موضوع: سری لنکا میں نئی حکومت اور ہند- سری لنکا تعلقات

حال ہی میں پڑوسی ملک سری لنکا میں صدارتی انتخابات ہوئے اور گوت بایا راج پکشے نئے صدر منتخب ہوئے۔ وہ غالب اکثریت سے اقتدار میں آئے ہیں اور نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنوبی علاقوں کی سنہالی اکثریت نے انہیں بڑی تعداد میں ووٹ دیئے ہیں جبکہ شمال اور مشرق کے علاقوں میں تمل اور مسلم اقلیت کی بھاری اکثریت نے ان کے خلاف اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے لیکن جمہوریت میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور ہر ملک اور سماج کا یہ اندرونی معاملہ ہوتا ہے۔ تاہم برسراقتدار آنے والی حکومت ان باتوں سے بلند ہوکر مجموعی طور پر اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی پر توجہ دیتی ہے۔ موجودہ قیادت نے سری لنکا کے عوام کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ تمام نسلی گروپوں کی بہتری اور فلاح کے لئے کام کرے گی۔ ہندوستان نے پڑوسی ہونے کے ناتے سری لنکا میں ہونے والی حکومت کی پر امن منتقلی اور نئی حکومت کا استقبال کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات حسب معمول بہتر رہیں گے اور آپسی اشتراک و تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔

سری لنکا ایک لمبے عرصہ تک خانہ جنگی میں الجھا رہا۔ جب وہاں کی حکومت لبریشن ٹائیگرز آف تمل ایلم یعنی ایل ٹی ٹی ای سے دست و گریباں تھی تو اس وقت نو منتخب صدر یعنی گوت بایا راج پکشے وہاں کے وزیردفاع کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے جبکہ ان کے بھائی مہندرا راج پکشے وہاں کے صدر تھے۔ وہ خانہ جنگی کا آخری مرحلہ چل رہا تھا۔ لیکن اب گوت بایا بطور صدر واپس آئے ہیں۔ ہندوستان ہی کی طرح سری لنکا بھی ایک ملے جلے سماج کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسا سماج تکثیریت اور تکثیریت پسندی پر مبنی ہوتا ہے اور جمہوریت میں سوسائٹی کا یہ پہلو جمہوری معاشرے کو تقویت دیتا ہے۔ امید ہے سری لنکا کی نئی حکومت بھی تکثیریت پسندی کو نہ صرف قائم رکھے گی بلکہ اسے فروغ بھی دے گی۔

انتخابات سے قبل جو حکومت وہاں برسر اقتدار تھی وہ ایک اتحاد کی ملی جلی حکومت تھی جس کی قیادت میتری پالا سری سینا اور رانل وکرما سنگھے کر رہے تھے۔ ظاہر ہے ہار اور جیت کے کچھ اسباب بھی ہوتے ہیں ۔ پچھلی حکومت کی شکست اور نئی برسرا قتدار آنے والی حکومت کے بارے میں مختلف حلقوں کے اپنی قیاس آرائیاں اور اپنے جائزے بھی ہونگے جس پر میڈیا میں کچھ دن بحث چلتی ہے۔ اس وقت بھی نئی حکومت کو درپیش چیلنج اور اس سے وابستہ توقعات کے بارے میں جائزے اور اداریئے اخباروں کے خاص موضوع ہیں۔ پچھلی حکومت کی شکست کی وجوہات کے بارے میں عام تاثر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت نے اقتصادی معاملات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ اسی طرح سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کرنے میں بھی کچھ زیادہ کامیاب ثابت نہ ہو سکی۔ ایسٹر سنڈے کے موقع پر جو بھیانک دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا اس کی مثال بطور خاص پیش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں حکومت اور متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے زبردست چوک ہوئی تھی۔ اس کا ملک کے ماحول پر بھی ناخوشگوار اثر پڑا تھا اور سماجی سطح پر کشیدگی کا ماحول قائم ہو گیا تھا۔ مختلف نسلی گروپوں کے درمیان ایک دوسرے کے تئیں شکوک و شبہات بھی پیدا ہوئے۔بہر حال اس طرح کے نشیب و فراز دوسرے ملکوں میں بھی آتے رہتے ہیں جن پر اکثر قابو پا لیا جاتا ہے اور سری لنکا جمہوری ملک کی حیثیت سے ایسے حالات سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

ہندوستان کی روز اول سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں سے بہتر تعلقات کو فروغ دے۔ ساتھ ہی اس کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی عنصر یہ رہا ہے کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں کسی طرح کی مداخلت نہ کی جائے ۔ سری لنکا کے بارے میں بھی اس کا ہمیشہ یہی رویہ رہا ۔ اسی لئے اس نے نو منتخب صدر کو یہ یقین دلایا ہے کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ بھی بھر پور تعاون کرتا رہے گا تاکہ آنے والے وقتوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو سکیں۔ چنانچہ گذشتہ منگل ہی کو ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کولمبو گئے اور نئے صدر سے ملاقات کی۔ امید ہے کہ گوت بایا راج پکشے بھی اسی مہینہ کے اواخر میں نئی دلی کا دورہ کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ 29نومبر کو یہاں آ سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات یقیناً فروغ پائیں گے۔ بعض حلقوں میں یہ بھی محسوس کیا جاتا ہے کہ راج پکشے حکومت کا جھکاؤ چین کی طرف زیادہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس اندیشہ میں کچھ زیادہ دم نظر نہیں آتا ۔ سری لنکا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے وہ کسی بھی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کسی بھی سطح پر فروغ دے اس سے بھلا ہندوستان کو کیا پریشانی ہو سکتی ہے۔ اندیشہ کا امکان صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب کسی بھی زاویے سے ہندوستان کی سیکیورٹی کو کسی طور پر خطرہ لاحق ہوگا۔ اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ آپسی تعلقات اگر اطمینان بخش طور پر فروغ پائیں گے تو ایک دوسرے کی سیکورٹی کے معاملات بھی پیش نظر ہونگے۔

Comments