موضوع : پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کی کردار کشی غالب نے کہا تھا!
لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے ،دہن بگڑا
یہ شعر آج کی پاکستانی سیاست کو سمجھنے کے لئے کافی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اخلاقی گراوٹ کا طوفان آیا ہوا ہے ۔ عمران خان کی حکومت حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف نہ صرف نازیبا حملے کر رہی ہے ، بلکہ سوشل میڈیا کا سہارا لے کر کردار کشی کی کوششیں مسلسل تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور مریم نواز شریف کے خلاف تازہ مقدمے کے اندراج کے بعد پاکستان میں کئی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے خلاف کس حد تک جا سکتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں حزب اختلاف کے لیے سختیاں بڑھیں گی اور پھر یہ حزب اختلاف کا امتحان ہوگا کہ وہ ان سختیوں کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں۔ پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کی کردار کشی کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے۔
اس کشیدہ صورت حال نے ملک کی جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو تار تار کر دیا ہے ۔ سماجی و سیاسی طبقہ کو گالیاں دینے کا کام 14 اگست 1947 کو خان عبدالغفار خان، ان کے خاندان اور جماعت کی کردار کشی سے شروع ہو گیا تھا اور وقت کے ساتھ رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان ذاتیات پر حملے کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کو حاشیے پر ڈالنے کا کھیل بھی کھیل رہے ہیں ۔ اب کردار کشی کے کھیل کا یہ سلسلہ بینظیر بھٹو کے داماد محمود چودھری کو قادیانی بنانے تک آن پہنچا ہے۔ ایسے تمام لوگ جو حکومت کی ناکامیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ، ان کو بلکہ ان کے اہلِ خانہ حتی کہ بیٹیوں تک کو گالیاں دینا حکومت کے نزدیک فیشن بن چکا ہے۔ پرانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کی شروعات فاطمہ جناح سے ہوئی۔ جناح کو پاکستان میں قائد اعظم کا درجہ حاصل ہے۔ یہ کسی بھی ملک کی تہذیب کے خلاف ہے کہ قائداعظم کی بہن کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے ۔ فاطمہ جناح اپنے بھائی محمد علی جناح کے قتلِ عمد کی چشم دید گواہ تھیں اور انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی ۔ کتاب کے شائع ہونے کے بعد ان پر سیاسی حملے شروع ہو گئے اور بات دشنام طرازی تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح بیگم رعنا لیاقت علی خان سمیت بھٹو اور شریف خاندان پر بھی سیاسی حملے تیز ہوئے اور مسلسل حزب اختلاف کے رہنماؤں کی کردار کشی کی کوششیں جاری رہیں ۔ حد اس وقت ہو گئی جب ملتان میں بختاور بھٹو کی منگنی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عمران حکومت نےبلاول بھٹو اور مریم نواز کے خلاف بھی مہم شروع کر رکھی ہے جو اخلاقی دیوالیہ پن کی بھدی مثال ہے ۔
پاکستان کا سوشل میڈیا اس معاملے میں سب سے آگے ہے ۔ جلا وطن سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور سینئر صحافی گُل بُخاری نے جب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تو کچھ دیر کے لئے یہ سلسلہ ملتوی ہوا ۔ مریم نواز کی کردار کشی روک دی گئی بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے مریم مخالف ٹرینڈ پینل سے غائب ہو گیا ۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دور میں مخالفین کے خلاف اقدامات کئے گئے اور ان کو مختلف عہدوں سے بر طرف کیا گیا۔ ایوب خان کے دور میں مخالفین کے خلاف اقدامات میں سختی دیکھنے میں آئی جب کئی سیاسی کارکنوں کو لاہور کے شاہی قلعے میں قید کیا گیا۔
تاریخ پر نظرڈالیں تو سقوطِ ڈھاکہ کے پیچھے ہزاروں خواتین کی عصمت دری اور تیس لاکھ بنگالیوں کی نسل کُشی کار فرما تھی لیکن نشانہ کوئی اور بنا ۔ اس وقت ذو الفقار علی بھٹو پر نشانہ سادھا گیا ۔ان کے مرنے کے بعد بے نظیربھٹوکو نشانہ بنایا گیا ۔ محترمہ بے نظیر کے قتل کے بعد بھی سیاست تیز رہی ۔ ان کی جعلی تصاویر تیار کی گئیں اور موت کے بعد بھی ان کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ بختاور بھٹو سے مریم نواز تک اور گل بخاری سے لیکر گلالئی اسماعیل تک سیاسی حملے جاری ہیں۔ یعنی ایسے ٹرینڈز حزب اختلاف کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران حکومت کس حد تک اخلاقیات کا جنازہ نکال چکی ہے ۔ ایسے سیاسی حملے شرمناک بھی ہیں اور ملک کی جمہوریت کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ان تمام عوامل سے یہ ضرورپتہ چلتا ہے کہ اگر نام نہاد جمہوری حکومت اور فوج ایک ہی صف میں، ایک ہی پیج پر موجود ہوں تو اسٹیبلشمنٹ اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لئے کس حد تک جا سکتی ہے۔
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے ،دہن بگڑا
یہ شعر آج کی پاکستانی سیاست کو سمجھنے کے لئے کافی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اخلاقی گراوٹ کا طوفان آیا ہوا ہے ۔ عمران خان کی حکومت حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف نہ صرف نازیبا حملے کر رہی ہے ، بلکہ سوشل میڈیا کا سہارا لے کر کردار کشی کی کوششیں مسلسل تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور مریم نواز شریف کے خلاف تازہ مقدمے کے اندراج کے بعد پاکستان میں کئی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے خلاف کس حد تک جا سکتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں حزب اختلاف کے لیے سختیاں بڑھیں گی اور پھر یہ حزب اختلاف کا امتحان ہوگا کہ وہ ان سختیوں کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں۔ پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کی کردار کشی کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے۔
اس کشیدہ صورت حال نے ملک کی جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو تار تار کر دیا ہے ۔ سماجی و سیاسی طبقہ کو گالیاں دینے کا کام 14 اگست 1947 کو خان عبدالغفار خان، ان کے خاندان اور جماعت کی کردار کشی سے شروع ہو گیا تھا اور وقت کے ساتھ رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان ذاتیات پر حملے کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کو حاشیے پر ڈالنے کا کھیل بھی کھیل رہے ہیں ۔ اب کردار کشی کے کھیل کا یہ سلسلہ بینظیر بھٹو کے داماد محمود چودھری کو قادیانی بنانے تک آن پہنچا ہے۔ ایسے تمام لوگ جو حکومت کی ناکامیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ، ان کو بلکہ ان کے اہلِ خانہ حتی کہ بیٹیوں تک کو گالیاں دینا حکومت کے نزدیک فیشن بن چکا ہے۔ پرانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کی شروعات فاطمہ جناح سے ہوئی۔ جناح کو پاکستان میں قائد اعظم کا درجہ حاصل ہے۔ یہ کسی بھی ملک کی تہذیب کے خلاف ہے کہ قائداعظم کی بہن کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے ۔ فاطمہ جناح اپنے بھائی محمد علی جناح کے قتلِ عمد کی چشم دید گواہ تھیں اور انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی ۔ کتاب کے شائع ہونے کے بعد ان پر سیاسی حملے شروع ہو گئے اور بات دشنام طرازی تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح بیگم رعنا لیاقت علی خان سمیت بھٹو اور شریف خاندان پر بھی سیاسی حملے تیز ہوئے اور مسلسل حزب اختلاف کے رہنماؤں کی کردار کشی کی کوششیں جاری رہیں ۔ حد اس وقت ہو گئی جب ملتان میں بختاور بھٹو کی منگنی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عمران حکومت نےبلاول بھٹو اور مریم نواز کے خلاف بھی مہم شروع کر رکھی ہے جو اخلاقی دیوالیہ پن کی بھدی مثال ہے ۔
پاکستان کا سوشل میڈیا اس معاملے میں سب سے آگے ہے ۔ جلا وطن سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور سینئر صحافی گُل بُخاری نے جب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تو کچھ دیر کے لئے یہ سلسلہ ملتوی ہوا ۔ مریم نواز کی کردار کشی روک دی گئی بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے مریم مخالف ٹرینڈ پینل سے غائب ہو گیا ۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دور میں مخالفین کے خلاف اقدامات کئے گئے اور ان کو مختلف عہدوں سے بر طرف کیا گیا۔ ایوب خان کے دور میں مخالفین کے خلاف اقدامات میں سختی دیکھنے میں آئی جب کئی سیاسی کارکنوں کو لاہور کے شاہی قلعے میں قید کیا گیا۔
تاریخ پر نظرڈالیں تو سقوطِ ڈھاکہ کے پیچھے ہزاروں خواتین کی عصمت دری اور تیس لاکھ بنگالیوں کی نسل کُشی کار فرما تھی لیکن نشانہ کوئی اور بنا ۔ اس وقت ذو الفقار علی بھٹو پر نشانہ سادھا گیا ۔ان کے مرنے کے بعد بے نظیربھٹوکو نشانہ بنایا گیا ۔ محترمہ بے نظیر کے قتل کے بعد بھی سیاست تیز رہی ۔ ان کی جعلی تصاویر تیار کی گئیں اور موت کے بعد بھی ان کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ بختاور بھٹو سے مریم نواز تک اور گل بخاری سے لیکر گلالئی اسماعیل تک سیاسی حملے جاری ہیں۔ یعنی ایسے ٹرینڈز حزب اختلاف کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران حکومت کس حد تک اخلاقیات کا جنازہ نکال چکی ہے ۔ ایسے سیاسی حملے شرمناک بھی ہیں اور ملک کی جمہوریت کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ان تمام عوامل سے یہ ضرورپتہ چلتا ہے کہ اگر نام نہاد جمہوری حکومت اور فوج ایک ہی صف میں، ایک ہی پیج پر موجود ہوں تو اسٹیبلشمنٹ اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لئے کس حد تک جا سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment