موضوع: ہندوستان کا خلائی پروگرام نئی بلندیوں کی جانب گامزن
ہندوستان کی خلائی تحقیق تنظیم اِسرو نے حال ہی میں اپنا مواصلاتی سیارچہ سی ایم ایس زیرو ون خلاءمیں چھوڑا تھا، جو اب آخری مدار میں پہنچ چکا ہے ۔یہ سیارچہ ہندوستان کا 42واں مواصلاتی سیارچہ ہے، جو 2011میں چھوڑے گئے جی سیٹ۔ بارہ کی جگہ لے گا۔ یہ سات سال سے زیادہ مدار میں رہے گا، جہاں سے وہ ای لرننگ (e-learning)، ٹیلی ہیلتھ اور ڈیزازسٹر(Disaster) مینجمنٹ خدمات کیلئے کنیکٹویٹی فراہم کرے گا۔ اس سیارچہ کو پولرسٹیلائٹ لانچ وہیکل کے ذریعہ مدار میں قائم کیا گیا ہے، جسے اِسرو نے حال ہی میں آندھرا پردیش میں سری ہری کوٹہ سے دوسرے لانچ پیڈ سے خلاءمیں چھوڑا تھا۔ پی ایس ایل وی کی اُڑان کے تقریباً بیس منٹ بعد ہی سیارچہ کو آخری مدار میں پہنچا دیا گیا ۔ انسیٹ (INSAT) اور جی سیٹ(GSAT) سیریز کے بعد سی ایم ایس۔ زیرو ون ہندوستان کی نئی سیریز کے سیارچوں کا پہلا سیارچہ ہے۔
اِسرو کیلئے اس سال یہ تیسری لانچ تھی ۔ کووڈ انیس عالمی وبا کے باعث گگن یان، کی پہلی پرواز سمیت زیادہ تر مشنوں میں تاخیر ہوئی۔ وبا پھیلنے سے پہلے بھارت صرف جی سیٹ۔30کا مشن ہی مکمل کرسکا تھا۔ اسے اس سال جنوری میں فرنچ گویانہ (French Guiana) کے کورو (Kaurou) سے بین الاقوامی لانچر ایریا نے اسپیس (Arianespace) نے خلاءمیں چھوڑا تھا۔ عالمی وبا کے باوجود اِسرو نے نومبر میں زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیارچے ای او ایس۔زیرو ون (EOS-01) کو کامیابی کے ساتھ خلاءمیں چھوڑا تھا۔ اِسرو نے صرف اس سیارچے کو ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے سیارچوں کو بھی کامیابی کے ساتھ خلاءمیں بھیجا تھا۔
نیا سیارچہ سی ایم ایس۔زیرو ون (CMS-01) نہ صرف ملک کے مواصلاتی نظام کو بہتر بنائے گا، بلکہ ای لرننگ ((e-learning،ٹیلی میڈیسین(telemedicine) اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سروسز (Disaster management services) میں بھی امداد فراہم کرےگا، اس کی خدمات مین لینڈ(Mainland)انڈیا کے علاوہ لکشدیپ اور انڈمان اور نکوبار جزائر میں بھی دستیاب ہوں گی۔ نئے سال میں بھارت برازیل کے زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیارچے امیزونیا(Amazonia) اور تین دیگر ہندوستانی سیارچوں کو خلاءمیں بھیجے گا ۔ ان سیارچوں کو اِسرو کے پولر سٹیلائٹ لانچ وہیکل، سی ۔51 کے ذریعہ لے جایا جاۓ گا ۔پی ایس ایل وی سی ۔51مشن فروری کے اواخر یا مارچ کے اوائل میں شروع ہوگا، جو نہ صرف اِسرو بلکہ بھارت کیلئے بھی ایک خاص اور اہم مشن ہوگا۔
ان سیارچوں کو چھوڑے جانے سے خلاءسے متعلق اصلاحات کے نئے دور کا آغاز ہوگا، جنہیں اِسرو نے خلاءکے شعبہ میں ملک کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے شروع کی ہیں ۔ یہ راکٹ اندرون ملک تیار کردہ سیارچہ”آنند“ اپنے ساتھ لے جائے گا، جس کا مقصد زمین کا مشاہدہ کرنا ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذسکر ہے کہ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر(Indian National Space Promotion and Authorization) کے قیام کے ساتھ ہی خلاءکے شعبہ کو نجی شعبہ کیلئے کھول دیا گیا ہے۔
"آنند "کو بھارت کی ایک نئی کمپنی پکسل(Pixxel) نے تیار کیا ہے۔ زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیارچوں کی سیریز کا یہ پہلا سیارچہ ہے، جو ہر 24گھنٹے تمام دنیا کا مشاہدہ کر کے ڈیٹا فراہم کرے گا، اس سے تمام تنظیموں کو بروقت پتہ چل جائےگا کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ سیارچہ کے ذریعہ بھیجے گئے تمام اعداد و شمار آرٹیفیشل انٹیلی جنس) پرمبنی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گے۔ جن کا استعمال جنگلات اور زراعت کے شعبوں کے علاو ہ موسم کی جانکاری کیلئے بھی کیا جاسکے گا۔
آنند کے ساتھ ساتھ اِسرو دو اور سیارچوں کو خلاءمیں چھوڑے گا۔ یہ ہیں اسپیس کڈز انڈیا(Space Kidz India) کا تیارہ کردہ ستیش سیٹ (Satish Sat)اور یونیورسٹیوں کے گروپ کا تیار کردہ یونی سیٹ ۔سیارچے اُن تجارتی سیارچوں میں سے ہیں، جنہیں اِسرو اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں خلاءمیں بھیجے گا۔ پی ایس ایل وی سی51-مشن کے علاوہ اِسرو ایس ایس ایل وی کی پہلی پرواز کی بھی تیار کررہا ہے ۔ اِس وہیکل میں 500کلو گرام والے چھوٹے سیارچے کو زمین کے نچلے مدار میں چھوڑنے کی صلاحیت ہوگی۔ اس چھوٹے وہیکل کو چھ انجینئروں کی ایک ٹیم ایک ہفتہ کے اندر تیار کرسکتی ہے۔
بھارت اس وقت ایک بڑے مشن کی تیاری میں ہے۔ چندریان۔تین، آدتیہ ایل ون اور گگن یان مشنوں کیلئے کام جاری ہے۔چندریان ۔تین ایسا مشن ہوگا، جو زمین سے جڑنے کیلئے چندریان۔دو کے موجودہ مشن کا استعمال کرے گا ۔ آدتیہ ایل ون بھارت کا پہلا شمسی مشن ہے، جبکہ گگن یان مشن کا مقصد ہندوستانی خلاءبازوں کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانا ہے۔
اِسرو کیلئے اس سال یہ تیسری لانچ تھی ۔ کووڈ انیس عالمی وبا کے باعث گگن یان، کی پہلی پرواز سمیت زیادہ تر مشنوں میں تاخیر ہوئی۔ وبا پھیلنے سے پہلے بھارت صرف جی سیٹ۔30کا مشن ہی مکمل کرسکا تھا۔ اسے اس سال جنوری میں فرنچ گویانہ (French Guiana) کے کورو (Kaurou) سے بین الاقوامی لانچر ایریا نے اسپیس (Arianespace) نے خلاءمیں چھوڑا تھا۔ عالمی وبا کے باوجود اِسرو نے نومبر میں زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیارچے ای او ایس۔زیرو ون (EOS-01) کو کامیابی کے ساتھ خلاءمیں چھوڑا تھا۔ اِسرو نے صرف اس سیارچے کو ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے سیارچوں کو بھی کامیابی کے ساتھ خلاءمیں بھیجا تھا۔
نیا سیارچہ سی ایم ایس۔زیرو ون (CMS-01) نہ صرف ملک کے مواصلاتی نظام کو بہتر بنائے گا، بلکہ ای لرننگ ((e-learning،ٹیلی میڈیسین(telemedicine) اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سروسز (Disaster management services) میں بھی امداد فراہم کرےگا، اس کی خدمات مین لینڈ(Mainland)انڈیا کے علاوہ لکشدیپ اور انڈمان اور نکوبار جزائر میں بھی دستیاب ہوں گی۔ نئے سال میں بھارت برازیل کے زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیارچے امیزونیا(Amazonia) اور تین دیگر ہندوستانی سیارچوں کو خلاءمیں بھیجے گا ۔ ان سیارچوں کو اِسرو کے پولر سٹیلائٹ لانچ وہیکل، سی ۔51 کے ذریعہ لے جایا جاۓ گا ۔پی ایس ایل وی سی ۔51مشن فروری کے اواخر یا مارچ کے اوائل میں شروع ہوگا، جو نہ صرف اِسرو بلکہ بھارت کیلئے بھی ایک خاص اور اہم مشن ہوگا۔
ان سیارچوں کو چھوڑے جانے سے خلاءسے متعلق اصلاحات کے نئے دور کا آغاز ہوگا، جنہیں اِسرو نے خلاءکے شعبہ میں ملک کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے شروع کی ہیں ۔ یہ راکٹ اندرون ملک تیار کردہ سیارچہ”آنند“ اپنے ساتھ لے جائے گا، جس کا مقصد زمین کا مشاہدہ کرنا ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذسکر ہے کہ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر(Indian National Space Promotion and Authorization) کے قیام کے ساتھ ہی خلاءکے شعبہ کو نجی شعبہ کیلئے کھول دیا گیا ہے۔
"آنند "کو بھارت کی ایک نئی کمپنی پکسل(Pixxel) نے تیار کیا ہے۔ زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیارچوں کی سیریز کا یہ پہلا سیارچہ ہے، جو ہر 24گھنٹے تمام دنیا کا مشاہدہ کر کے ڈیٹا فراہم کرے گا، اس سے تمام تنظیموں کو بروقت پتہ چل جائےگا کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ سیارچہ کے ذریعہ بھیجے گئے تمام اعداد و شمار آرٹیفیشل انٹیلی جنس) پرمبنی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گے۔ جن کا استعمال جنگلات اور زراعت کے شعبوں کے علاو ہ موسم کی جانکاری کیلئے بھی کیا جاسکے گا۔
آنند کے ساتھ ساتھ اِسرو دو اور سیارچوں کو خلاءمیں چھوڑے گا۔ یہ ہیں اسپیس کڈز انڈیا(Space Kidz India) کا تیارہ کردہ ستیش سیٹ (Satish Sat)اور یونیورسٹیوں کے گروپ کا تیار کردہ یونی سیٹ ۔سیارچے اُن تجارتی سیارچوں میں سے ہیں، جنہیں اِسرو اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں خلاءمیں بھیجے گا۔ پی ایس ایل وی سی51-مشن کے علاوہ اِسرو ایس ایس ایل وی کی پہلی پرواز کی بھی تیار کررہا ہے ۔ اِس وہیکل میں 500کلو گرام والے چھوٹے سیارچے کو زمین کے نچلے مدار میں چھوڑنے کی صلاحیت ہوگی۔ اس چھوٹے وہیکل کو چھ انجینئروں کی ایک ٹیم ایک ہفتہ کے اندر تیار کرسکتی ہے۔
بھارت اس وقت ایک بڑے مشن کی تیاری میں ہے۔ چندریان۔تین، آدتیہ ایل ون اور گگن یان مشنوں کیلئے کام جاری ہے۔چندریان ۔تین ایسا مشن ہوگا، جو زمین سے جڑنے کیلئے چندریان۔دو کے موجودہ مشن کا استعمال کرے گا ۔ آدتیہ ایل ون بھارت کا پہلا شمسی مشن ہے، جبکہ گگن یان مشن کا مقصد ہندوستانی خلاءبازوں کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانا ہے۔
Comments
Post a Comment