موضوع: جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع پر تنازعہ



پاکستان کے سپریم کورٹ نے منگل کے روز اس سمری کو معطل کردیا جسے وزیر اعظم عمران خان نے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت کار میں تین سال کی توسیع کے لیے 19 اگست کو جاری کیا تھا۔ 59 سالہ جنرل کو اس ماہ کی 28 تاریخ کی آدھی رات کو ملازمت سے سبکدوش ہونا تھا لیکن عدالت عظمی نے ان کی مدت کار میں توسیع سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے انہیں صرف 6 ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ پارلیمنٹ اس سلسلہ میں جلد ہی ایک قانون بنائے گی۔


چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی قیادت میں ایک تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ قانونی اور انتظامی بنیادوں پر سنایا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملہ میں پورے عمل کو تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ عدالت عظمی کے اس ریمارک کے باعث وزیراعظم عمران خان اور صدرعارف علوی کو زبردست خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع سے متعلق تجویز پہلے کابینہ میں منظور ہونی چاہیے تھی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد ہی وزیراعظم اور صدر مملکت اس پر مزید کارروائی کرسکتے تھے۔میڈیا کی خبروں کے مطابق 25 وزیروں میں سے صرف 11 وزراء نے اس تجویز کو منظوری دی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ فوجی ضابطوں میں لفظ‘توسیع’ کہیں بھی نہیں ملتا اور نہ ہی فوج کے سربراہ کی مدت کار کی وضاحت کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے فورا بعد عمران خان حکومت حرکت میں آگئی۔ آناً فاناً میں کابینہ کی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی اور پہلی سمری منسوخ کرنے کے بعد پاکستان ڈیفنس سروسز رولس (Pakistan Defence Services Rules ) میں ترمیم کرکے اور اس میں لفظ ‘توسیع’ جوڑ کر ایک نئی سمری جاری کی گئی۔ حکومت نے علاقہ میں سلامتی کی صورت حال کو جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع کی وجہ قرار دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع دینے کی یہ صحیح وجہ ہے؟

اس سے قبل پاکستانی سپریم کورٹ نے فوج کے خلاف اس طرح کا فیصلہ نہیں سنایا۔ اگر ماضی میں اس نے کچھ کیا بھی تو صرف یہ کہہ کر فوجی بغاوتوں کو اپنی منظوری دی کہ سول انتظامیہ کی ناکامی کے باعث ایسا اقدام ضروری تھا۔ نائن الیون کے فوراً بعد سپریم کورٹ نے نہ صرف جنرل پرویز مشرف کی ماورائے آئین سرگرمیوں کو منظوری دی بلکہ آئین میں ترمیم کرنے اور انتخابات کرانے کے لیے انہیں تین سال کا وقت دے دیا۔عدالت کے اس طرح کے فیصلوں کے باعث ہی پاکستانی فوج ملک پر عرصۂ دراز تک راج کرتی رہی اور سلامتی اور خارجی امور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ عدالت کے فیصلہ سے زیادہ جو بات ضروری ہے وہ ہے نوٹیفکیشن کی معطلی سے ملنے والا پیغام۔ عدالت عظمی کو اس بات کی فکر تھی کہ ماضی میں پانچ یا چھ جرنیلوں نے خود ہی اپنی مدت کار میں توسیع کرلی تھی لہذا عدالت چاہتی تھی کہ اس بار ایسا ہرگز نہ ہو۔

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں بغیر حساب کتاب والے فنڈ کے ایک معاملہ میں دو ججوں کے خلاف صدارتی ریفرنسیز جاری کیے گئے تھے۔ لہذا مشاہدین کا خیال ہے کہ کہیں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ وزیراعظم کے دفتر سے بدلہ لینے کے جذبے کے تحت نہ لیا گیا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ وکیلوں کی برادری ججوں کی تقرری میں حکومت کی مداخلت سے کافی ناراض ہے۔ پاکستان کی بار کونسل نے جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع کے خلاف آئندہ ہفتہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بہت سی سیاسی پارٹیوں نے بھی توسیع کی مخالفت کی ہے۔ ادھر جنرل پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کی سماعت بھی 5 دسمبر سے شروع ہورہی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے ہورہا ہے کیوں کہ عمران خان حکومت فوج کی حمایت سے ہی اقتدار میں آئی ہے اس لیے وہ اس کے ہاتھوں بک چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ فوج نے انتخابات کے دوران عمران خان کی کافی مدد کی تھی اس لیے عمران حکومت نے اس کا احسان چکانے کے لیے جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس خیال کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے فوراً بعد ہی وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا تاکہ وہ عدالت میں حکومت کی نمائندگی کرسکیں۔ اب یہ قرض چکانے والی بات ہے یا نہیں لیکن یہ بات ضرور ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت بالکل ناکارہ ہے جس میں ملک چلانے کی صلاحیت بالکل نہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ کی مدت کار میں توسیع کے خلاف یہ دلیل دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں بھی ایک پٹیشن داخل کی گئی ہے کہ وہ احمدیہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان میں احمدیہ فرقہ کو دائرۂ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ہائی کورٹ اس درخواست پر کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

****

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ