کرتارپور صاحب کی اہمیت

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے ان مقدس مقامات کے درشن کیلئے ہرروز دعا کرتے ہیں جو ملک کی تقسیم کے باعث ان کی رسائی سے دور ہوچکے ہیں۔ ایسے ہی مقدس مقامات میں گورودوارہ کرتارپورصاحب ہے جسے سب سے زیادہ مقدس مانا جاتا ہے۔ یہ گورودوارہ راوی ندی کے کنارے بنا ہوا ہے جہاں گورونانک نے اپنی عمر کی آخری 18 سال گزارے تھے۔ یہ بین الاقوامی سرحد سے محض چار کلو میٹر دور ہے اور جسے ہندوستان سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اب کرتارپور راہداری کے افتتاح کے بعد ہزاروں یاتری روزانہ اس گورودوارے کا درشن کرسکیں گے۔ اس سے لاکھوں لوگوں کو جذباتی اور روحانی سکون حاصل ہوگا۔

وزیراعظم نریندرمودی نے گوروداس پور میں ڈیرہ بابا نانک میں ہندوستان کی جانب کرتارپور راہداری کے چیک پوسٹ کا سنیچر کے روز افتتاح کیا۔ اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب جبکہ راہداری کا افتتاح ہوچکا ہے عقیدتمندوں کیلئے دربار صاحب گورودوارے کا درشن آسان ہوجائے گا۔ دربار صاحب کے درشن کیلئے یاتریوں کے پہلے جتھے میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور مرکزی وزراء ہرسمرت کور بادل اور ہردیپ سنگھ پوری شامل تھے۔

گورونانک کا 550واں یوم ولادت ان کی ضروری تعلیمات کی بازیافت کیلئے ایک اہم موقع ہے۔ ان کی تعلیمات کے بہت سے اہم پہلو کرتارپور میں ان کی زندگی سے اجاگر ہوتے ہیں جہاں انہوں نے تقریباً دو دہائی کے مسلسل سفر کے بعد قیام اختیار کیا، جس کے دوران انہوں نے سچائی ،دردمندی اور لوگوں کے درمیان برابری کا درس دیا۔ انہوں نے ہر عقیدے سے تعلق رکھنے والے صاحبان علم سے تفصیلی بحث ومباحثہ کرکے جہالت وظلمت دور کی۔ انہوں نے ترک دنیا کے تصور اور بے تکے رسم ورواج کی سخت مخالفت کی۔

کرتار پور میں ہی گورونانک نے اپنے روحانی پیغامات کو عملی شکل دی۔ انہوں نے وہاں نہ صرف ایک گھریلو انسان کے طور پر زندگی بسر کی بلکہ ایک کسان کے طو پر بھی کام کیا۔ ان کی اس طرز زندگی سے لوگ کافی متاثر ہوئے اور جلد ہی ان کے پیروکاروں کی ایک برادری قائم ہوگئی جس میں ہندو، مسلم، غریب وامیر، درویش اور تاجر سبھی شامل تھے۔ یہ کوئی راہبانہ سلسلہ قائم نہیں ہورہا تھا بلکہ ایک ایسی برادری کا قیام عمل میں آرہا تھا جس میں تاجر، کسان، دستکار اور ان کے اہل خاندان بھی شامل ہورہے تھے جن کے کندھوں پر دنیا وی ذمہ داریاں تھیں۔ گورونانک کی تعلیم کا بنیادی پیغام تھا کہ انسان کو دنیا کے حقائق کو قبول کرکے اس میں رہنا ہے اور تمام برائیوں سے دور رہ کر سچائی کی راہ پر چلنا ہے۔ اسے انسان کے دکھ درد کو دور کرنے کیلئے وہ سب کچھ کرنا چاہئے جو وہ کرسکتا ہے۔ گورونانک کے مطابق ترک دنیا ایک بناوٹی چیز ہے۔ انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ کرت کرو یعنی کام کرو، نام جپو یعنی ایشور کا دھیان لگاؤ اور وندچھاکو یعنی کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو۔

کرتارپور میں گورونانک کے دور کی بہت سی روایات ملتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کاتعلق دھرم سال، سنگت اور پنگت سے ہے۔ دھرم سال وہ جگہ تھی جہاں گوروناک خالق کائنات کی حمد وثنا کیا کرتے تھے اور لوگ وہاں بیٹھ کر گوروجی کے کیرتن کو سنا کرتے تھے۔ یہی دھرم سال بعد میں گورودواروں میں تبدیل ہوگئے۔ ان گورودواروں نے مذہب کو پجاریوں کی خود غرضانہ گرفت سے چھین کر عوام تک پہنچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

وہ اجتماع جو کیرتن سننے کیلئے اکٹھا ہوا کرتا تھا اسے سنگت کا نام دیا گیا۔ اس سنگت نے ایک بڑا سماجی کام بھی کیا۔ اس نے لوگوں میں بھائی چارہ پیدا کرنے میں کافی اہم کردار ادا کیا۔ یہاں امیر وغریب اور چھوٹے ، بڑے میں کوئی امتیاز نہیں۔ یہاں ذات پات کا کوئی بھید بھاؤ نہیں۔ یہاں برابری کی بنیاد پر سب مل کر کام کرتے ہیں۔ یہیں سے مساوات کا پیغام ملتا ہے۔ ایسا ہی ایک پیغام گورونانک نے پنگت کی روایت کے ذریعے دیا۔ پنگت اسے کہتے ہیں جہاں غریب اور امیر دونوں ایک ہی ساتھ بیٹھ کر لنگر کا کھانا کھاتے ہیں۔ یہاں کسی کے عہدے، دھن دولت اور ذات پات کا کوئی دخل نہیں۔ سب کیلئے ایک ہی کھانا ہے اور وہ کھانا سب کو ساتھ بیٹھ کر کھانا ہے، لنگر سے انسانیت کی خدمت کے جذبے کا بھی اظہار ہوتا ہے جس کے لئے سکھ برادری آج پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔

کرتارپور راہداری کا افتتاح ہمیں خود کو مساوات، انسانی درمندی اور خالق کائنات کی واحدانیت کے گورونانک کے پیغام کےتئیں دوبارہ وقف کرنے کا سنہرا موقع فراہم کرتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ