موضوع: افغانستان سے موصول ہونے والی تشویشناک خبریں



یہ عجیب بدقسمتی کی بات ہے کہ جنگ زدہ اور خستہ حال ملک افغانستان سے اکثر پریشان کن خبریں ملتی رہتی ہیں۔ اگرچہ افغانستان میں اس وقت آئینی طور پر ایک منتخب حکومت قائم ہے اور وہ کام بھی کررہی ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حکومت پورے طور پر مستحکم ہے اور باوجود کچھ رکاوٹوں اور ناہمواریوں کے مجموعی طور پر سب کچھ ٹھیک ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے عرصے سے افغانستان میں امن و آشتی کی آمد سے مستقلاً گریزاں رہا ہے۔ کبھی غیر ملکی فوجوں کی آمد سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اور مزاحمت، کبھی خانہ جنگی، کبھی اقتدار کی رسہ کشی اور کبھی طالبان کا سخت گیر اور خود ساختہ ‘‘شرعی نظام’’ نفاذ لیکن ان تمام مرحلوں میں ایک ہی چیز مشترک نظر آتی ہے۔ خون خرابے اور قتل و غارت گری کا ماحول۔ اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ صدارتی انتخاب تو ہوچکا ہے اور یہ مرحلہ ستمبر کے اواخر میں ہی طے ہوا لیکن ابھی تک نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس لئے نئی حکومت کی تشکیل بھی نہ ہوسکی۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ سننے میں آرہا ہے کہ مزید تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ گزشتہ سنیچر کو افغانستان کے انڈیپینڈنٹ الیکشن کمیشن نے یہ کہا ہے کہ وہ 800 پولنگ اسٹیشنوں کے بیلٹ کی دوبارہ گنتی کرائے گا۔ کمیشن کا خیال ہے کہ انتخابی ضابطوں کی تکمیل کے مرحلے میں کچھ گڑبڑی ہوئی تھی۔ دوسری طرف موجودہ صدر اشرف غنی کو چیلنج کرنے والے خاص صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ دوبارہ گنتی کرائے جانے کےحق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اور ان کے حامی یہ چاہتے ہیں کہ تین لاکھ کے قریب اضافی ووٹ ان کی طرف جوڑ دیئے جائیں جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ڈاکٹر غنی ڈالے گئے مجموعی ووٹوں میں کم و بیش اور ایک تہائی ووٹوں کا اپنے حق میں اضافہ کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ اس مشق سے بچنے اور اگر اس نے پھر بھی دوبارہ گنتی شروع کرائی اور اس دوران ہمارے آبزرور وہاں نہیں رہے تو ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ یہ باتیں انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں وہ صدر اشرف غنی پر فراڈ کرنے کا الزام بھی لگا رہے ہیں جبکہ اشرف غنی اس سے انکار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر غنی کے حامی دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ عبداللہ عبداللہ دراصل خائف نظر آتے ہیں کیونکہ انہیں یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ ہار جائیں گے۔ اسی لئے وہ دوبارہ گنتی کرائے جانے کے سخت خلاف ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار اس بات کا اندیشہ ظاہر کررہے ہیں کہ دونوں فریقوں کی اس کشمکش کے نتیجہ میں ایک تعطل سا پیدا ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ خود انتخابات کے انعقاد میں کافی رکاوٹیں ڈالی گئی تھیں ۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو طالبان والے پیدا کررہے تھے۔ ان کے حملے پوری انتخابی مہم کے دوران جاری رہے اور الیکشن ریلیوں پر بھی حملے ہوتے رہے۔ حتی کہ بعض صدارتی امیدواروں پر بھی حملے ہوئے جن میں سے کچھ بال بال بچے اور بعض شدید طور پر زخمی ہوئے۔ الیکشن کمیشن سے وابستہ بعض افسران نے نام ظاہر نہ کئے جانے کی شرط پر بتایا ہے کہ ووٹوں کے ابتدائی مرحلے کی گنتی کے نتائج آنے میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے جو اسی ہفتہ کے اواخر میں آنے والے تھے۔ افغانستان میں ویسے بھی حالات انتہائی نا موافق رہے ہیں کیونکہ طالبان صلح صفائی اور حکومت سے بات چیت کرنے کی ہر پیشکش اور کوشش سے نہ صرف مسلسل انکار کرتے رہے بلکہ حملے بھی مسلسل کرتے رہے جس کے نتیجے میں نہ صرف سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور پولیس والے نشانہ بنتے رہے بلکہ عورتوں اور بچوں سمیت بہت سے سیویلین بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اب تک بات چیت کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا اور بعض حلقوں کو امید تھی کہ افغانستان میں امن کی راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔ گفتگو ایسے مرحلے میں بھی داخل ہوگئی تھی کہ امید کی جارہی تھی کہ کوئی سمجھوتہ بھی ہو جائے گا لیکن آخری لمحوں میں وہ پورا عمل بھی منسوخ کردیا گیا۔ اب سننے میں یہ آرہا ہے کہ چین کی طرف سے بھی ایک کوشش ہورہی ہے کہ امن کے کاز کو تقویت دینے کے لئے وہ ایسی بات چیت کا اہتمام کرے جس میں طالبان اور افغان حکومت کے نمائندے شریک ہوسکیں۔ اب یہ کوشش کتنی کامیاب ہوتی ہے، اس کے بارے میں صرف قیاس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ایسے میں خود آئین اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے اور خود حکومت میں شریک حلقے بھی آپس میں اتفاق رائے کو فروغ نہ دیں تو اس سے بڑی بدقسمتی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟


****

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ