موضوع: کالا پانی کامسئلہ
ریاست جموں وکشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرکے ہندوستان نے ایک نیانقشہ جاری کیا۔ اس نقشہ کے اجراء کے بعد ہمالیائی علاقہ میں ریاست اتراکھنڈ کے پتھوراگڑھ ضلع میں ہندوستان، نیپال اور چین کے تراہے پر واقع کالاپانی علاقہ پر کنٹرول کا تنازعہ ایک بار پھر ابھرکر سامنے آیاہے۔نیپال کادعوی ہے کہ کالاپانی کاایک حصہ اور اس سے ملحقہ علاقے اس کے ہیں جب کہ نئی دہلی نے نئے نقشہ میں انہیں اپنا علاقہ بتایا ہے۔
کالا پانی کا تنازعہ کافی پرانا ہے۔ یہ اس وقت سے چلا آرہا ہے جب 1816 میں نیپال کے راجہ اور اس وقت کے برطانوی ہندوستان کے درمیان تاریخی سگولی (Sagauli) معاہدہ ہو ا تھا۔ معاہدے میں مہاکالی ندی کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک باؤنڈری قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ندی کہاں سے نکلتی ہے یا یہ کہ اس کی شاخوں میں سے کون سی شاخ اصل مہاکالی ندی ہے۔ لیکن بعد میں سروئیر جنرل آف برٹش انڈیا کی جانب سے جو نقشہ جاری کیا گیا اس میں بڑے واضح طورپرکالاپانی، لیپو لیکھ (Lipu Lekh) اور لمپیا دھرا (Limpiyadhura )علاقوں کو ہندوستانی علاقے بتائے گئے جب کہ نیپال مہاکالی ندی کے نقطۂ آغاز سے اختلاف کرتے ہوئے ان علاقوں پر اپنا دعوی پیش کرتا ہے۔ کٹھمنڈو کا دعوی ہے کہ اس کے مغربی دارچلا (Darchula) ضلع میں واقع کالاپانی کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے۔
ہندوستان نے اپنا نیا نقشہ اس سال 2 نومبر کو جاری کیا تھا۔ اس کے اجراء کے بعد سے ہی نیپال کی راجدھانی کٹھمنڈو میں اس کے خلاف چھٹ پٹ مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور اس کی ترمیم کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ کالاپانی نیپال کا ایک حصہ ہے۔ اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ہندوستان کی جانب سے جاری کیے گئے نئے نقشہ میں ہندوستان کے خود مختار علاقے کو دکھایا گیا ہے اور اس میں نیپال کے ساتھ اپنی سرحد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے اس مسئلہ پر ایک کل پارٹی میٹنگ طلب کی جس میں حکومت نیپال سے کہا گیا ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کا ستعمال کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ اس تنازعہ کے حل کے لیے مؤثر قدم اٹھائے۔ میٹنگ میں جناب اولی نے زور دے کر کہا کہ نیپال اپنے علاقہ کی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دے گا تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ہندوستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔2015 میں وزیراعظم نریندرمودی کے بیجنگ دورے کے دوران لیپو لیکھ درے کی ترقی کے لیے چین اور ہندوستان کے درمیان جو سمجھوتہ ہوا اس پر بھی نیپال نے اسی طرح کا اعتراض کیا تھا۔ اس درہ سے مانسروور جانے کا راستہ کافی مختصر ہوجاتا ہے جو ہندوؤں کے لیے ایک مقدس مقام ہے۔ نیپال اس پر بھی اپنا دعوی پیش کرتا ہے۔ اس وقت بہت زیادہ کچھ نہیں ہوا اور ہندوستانی سیکورٹی فورسز علاقہ پر اپنا کنٹرول بنائے ہوئے ہیں۔
ہندوستان اور نیپال دونوں دوستانہ تعلقات کے جذبہ کے تحت اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہتے ہیں۔نئی دہلی نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ میکنزم کے ذریعہ سرحد کی خاکہ نگاری ایک ایسا عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ اور یہ عمل اس طرح کے تمام مسائل کاحل تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس نے نیپال سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ ایسے مفاد پرست عناصر سے ہوشیار رہے جو 2 دوست ملکوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
گھریلو مجبوریوں، انتہاپسندانہ قوم پرستی اور نیپال کے معاملات میں خارجی مفادات کے باعث شاید نیپال ہندوستان کے ساتھ ان مسائل کو زندہ رکھنا چاہتا ہے جب کہ دونوں ملکوں کی قیادت تمام مسائل کو خوشگوار ماحول میں بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہتی ہے۔ کالا پانی مسئلہ پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان شروعاتی بات چیت کا عمل جاری ہے۔
ہندوستان میں نیپال کے سفیر نیلامبر آچاریہ نے حال ہی میں نئی دہلی میں خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے سے ملاقات کی اور اس معاملہ پر تبادلہ خیال کیا۔ نیپال نے اس مسئلہ پر خارجہ سکریٹری سطح کی میٹنگ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نیپال نے کالاپانی کے تاریخی حقائق کا پتہ لگانے کے لیے ایک ٹاسک فورس کی بھی تشکیل کی ہے۔وزرائے خارجہ سطح کے ہند-نیپال مشترکہ کمیشن نے اگست کے مہینہ میں کٹھمنڈو میں اپنی پانچویں میٹنگ کی اور دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کالاپانی کا معاملہ ہندوستان اور نیپال دونوں کے لیے کافی حساس ہے۔ لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ دونوں ملکوں کی سرحد کے جائزے سے متعلق ٹیمیں کام پر لگی ہوئی ہیں اور امید ہے کہ مسئلہ کو مخلصانہ طور پر جلد حل کرلیا جائے گا۔
Comments
Post a Comment