پاکستان مذہبی تعصب اور تنگ نظری کا شکار

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں ایک ہندو سنت کی سمادھی کو نذر آتش کر دینے کا واقع محض ایک واقعہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی سماج میں بڑھ رہی مذہبی تنگ نظری، تعصب اور منافرت کی ایک مثال ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قائدین کی مفاد پرستی اور نفرت پر مبنی پالیسیوں نے پاکستان کو غیر مسلم اقلیتوں کے لیے ایک جہنّم بنا دیا ہے۔

پاکستان اس وقت کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے جو پاکستانی فوج یا پھر وہاں کی سیاسی قیادت کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔

اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کی کیا شبیہ ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔حالات یہ ہیں کہ عالمی برادری میں پاکستان اپنی وقعت اور وقار گنوا چکا ہے۔امریکہ جیسا پاکستان کا دوست پاکستان سے آنکھیں پھیر چکا ہے۔افغانستان اپنے یہاں کے حالات کے لیے بجا طور پر پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔بھارت سے پاکستان کے تلخ اور کشیدہ رشتوں کے لیے بھی پاکستان کے دہشت گرد عناصر ہی ذمہ دار ہیں اور یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ان عناصر کی پشت پناہی پاکستان کی حکومت اور فوج کرتی رہی ہے۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔سابق امریکی صدر براک اوبامہ اپنی حال ہی میں شائع ایک کتاب میں اس کا ذکر کر چکے ہیں۔دیگر پڑوسی ممالک مثلاً ایران اور سعودی عرب سے بھی پاکستان کے رشتے خوشگوار نہیں ہیں۔

جہاں تک پاکستان کے داخلی معاملات کا تعلق ہے تو تشدد، مذہبی منافرت، تنگ نظری، خواتین کے تعلق سے پاکستانی سماج کا روّیہ اور اقلیتوں کے مسائل سے چشم پوشی ایسے مسائل ہیں کہ جن کے تعلق سے پاکستانی قیادت نے اپنی آنکھیں تقریباً بند کر لی ہیں۔خواتین اور خصوصاً مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اس وقت پاکستان میں کس طرح کے خوف اور دہشت کی شکار ہیں یہ بتانے کی ضرروت نہیں ہے۔نابالغ ہندو لڑکیوں کا اغوا اور ان کا مذہب تبدیل کراکے ان سے جبراً شادی رچانے کے واقعات اکثر پاکستانی میڈیا کی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے اخباروں اور ٹی وی چینلوں کی بھی سرخیوں میں رہتے ہیں۔ہر چند کہ حکومت نے اس معاملے میں کئی قوانین بھی بنائے ہیں لیکن اصل مسئلہ سماج کی بیداری کا ہے۔پاکستانی سماج میں اس وقت جس طرح کی فکر پنپ رہی ہے اسے صرف قانون کے سہارے نہیں بدلا جا سکتا بلکہ اس کے لیے ذہنی بیداری کی ضرورت ہے جس کا فقدان پاکستان میں نظر آتا ہے۔اس مذہبی تنگ نظری کا ہی ایک ثبوت خیبر پختونخوا کا مذکورہ واقعہ ہے۔

خبر کے مطابق ضلع کرک کے قصبے ٹیری میں ایک ہندو سنت کی سمادھی کو ہزاروں کی تعداد میں جمع شرپسندوں نے گذشتہ بدھ کے روز نذر آتش کر دیا۔اس بھیڑ کی قیادت ایک مذہبی جماعت کے کچھ بزرگ لیڈر کر رہے تھے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے واقعات کے پس پشت تنگ نظر مذہبی عناصر کا کتنا بڑا رول ہے۔اسلام کے نام پر تشدد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا کس حد تک اسلامی کام ہے اس کی وضاحت تو تنگ نظر مذہبی قیادت ہی کر سکتی ہے،لیکن ایک بات تو بہرحال واضح ہے کہ اس سے پوری دنیا میں اسلام کی بدنامی ہو رہی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ سمادھی کو نذر آتش کرنے کا واقعہ اچانک ہی نہیں ہو گیا بلکہ اس سے پہلے وہاں موجود مجمع کو مبینہ مذہبی لیڈروں نے مخاطب کیا اور اشتعال انگیز تقاریر کیں۔ سوال یہ ہے کہ پولیس اور انتطامیہ کو ان تمام باتوں کی بر وقت اطلاع کیوں نہیں ملی اور کیوں انتہا پسند عناصر کو اتنا وقت ملا کہ انھوں نے سمادھی کو نذر آتش کر دیا۔بات دراصل یہی ہے کہ اس طرح کے غیر سماجی عناصر کے تعلق سے پولیس اور انتظامیہ کا رویہ بھی ذمہ دارانہ نہیں ہے۔ان عناصر کو پولیس اور حکومت و فوج کی خاموش حمایت حاصل ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو سمادھی کو نذر آتش کرنے کا واقعہ رونما نہ ہوتا۔واضح رہے کہ یہ سمادھی 1920 سے بھی پہلے تعمیر ہوئی تھی اور تب سے اب تک یہاں کسی قسم کا تنازعہ بھی نہیں تھا۔اس کے باوجود اگر اچانک ایک بھیڑ نے سمادھی پر حملہ کیا اور اسے نذر آتش کیا تو اس کے لیے مذہبی قیادت کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ، پولیس اور سیاسی قیادت بھی یکساں طور پر ذمہ دار ہے۔بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان میں مذہبی اور مسلکی اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔خواتین غیر محفوظ ہیں اور پاکستانی معاشرہ اپنی تاریخ کے سب سے برے دور سے گزر رہا ہے۔ظاہر اس صورتحال کے لیے پاکستان کی وہ قیادت ہی ذمہ دار ہے کہ جس نے اپنے مفادات کے سامنے قومی مفادات اور پاکستانی اقلیتوں کے مفادات کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ