چین- پاکستان اقتصادی راہداری کی کامیابی اور کار کردگی پر اٹھتے سوال

چین -پاکستان اقتصادی راہداری کا پروجیکٹ بلا شبہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے جس پر چین نے پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور کر رہا ہے۔ پاکستان میں اس پروجیکٹ کےتعلق سے جو امیدیں جگائی گئی ہیں ،اس کے بارے میں البتہ سنجیدہ حلقوں میں طرح طرح کےسوال پیدا ہو رہے ہیں۔ ان سنجیدہ حلقوں میں خود پاکستان کے بعض ماہرین اقتصادیات ،سیاست داں اور پروجیکٹ کے ٹکنیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر نظر رکھنے والے افراد نیز بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات اور تجزیہ کار بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے بہت بڑے سیاسی حلقے اور حکومت کی طرف سے اتنی زیادہ امیدیں بڑھائی گئی ہیں کہ ان میں مبالغہ آرائی زیادہ نظر آنے لگی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ پروجیکٹ اپنی کارکردگی اور ہمہ گیریت کے باعث پاکستان کی اقتصادی طور پر کایا پلٹ کر رکھ دے گا اور ہر طرف خوشحالی نظرا ٓئے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے بڑی بات او رکیا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی جو موجودہ اقتصادی صورت حال ہے وہ حد درجہ تشویشناک ہے اور ایسے میں ایک حلقے نے اگر اقتصادی راہداری کے تعلق سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں تو یہ ایک قدرتی امر ہے۔ لیکن اس پروجیکٹ کے حوالے سے کچھ شکوک و شبہات خود پاکستان میں پہلے ہی سے موجود ہیں۔ ایک شکایت تو یہی رہی ہے کہ چین کا اپنا مفاد زیادہ ہے، پاکستان کا کم۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ وہ زیادہ تر گھاٹے میں رہتی ہیں۔ خود موجودہ وزیر اعظم عمران خان اس پروجیکٹ کے زبر دست مخالفین میں شامل تھے اور ایک بار تو ان کی پارٹی نے بہت بڑے احتجاج کا پروگرام بھی بنایا تھا لیکن اس وقت وہ اپوزیشن کے فائر برانڈ لیڈر مانے جاتے تھے ۔ پاکستان کے بعض حلقوں نے اس اقتصادی راہداری کے پروجیکٹ کو نئی ایسٹ انڈیا کمپنی سے بھی تعبیر کیا تھا۔

چین- پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کے مضمرات بین لاقوامی پیمانے پر بھی محسوس کئے جائیں گے۔ در اصل یہ چین کےا س ہمہ گیر پروجیکٹ کا حصہ ہے جسے وہ بیلٹ اینڈ روڈ اینیشیٹیوکے طور پر فروغ دے رہا ہے ۔ اس لئے بین الاقوامی پیمانے پر بھی اس کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ امریکہ کی اعلیٰ سفارت کاربرائے جنوب وسطی ایشیا الیس ویلس نے حالیہ دنوں میں اس پروجیکٹ کی زبر دست تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کا یہ ترقیاتی پروجیکٹ بنیادی مقاصد پورا نہیں کررہا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے امریکہ کے ایک پرائیویٹ سیکٹر کی کار کردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تجارتی پروجیکٹ نے بین الاقوامی پیمانے پر ترقی کا ایک ایسا نمونہ پیش کیا جو بہترین قوانین اور ضابطے وضع کرنے میں اپنی مثال آپ ثابت ہوا ۔ اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ خود چین اور اس کے عوام نے اٹھایا تھا۔ یہ باتیں انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں واقع ایک تھنک ٹینک ولسن سینٹر میں کہیں۔ الیس ویلس کے مطابق جب امریکی ، یوروپی اور جاپانی کمپنیوں نے چین میں اپنا کاروبار شروع کیا تو سب سے زیادہ فائدہ چین ہی کو ہوا تھا۔یہ 1978 کا زمانہ تھا جب ڈینگ زیاو پینگ نے اپنے یہاں آزاد مارکیٹ کا دروازہ کھولا تھا لیکن ستم ظریفی کی بات ہے کہ اسی چین نے پاکستان میں وہ پیمانہ استعمال نہیں کیا۔ اس نے پاکستانی نوجوانوں کو ویسا فائدہ نہیں پہنچایا اور نہ ہی پاکستانی کمپنیوں کو وہ مواقع دیئے جیسے مواقع چین کے لوگوں نے دہائیوں پہلے خود حاصل کئے تھے ۔الیس ویلس کے مطابق یہ ایک بڑی وجہ ہے جس کے باعث چین اور پاکستان کے تجارتی تعلقات میں عدم توازن پیدا ہوا۔ انہوں نے چین- پاکستان اقتصادی راہداری کے پروجیکٹ کو پاکستان کے لئے تو ایک گھاٹے کا سودا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروجیکٹ میں شفافیت نہیں ہے۔ پاکستان پر قرض کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی نہیں فراہم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ اینشییٹیویعنی بی آر آئی کا تجربہ کوئی اچھا تجربہ نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے تحت چین مالیہ تو فراہم کر رہا ہے لیکن عام طور سے قرض کی شکل میں وہ ایساکر رہا ہے اور اس میں بھی شفافیت نظرنہیں آتی۔حالانکہ قرض بانٹنے میں چین بہت آگے ہے لیکن اسکے بارے میں تفصیل نہیں بتاتا۔ ایسا کر کے چین ان ملکوں کے اندیشوں کو بڑھا رہا ہے جنہوں نے اپنے ترقیاتی پرجیکٹوں کے لئے اس سے قرض لے رکھے ہیں۔ میڈم ویلس نے اس ضمن میں سری لنکا کے ایک پورٹ اور مالدیپ کے ایک رن وے کے پروجیکٹ کا ذکر بطور مثال پیش کیا ہے۔ ان پروجیکٹوں کے لئے چین سے لیا گیا قرض ان ملکوں کے لئے درد سر بن کر رہ گیا ہے غرضکہ ایلس ویلس نے جن باتوں کی نشاندہی یہاں کی ہے عین انہی باتوں پر پاکستان کے سنجیدہ حلقے پہلے ہی سے اندیشے ظاہر کر تے رہے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ