طالبان کی ٹیم پاکستان پہنچی، حکومت پاکستان سے قیام امن سے متعلق بات چیت
دوحہ میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کا سلسلہ تو چل رہا ہے لیکن اندرون افغانستان بین افغان مذاکرات کے تعلق سے کنفیوژن کا ماحول برقرار ہے۔ ہفتہ دس روز پہلے یہ بات سننے میں آئی تھی کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے ایجنڈے پر اتفاق رائے ہوا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ سیز فائر جیسے اہم معاملے پر بھی بات چیت ہوگی۔ اس بات کا خاصا چرچہ بھی تھا اور امریکی وزیر خارجہ تک نے افغانستان کے دونوں فریقوں کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ امید ظاہر کی تھی کہ افغانستان میں پائیدار نوعیت کے قیام امن کی راہیں ہموار ہوں گی۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا تھا۔ بہرحال اس بات کا چرچہ تو ہواتھا اور امیدیں بھی پیدا ہوئی تھیں لیکن افغانستان کی اندرونی صورت حال میں کسی بھی خوشگوار تبدیلی کے آثار نہیں نظر آے، بلکہ اس کے برعکس تشدد کے واقعات کے باعث تشویش اور زیادہ بڑھ گئی۔ اعلی سرکاری حکام اور سکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکار نشانہ بند ہلاکتوں کے زد میں آرہے ہیں۔ دو ہی تین روز قبل کی بات ہے کہ عین کابل میں صوبۂ کابل کے ایک ڈپٹی گورنر اور ان کے ایک معاون بم کے ذریعہ ہلاک کردیے گئے۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق ڈپٹی گورنر محبوب اللہ محبی جب اپنے دفتر جارہے تھے تو ان کی ہی گاڑی میں نصب کیے گئے ایک بم کے دھماکے سے یہ سانحہ پیش آیا۔ ان کے ساتھ ہی ان کے سکریٹری کے جسم کے بھی پرخچے اڑگئے جب کہ دو باڈی گارڈ شدید طور پر زخمی ہوئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب سے طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے تشدد کے واقعات اور بڑھ گئے ہیں اور کابل اور اس کے آس پاس کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ڈپٹی گورنر کی ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد ہی صوبۂ غور میں صوبائی کونسل کے ڈپٹی چیف عبدالرحمان بھی ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے۔ پورے افغانستان میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور گھات لگاکر اہم شخصیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ صحافی، مذہبی رہنما، سیاستداں اور انسانی حقوق کے کاز سے جڑے کارکن بطور خاص نشانے پر ہیں۔ افغانستان کے نہ صرف امن پسند حلقے بلکہ عام شہری بھی ہر طرف آواز اٹھارہے ہیں کہ تشدد کا سلسلہ بند ہونا چاہیے لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ہر طرف یہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ طالبان جو مذاکرات میں ایک اہم فریق ہیں وہ تشدد کے واقعات کو روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو افغانستان کے اندر یہ صورت حال ایسے وقت میں نظر نہیں آتی جب امن مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہو۔
تشدد اور نا امیدی کے اسی ماحول میں اسلام آباد سے یہ خبر بھی موصول ہوئی کہ افغان طالبان کی ایک اعلی سطحی ٹیم طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں پاکستان پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ بدھ کو اس ٹیم اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں بات چیت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں جلد از جلد قیام امن کا خواہاں ہے اور وہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرے گا کہ بات چیت کامیابی سے ہمکنار ہو اور فریقین بات چیت کے ذریعہ ہی کوئی حل تلاش کریں۔ دوسری طرف طالبان کی ٹیم نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے بات چیت کرنے کے لیے راہ ہموار کی۔ یاد رہے کہ طالبان کی یہ ٹیم جسے ُطالبان پولیٹیکل کمیشن’ کا نام دیا گیا ہے، وہ اپنے تین روزہ دورے پر پاکستان آئی ہوئی ہے اور اس دوران وہ وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بھی ملاقات کرے گی۔ طالبان پولیٹیکل کمیشن یا ٹی پی سی کا یہ دوسرا دورۂ پاکستان ہے۔ اس سے پہلے یہ ٹیم اس سال اگست کے مہینہ میں آئی تھی۔
مشہور خبررساں ایجنسی اے پی کی ایک رپورٹ کی مطابق عبدالغنی برادر اور ان کے ڈیلی گیشن کو اسلام آباد نے قطر سے بلایا تھا۔ خبررساں ایجنسی نے یہ بھی بتایا ہے کہ مذاکرات سے وابستہ ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے۔
بہر حال پاکستان اور طالبان کے روابط پر گہری نظر رکھنے والے شاہدین اور مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان صحیح معنوں میں مذاکرات کو ایسے خطوط پر چلانا چاہتے ہیں جو پاکستان کے ارادوں اور منشا سے مطابقت رکھتے ہوں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے فوجیں واپس بلانے کے فیصلے سے پاکستان اور طالبان کی راہیں ہموار ہوگئی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان اچھی طرح جانتا ہے کہ افغان حکومت تشدد پسند طالبان کا لمبے عرصہ تک مقابلہ نہیں کرپائے گی۔ آثار یہی بتاتے ہیں کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہوا بھی تو طالبان کا پلہ بھاری ہوگا۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ کے آنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ صورت حال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی واقع ہو۔ بہر حال اگلے چند ماہ کے اندر ہی اندازہ ہوسکےگا کہ ہوا کا رخ کیا ہے!
Comments
Post a Comment