم مودی نے کرتارپور کاریڈور کے حوالے سے عمران خان کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے اس جانب مثبت پیش قدمی کی تھی اس لئے شکریہ کے مستحق ہیں۔
جہانگیر قاضی نے یہ بھی کہا کہ علاقائی، قومی اور بین الاقوامی پیمانے پر پاکستان کی ساکھ بحال کرنے کے لئے کچھ خاص قسم کے اقدامات کے بارے میں اگر وزیراعظم پاکستان تھوڑی توجہ دیں تو بہت سی مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ مثلاً ہند۔پاک کی موجودہ صورت حال کے پس منظر میں اگر وہ تھوڑی جرأت کا مظاہرہ کریں اور امن کے کاز کو تقویت دینے کے لئے دہلی کا سفر اختیار کرکے کچھ مشترکہ اور عام مسائل کے حل کے سلسلہ میں ہندوستان کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کریں تو اس سے فضا بہت کچھ بدل سکتی ہے۔ مثلاً تبدیلیٔ آب وہوا اور آلودگی سے درپیش خطرات کا ذکر کریں، متنازعہ مسائل کو حل کرکے جنگ اور کشیدگی کے ماحول کو ٹالنے کی باتیں کی جائیں۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جد وجہد کرنے کا عزم ظاہر کیا جائے اور نفرت اور اشتعال پھیلانے والی باتوں سے گریز کیا جائے۔
اشرف جہانگیر قاضی کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک بہتر پیغام جائے گا بلکہ عالمی برادری بھی یقیناً اس کا خیر مقدم کرے گی۔ ایک اور بات کی طرف انہوں نے بطور خاص اشارہ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بے وجہ کی اشتعال انگیزیوں کو روکا جائے اور سیز فائر کے بارے میں کوئی مفاہمت پیدا کی جائے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جس کے لئے کچھ زیادہ محنت یا لمبی مدت کی بات چیت درکار ہوگی۔ ان باتوں کے علاوہ اندرون ملک بھی پاکستان کو صحت مند سیاست اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا اور دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ترقیاتی منصوبوں کو بڑھاوا دینا ہوگا۔ اسی طرح بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل کے تئیں صاف ستھری اور صحت مند سوچ کو اختیار کرنا خود پاکستان کے حق میں ہوگا۔ در اصل ایسی رائیں پہلے بھی دی جاتی رہی ہیں اور ایسے مشوروں میں ایک چیز جو پوشیدہ رہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ باتیں بظاہر تو وزیراعظم اور اس کی حکومت سے کہی جاتی ہیں لیکن روئے سخن ان کی جانب ہوتا ہے جو درپردہ حکومت کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment