کرتارپور صاحب راہداری کا افتتاح
گزشتہ 9نومبر اس اعتبار سے ایک بڑا مبارک دن تھا کہ اسی دن کرتارپور صاحب کاریڈور کا افتتاح ہوا۔ یہ مبارک کام اس وقت انجام پایا جب سکھ مت کے بانی باباگرونانک دیو کا 550 واں جشن ولادت منایا جانے والا تھا۔ اور آج یہ جشن بڑے دھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔ انفرادی سطح پر بھی بہت سے لوگ اس مقدس موقع پر گرونانک دیو کا جشن پیدائش منا رہے ہیں۔ برصغیر کے اردو کے ممتاز شاعر علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم ‘‘ہندوستانی بچوں کا قومی گیت’’ میں ہندوستان کی عظمت کا گیت گاتے ہوئے ایک شعر میں کہا تھا۔
چشتی نے جس زمین پر پیغام حق سنایا نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
یہ انہی بابا نانک کا ذکر ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد جب ہندوستان اور پاکستان دو آزاد اور خودمختار ملک وجود میں آئے تو یہ بھی ہوا کہ ان دونوں کے درمیان زمین ہی نہیں بنٹی بلکہ مختلف عبادت گاہیں اور مقدس مذہبی مقامات بھی بٹ گئے۔ انہی میں کرتارپور صاحب کا وہ تاریخی گرودوارہ دربار صاحب بھی ہے جو پاکستانی پنجاب میں واقع ہے لیکن اب اسی سے چند میل کی دوری پر ڈیرا بابا نانک ہے جو ہندوستانی پنجاب کے ضلع گرداس پور میں واقع ہے۔ 9نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے اس راہداری کے ہندوستانی حصے کا افتتاح کیا جبکہ پاکستانی باب کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے کیا۔ 9نومبر ہی کو وزیراعظم نریندر مودی نے 600 سکھ عقیدتمندوں کو اس راہداری کے ذریعے گرودوارہ دربارپور صاحب کے لئے رخصت کیا۔ اس راہداری کے ذریعے ہندوستانی یاتری ویزا کے بغیر دربار صاحب جاسکیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم مودی نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا اس بات کے لئے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہندوستان اور اس کے عوام کے جذبات کو سمجھتے ہوئے کرتارپور کے لئے ویزا کے بغیر آمدورفت کے لئے راہ ہمواری کی۔ انہوں نے پاکستان کے ان مراکز کی بھی ستائش کی جنہوں نے محنت کی اور راہداری کے پاکستانی باب کو ریکارڈ وقت میں تعمیر کیا۔ وزیراعظم نے افتتاح کے موقع پر دیوار برلن کے گرائے جانے کے واقعے کو بھی یاد کیا کہ اتفاق سے 9نومبر ہی کی تاریخ تھی جب برلن کی دیواری ڈھائی گئی تھی اور جرمنی کے دونوں حصے پھر سے ایک ہوگئے تھے۔ ہم فی الحال اس بات کی تو امید نہیں کرسکتے کہ ہندوستان او رپاکستان کے درمیان کی سرحدیں ٹوٹ جائیں اور دونوں ملک پھر ایک ہوجائیں۔لیکن یہ توقع کرنا بے جا نہ ہوگا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے ہوجائیں۔ وزیراعظم نے جب دیوار برلن گرنے کا ذکر کیا تو دراصل یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے کروڑوں امن پسند شہریوں کے دل کی آواز تھی جو ایک عرصہ سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کاش تلخیاں اور کشیدگی کا ماحول کبھی ختم ہو اور سرحدوں پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا سلسلہ رکے۔ دراندازی اور دہشت گردی کا ماحول ختم ہو اور اچھی ہمسائیگی کا سلسلہ فروغ پائے۔ بابا گرونانک دیو کے جشن پیدائش اور کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر امن پسند عوام کی دلی خواہش ہے کہ مطلع صاف ہو اور اچھے تعلقات کے آسمان پر امیدوں کے روشن ستارے جگمگائیں۔
بدقسمتی سے بعض عوامل کے باعث ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اکثر تلخی اور کشیدگی کا ماحول رہتا ہے۔ سرحدوں پر اکثر فائرنگ بھی ہوا کرتی ہے جس کی زد میں سپاہی بھی آتے ہیں اور سرحدوں کے آس پاس رہنے والے عام شہری بھی۔ یہ کوئی ایسی انہونی بات تو نہ ہوگی اگریہ سلسلہ بند ہوجائے۔ دونوں ملک کم از کم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ سیزفائر کے لئے کسی قسم کا سمجھوتہ یا مفاہمت کرلیں کہ یہ سلسلہ ختم ہوسکے اور نسبتاً امن کا ماحول قائم ہو۔ 2003 میں ایک ایسی مفاہمت ہوئی بھی تھی جس کے باعث کم وبیش ایک دہائی تک سرحدوں پر امن رہا اور سرحدوں پر رہنے والے دونوں طرف کے لوگ چین کی نیند سورہے تھے۔ ہم آج کشیدگی اور تلخیوں کا ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امن کی باتیں کی جائیں۔ اگر ان پالیسیوں کو ترک کیاجائے جوکشیدگی کے ماحول کو ہوا دیتی ہیں تو امن کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کرتارپور صاحب کوریڈیور کا افتتا ح کرتے ہوئے یہی پیغام دینے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے تو اس وقت بھی اسی جذبے کا اظہار کیا تھا جب انہوں نے اچانک کسی پروگرام کے بغیر افغانستان سے واپس آتے وقت لاہور کا دورہ کیا تھا اور نہ صرف اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی بلکہ ان کے گھر جاکر ان کی نواسی کی شادی سے متعلق ایک تقریب میں بھی شرکت کی تھی لیکن اس کے کم وبیش ایک ہفتہ بعد ہی پٹھان کوٹ ایئربیس پر جیش محمد کے دہشت گردوں نے تخریب کارانہ کارروائی کی تھی۔ کیوں نہ کرتارپور صاحب راہداری کی تعمیر اور اس کے افتتاح جیسی سرگرمیوں کے موقع تلاش کئے جائیں؟
چشتی نے جس زمین پر پیغام حق سنایا نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
یہ انہی بابا نانک کا ذکر ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد جب ہندوستان اور پاکستان دو آزاد اور خودمختار ملک وجود میں آئے تو یہ بھی ہوا کہ ان دونوں کے درمیان زمین ہی نہیں بنٹی بلکہ مختلف عبادت گاہیں اور مقدس مذہبی مقامات بھی بٹ گئے۔ انہی میں کرتارپور صاحب کا وہ تاریخی گرودوارہ دربار صاحب بھی ہے جو پاکستانی پنجاب میں واقع ہے لیکن اب اسی سے چند میل کی دوری پر ڈیرا بابا نانک ہے جو ہندوستانی پنجاب کے ضلع گرداس پور میں واقع ہے۔ 9نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے اس راہداری کے ہندوستانی حصے کا افتتاح کیا جبکہ پاکستانی باب کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے کیا۔ 9نومبر ہی کو وزیراعظم نریندر مودی نے 600 سکھ عقیدتمندوں کو اس راہداری کے ذریعے گرودوارہ دربارپور صاحب کے لئے رخصت کیا۔ اس راہداری کے ذریعے ہندوستانی یاتری ویزا کے بغیر دربار صاحب جاسکیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم مودی نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا اس بات کے لئے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہندوستان اور اس کے عوام کے جذبات کو سمجھتے ہوئے کرتارپور کے لئے ویزا کے بغیر آمدورفت کے لئے راہ ہمواری کی۔ انہوں نے پاکستان کے ان مراکز کی بھی ستائش کی جنہوں نے محنت کی اور راہداری کے پاکستانی باب کو ریکارڈ وقت میں تعمیر کیا۔ وزیراعظم نے افتتاح کے موقع پر دیوار برلن کے گرائے جانے کے واقعے کو بھی یاد کیا کہ اتفاق سے 9نومبر ہی کی تاریخ تھی جب برلن کی دیواری ڈھائی گئی تھی اور جرمنی کے دونوں حصے پھر سے ایک ہوگئے تھے۔ ہم فی الحال اس بات کی تو امید نہیں کرسکتے کہ ہندوستان او رپاکستان کے درمیان کی سرحدیں ٹوٹ جائیں اور دونوں ملک پھر ایک ہوجائیں۔لیکن یہ توقع کرنا بے جا نہ ہوگا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے ہوجائیں۔ وزیراعظم نے جب دیوار برلن گرنے کا ذکر کیا تو دراصل یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے کروڑوں امن پسند شہریوں کے دل کی آواز تھی جو ایک عرصہ سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کاش تلخیاں اور کشیدگی کا ماحول کبھی ختم ہو اور سرحدوں پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا سلسلہ رکے۔ دراندازی اور دہشت گردی کا ماحول ختم ہو اور اچھی ہمسائیگی کا سلسلہ فروغ پائے۔ بابا گرونانک دیو کے جشن پیدائش اور کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر امن پسند عوام کی دلی خواہش ہے کہ مطلع صاف ہو اور اچھے تعلقات کے آسمان پر امیدوں کے روشن ستارے جگمگائیں۔
بدقسمتی سے بعض عوامل کے باعث ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اکثر تلخی اور کشیدگی کا ماحول رہتا ہے۔ سرحدوں پر اکثر فائرنگ بھی ہوا کرتی ہے جس کی زد میں سپاہی بھی آتے ہیں اور سرحدوں کے آس پاس رہنے والے عام شہری بھی۔ یہ کوئی ایسی انہونی بات تو نہ ہوگی اگریہ سلسلہ بند ہوجائے۔ دونوں ملک کم از کم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ سیزفائر کے لئے کسی قسم کا سمجھوتہ یا مفاہمت کرلیں کہ یہ سلسلہ ختم ہوسکے اور نسبتاً امن کا ماحول قائم ہو۔ 2003 میں ایک ایسی مفاہمت ہوئی بھی تھی جس کے باعث کم وبیش ایک دہائی تک سرحدوں پر امن رہا اور سرحدوں پر رہنے والے دونوں طرف کے لوگ چین کی نیند سورہے تھے۔ ہم آج کشیدگی اور تلخیوں کا ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امن کی باتیں کی جائیں۔ اگر ان پالیسیوں کو ترک کیاجائے جوکشیدگی کے ماحول کو ہوا دیتی ہیں تو امن کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کرتارپور صاحب کوریڈیور کا افتتا ح کرتے ہوئے یہی پیغام دینے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے تو اس وقت بھی اسی جذبے کا اظہار کیا تھا جب انہوں نے اچانک کسی پروگرام کے بغیر افغانستان سے واپس آتے وقت لاہور کا دورہ کیا تھا اور نہ صرف اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی بلکہ ان کے گھر جاکر ان کی نواسی کی شادی سے متعلق ایک تقریب میں بھی شرکت کی تھی لیکن اس کے کم وبیش ایک ہفتہ بعد ہی پٹھان کوٹ ایئربیس پر جیش محمد کے دہشت گردوں نے تخریب کارانہ کارروائی کی تھی۔ کیوں نہ کرتارپور صاحب راہداری کی تعمیر اور اس کے افتتاح جیسی سرگرمیوں کے موقع تلاش کئے جائیں؟
Comments
Post a Comment