پاکستان کی دہشت گرد پالیسی: شکار کون؟
اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھنے اور ان ممالک میں دراندازی کرنے والے ممالک کی فہرست مرتب کی جائے تو پاکستان کا نام سرفہرست ہوگا۔ اپنے ہمسایہ ممالک میں پاکستان کے ذریعہ در اندازی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ایران ہو، افغانستان ہو، چین ہو یا ہندوستان ، پاکستان کا کوئی بھی ہمسایہ ملک اس کی شر انگیزیوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کی مداخلت سے کون واقف نہیں ہے۔ آج افغانستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے بیشتر مسائل کے لیے پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی ذمہ دار ہے۔ ایران میں دہشت گرد تنظیموں کو بھی پاکستان ہی کی شہ حاصل ہے۔ چین جسے پاکستان اپنا دیرینہ دوست کہتے نہیں تھکتا ہے وہ بھی دبی زبان سے پاکستان سے مطالبہ کرتا رہتا ہے کہ پاکستان اس کے ملک میں شدت پسندوں کی حمایت بند کرے۔ بنگلہ دیش جو کبھی پاکستان کا حصہ تھا اور اب ایک آزاد ملک ہے، اسے بھی ایک عرصے تک پاکستان کی شر انگیزیوں کا سامنا رہا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے تو ہندوستان میں دہشت گردی کے جو بھی واقعات ہوتے ہیں پاکستان کا ان سے بالواسطہ یا براہ راست تعلق ضرور ہوتا ہے۔ پاکستان کی ان شرانگیزیوں کا سیدھا اور شدید ترین اثر جموں و کشمیر کے عوام پر ہوتا ہے جہاں آئے دن پاکستان اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں کوشاں رہتا ہے۔ اسی قسم کے ایک معاملے کی سماعت کے دوران جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں آئی ایس آئی کے ذریعہ دہشت گردی کی بہمیمانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں جس کے مہرے دبئی اور ابو ظہبی میں بیٹھ کر ہندوستان کی ریاست میں یہ گھناؤنا کھیل کھیلتے ہیں۔ عدالت نے یہ بات دہشت گردی کی حالیہ واردات کے تناظر میں کہی جس کی تائید ریاست کے حالات اور ان کے حوالے سے موجود شواہد کرتے ہیں۔
یہ بات غور طلب ہے کہ پاکستان یہ واردات ہندوستان اور دیگر ممالک میں تب انجام د ے رہا ہے جب FATF جیسے اداروں کی نظر پاکستان کی جانب ہے اور پاکستان کا نام پہلے سے ہی اس کی گرے لسٹ میں ہے۔ ان اداروں کو دھوکہ دینے کی غرض سے پاکستان گاہے گاہے کچھ ایسی کارروائیاں کرتا رہا ہے جس سے ان اداروں کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ ممکن ہے پاکستان کی یہ کوششیں سنجیدہ ہوں لیکن کچھ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ جیسے ہی بین الاقوامی ادارے پاکستان کے حوالے سے مطمئن ہوتے ہیں پاکستان کی بالواسطہ یا براہ راست کارروائیاں ہندوستان یا افغانستان میں شروع ہو جاتی ہیں۔ اس حوالے سے ہندوستان جب بھی پاکستان سے ان کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے پاکستان ہر بار ان دعووں کو بے بنیاد بتا کر خود کو پاک صاف ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہندوستان نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی ایس آئی کو اپنے ملک میں آکر جانچ کرنے کی بھی دعوت دی لیکن تمام کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان جن شواہد کا مطالبہ ہندوستان سے کرتا رہا ہے وہ شواہد اس کے اپنے پارلیمان سے ہی مل گئے جب حکومت کے ایک وزیر فواد چودھری نے ہندوستان کے پلوامہ میں پاکستانی کارروائی کو بڑے فخریہ انداز میں پاکستان کے ذریعہ کی گئی کارروائی کہا۔ ہندوستان ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ پلوامہ میں فوج پر ہونے والا دہشت گرد حملہ پاکستان کے ذریعہ کرایا گیا تھا لیکن پاکستان نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ حد تو یہ ہے کہ فواد چودھری کے اس بیان کے بعد بھی پاکستان کا رویہ وہی رہا۔
در اصل عالمی برادری کے سامنے ہندوستان کو بدنام کرنے کے لیے پاکستان سرزمین کشمیر پر مسلسل دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔ جب ان کارروائیوں کو روکنے یا دہشت گردوں کو حراست میں لینے کے لیے ہندوستان کی جانب سے کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو پاکستان کی جانب سے اسے انسانی حقوق کی پامالی بتایا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے اس بیانیے کو تھوڑی بہت قبولیت حاصل تھی لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کو معلوم ہے کہ کشمیر میں پاکستان ہی کی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں اور پھر پاکستان خود ہی ہندوستانی مظالم کی جھوٹی کہانی دنیا کو سنانے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اسلامی ممالک بھی پاکستان کے اس بیانیے کو مسترد کر چکے ہیں اور پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
فی الحال بہت سے معاملات میں پاکستان کو چین کی حمایت حاصل ہے لیکن وہ دن دور نہیں جب ہندوستان کی طرح چین بھی پاکستان سے کھل کر یہ مطالبہ کرتا نظر آئے گا کہ پاکستان چین میں شدت پسندی کو ہوا دینا بند کرے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایسا ملک جسے اس خطے کا شہ رگ ہونے کا زعم ہے وہ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔
****************
یہ بات غور طلب ہے کہ پاکستان یہ واردات ہندوستان اور دیگر ممالک میں تب انجام د ے رہا ہے جب FATF جیسے اداروں کی نظر پاکستان کی جانب ہے اور پاکستان کا نام پہلے سے ہی اس کی گرے لسٹ میں ہے۔ ان اداروں کو دھوکہ دینے کی غرض سے پاکستان گاہے گاہے کچھ ایسی کارروائیاں کرتا رہا ہے جس سے ان اداروں کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ ممکن ہے پاکستان کی یہ کوششیں سنجیدہ ہوں لیکن کچھ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ جیسے ہی بین الاقوامی ادارے پاکستان کے حوالے سے مطمئن ہوتے ہیں پاکستان کی بالواسطہ یا براہ راست کارروائیاں ہندوستان یا افغانستان میں شروع ہو جاتی ہیں۔ اس حوالے سے ہندوستان جب بھی پاکستان سے ان کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے پاکستان ہر بار ان دعووں کو بے بنیاد بتا کر خود کو پاک صاف ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہندوستان نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی ایس آئی کو اپنے ملک میں آکر جانچ کرنے کی بھی دعوت دی لیکن تمام کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان جن شواہد کا مطالبہ ہندوستان سے کرتا رہا ہے وہ شواہد اس کے اپنے پارلیمان سے ہی مل گئے جب حکومت کے ایک وزیر فواد چودھری نے ہندوستان کے پلوامہ میں پاکستانی کارروائی کو بڑے فخریہ انداز میں پاکستان کے ذریعہ کی گئی کارروائی کہا۔ ہندوستان ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ پلوامہ میں فوج پر ہونے والا دہشت گرد حملہ پاکستان کے ذریعہ کرایا گیا تھا لیکن پاکستان نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ حد تو یہ ہے کہ فواد چودھری کے اس بیان کے بعد بھی پاکستان کا رویہ وہی رہا۔
در اصل عالمی برادری کے سامنے ہندوستان کو بدنام کرنے کے لیے پاکستان سرزمین کشمیر پر مسلسل دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔ جب ان کارروائیوں کو روکنے یا دہشت گردوں کو حراست میں لینے کے لیے ہندوستان کی جانب سے کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو پاکستان کی جانب سے اسے انسانی حقوق کی پامالی بتایا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے اس بیانیے کو تھوڑی بہت قبولیت حاصل تھی لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کو معلوم ہے کہ کشمیر میں پاکستان ہی کی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں اور پھر پاکستان خود ہی ہندوستانی مظالم کی جھوٹی کہانی دنیا کو سنانے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اسلامی ممالک بھی پاکستان کے اس بیانیے کو مسترد کر چکے ہیں اور پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
فی الحال بہت سے معاملات میں پاکستان کو چین کی حمایت حاصل ہے لیکن وہ دن دور نہیں جب ہندوستان کی طرح چین بھی پاکستان سے کھل کر یہ مطالبہ کرتا نظر آئے گا کہ پاکستان چین میں شدت پسندی کو ہوا دینا بند کرے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایسا ملک جسے اس خطے کا شہ رگ ہونے کا زعم ہے وہ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔
****************
Comments
Post a Comment