موضوع: چین میں ایغور اور دوسری مسلم اقلیتوں کی حالت زار

ویسے تو ایک زمانے سے عالمی برادری اور عالمی میڈیا میں اس بات کا چرچہ ہے کہ چین کے صوبۂ شن جیانگ میں بڑے پیمانے پر ایغور مسلمانوں کو حراستی کیمپ میں رکھا جا رہا ہے اور نہ صرف ان کی مذہبی آزادی کو سلب کر لیا گیا ہے بلکہ ان کی برین واشنگ کرنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ان کیمپوں کے مکینوں کے انسانی حقوق بھی بے دردی سے پامال کئے جا رہے ہیں۔ یہ بات بھی سنی جاتی ہے کہ نہ صرف ایغور مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے بلکہ چین کے دوسرے علاقوں میں رہنے والی مسلم اقلیتوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ شن جیانگ کے ڈٹینشن کیمپس میں قریب قریب دس لاکھ افراد کو رکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی خلاف ورزی کا نوٹس نہ صرف اقوام متحدہ نے لیا ہے بلکہ متعدد ملکوں میں بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اور احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ بعض ملکوں نے تو چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کے رویہ پر بھی انگلی اٹھائی ہے کہ پاکستان ، ہندوستان کے ایک علاقے جموں و کشمیر کے نام پر تو خوب اشتعال انگیزی کرتا ہے اور ہندوستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتا ہے لیکن دوسری طرف چین کے صوبہ شن جیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کے سوال پر بالکل خاموش رہتا ہے۔ کم و بیش اسی طرح کا سوال خود چین سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف تو وہ یہ کہتا ہے کہ شن جیانگ میں وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ دہشت گردی، تشدد پسندی اور علیحدگی پسندی کو دبانے کے لئے کر رہا ہے نہ کہ انسانی حقوق کو کچل رہا ہے لیکن پاکستان میں دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے عالمی برادری یا عالمی ادارے کوئی موثر قدم اٹھاتے ہیں تو وہی چین پاکستان کی حمایت میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔ مثلاً ایک عرصہ تک وہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے کی ہر تجویز کو سبوتاز اور ویٹو کرتا رہا ۔ حالیہ مثال یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ پر روک لگانے کے لئے پاکستان پر موثر قدم اٹھانے کے لئے جو دباؤ پڑ رہا ہےاس میں چین پاکستان کا ہر معاملہ میں بچاؤ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

بہر حال جہاں تک ایغور مسلمانوں کی حالت زار کا سوال ہے تو بعض ایسی چونکانے والی باتیں چین کی ان فائلوں کے ریکارڈ سے سامنے آئی ہیں جو حال میں لیک ہوئی ہیں۔ تفصیل کے مطابق ہانگ کانگ سے کچھ طلباء نے شن جیانگ اپنے اہل خاندان سے ملنے کے لئے ٹکٹ بک کرائے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کے رشتہ دار اور پڑوسی سب کے سب اپنے گھروں پر موجود نہیں ہونگے۔ کیونکہ انہیں حراستی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان سب کا تعلق ایغور اور دوسری نسل کے چینی مسلمانوں سے ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق شن جیانگ سرکاری حکام نے مقامی افسران کو نوٹس جاری کر کے انہیں ہدایت دی ہے کہ جو طلبا واپس آئے ہیں انہیں ایک طرف لے جا کر خاموش رہنے کو کہیں ۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنے گھر والوں کے بارے میں کچھ پوچھیں تو انہیں بتایا جائے کہ وہ سرکاری ٹریننگ اسکول میں ہیں اور وہ کوئی مجرم نہیں ہیں لیکن فی الحال وہ وہاں سے واپس نہیں آ سکیں گے۔

چینی افسران نے جو اندرونی ہدایات جاری کی تھیں وہ 403 صفحات پر مشتمل ہیں اور ایک دستاویز کی شکل میں موجود ہیں۔ یہ دستاویز لیک ہو گئی ہے جس سے خوفناک صورتحال کا پتہ چلتا ہے۔ در اصل اتنی بڑی آبادی پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگا کر انہیں حراست میں رکھنا اور کسی سے ملنے جلنے تک کی اجازت نہ دینا سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ در اصل 2014 میں موجودہ صدر شی جن پنگ ایک بار شن جیانگ گئے تھے اور وہاں چار دن گذارے تھے۔ اسی وقت ایک یا دو انتہا پسند ایغور نے ٹرین اسٹیشن سے باہر خود کش بم پلانٹ کیا تھا جس کے تنیجہ میں 30 سے 31 افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے تھے ۔ ظاہر ہے یہ دہشت گردانہ حملہ تھا اور اس کی صرف مذمت ہی نہیں کی جانی چاہئے بلکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا بھی دی جانی چاہئے۔ ایسا اگر کوئی منظم گروپ ہو تو اس کی جڑوں کو بھی اکھاڑ پھینکنا قطعی جائز ہوگا لیکن اس کے لئے ایک اقلیتی نسلی فرقہ کو نشانہ بنانا اور 10 لاکھ انسانوں کو حراستی کیمپ میں رکھ کر انہیں اذیتیں دینا کھلم کھلا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔جو دستاویز لیک ہوئی ہے اس کی کاپی اخبار نیو یارک ٹائمز کے پاس بھی موجود ہے۔ اس صورت حال پر پاکستان کی مجرمانہ خاموشی بدترین ریاکاری کی مثال ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ