پاکستانی ایجنسیوں کی بیرون ملک تخریبی سرگرمیاں

پاکستانی فوج کا منفی وجوہات سے سرخیوں میں رہنا کوئی نئی بات نہیں۔ سابق امریکی صدر اوبامہ کی کتاب میں ان کا ذکر ہو یا خود اُن کے اپنے ، یعنی آئی ایس آئی کے سابق چیف اسد درّانی کی کتاب ، ہر جگہ یہ تاثر قائم ہوتا اور مستحکم ہوتا نظر آتا ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت کسی کے ہاتھوں میں ہے تو وہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصہ قبل تک یہ بات ڈھکے چھپے لفظوں میں کہی جاتی تھی لیکن پی ڈی ایم نے اپنی ریلیوں میں جس طرح اس حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، اس سے وہاں کا سیاسی منظرنامہ ہی تبدیل نہیں ہو رہا بلکہ لوگوں میں فوج اور ایجنسیوں سے سوال کرنے کی جرأت بھی پیدا ہوتی جا رہی ہے خواہ اس کے لئے علی وزیر جیسے اور بھی کئی لوگوں کو قید وبند کی صعوبتیں ہی کیوں نہ برداشت کرنی پڑیں۔

بہت عرصہ نہیں گزرا جب پرویز مشرف نہایت فخر کے ساتھ فرماتے ہوئے پائے گئے تھے کہ غداروں کو ملک کے باہر بھی جینے نہیں دیا جائے گا۔ اب یہ غدار کون ہیں شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولتا یا لکھتا ہے وہ غدار، جو بنیادی انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھاتا ہے وہ غدار، یعنی جو بھی فوج کے بیانیے سے مختلف یا متضاد رائے رکھتا ہو وہ واجب القتل ٹھہرا۔ اب خواہ وہ پاکستان میں مقیم ہو یا دنیا کے کسی اور کونے میں۔ ان آوازوں کا گلا گھونٹ دینا ہے جو حاکموں کو پسند نہیں۔ یہ کسی بھی جمہوری حکومت میں ممکن نہیں لیکن آمریت اگر جمہوریت کے لباس میں تھوپی جا رہی ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔ عمران حکومت اس بات کو بڑے فخر کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ سلیکٹڈ کی سلیکٹر سے وفاداری میں کوئی کسر نہیں۔ عوام چاہے روز اپنی جان کی خیر مناتے جاگتے اور سوتے ہوں لیکن فوج یا ایجنسیوں کی طرف کسی نے بھول سے بھی انگلی اٹھائی تو اس کا حشر وہی ہوگا جو کریما بلوچ کا ہوا۔ کناڈا میں ان کی لاش جس حالت میں ملی ہے اس سے تجزیہ کاروں اور پشتون قوم پرستوں کے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اس میں آئی ایس آئی ملوث ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستانی صحافیوں اور حکومت اور فوج پر نکتہ چینی کرنے والوں کو بیرون پاکستان تشدد اور قتل کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کئی لوگ اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں۔ سویڈن میں جلاوطن پاکستانی صحافی کا قتل بھی کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں۔ اسی طرح نیدرلینڈ میں بھی ایک ایکٹی وسٹ کو زدوکوب کیا گیا۔ بیرون ملک جابسنے والے کئی پاکستانی صحافی اور ایکٹی وسٹ بار بار انھیں ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں ایک اہم نام سرکردہ صحافی طحہٰ صدیقی کا ہے۔ ماہرین ایسے تمام واقعات کے درمیان ایک سے زیادہ مماثلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس میں سازش کا شبہ ظاہر کر رہے ہیں اور کناڈا کی حکومت سے اس کی غیر جانبدارانہ تفتیش کے لئے آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں تاکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔

دراصل کریما بلوچ کوئی معمولی شخصیت نہیں جن کے قتل پر بلوچ نیشنل موومنٹ نے چالیس دنوں کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ وہ خود کئی بار مختلف مواقع پر اس اندیشے کا برملا اظہار کر چکی تھیں کہ وہ پاکستانی ایجنسیوں کے رڈار پر ہیں اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی پہلی صدر تھیں۔ انھیں بی بی سی نے 2016 میں دنیا کی سو (100) سرکردہ خواتین میں شمار کیا تھا۔ بلوچ عوام کے حقوق کے لئے مسلسل جد و جہد نے انھیں ایک جرأت مند سیاست داں اور ایکٹی وسٹ کے طور پر ہر دل عزیز اور مقبول بنا دیا تھا اور امکان اغلب ہے کہ ان کی یہی خوبی ان کے قتل کا سبب بنی۔

بہر حال اگر بلوچ قوم پرستوں کے اندیشے درست ہیں تو پاکستانی ایجنسیوں کے ایسے منصوبے نہ جانے اور کہاں کہاں اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے استعمال میں لائے جائیں، اس لئے مغربی ممالک کی حکومتوں کو خبردار رہنا ہوگا۔ کسی بھی ملک کی سرزمین پر کسی غیر ملکی ایجنسی کو اتنی طاقت حاصل ہو جانا، خود اس ملک کی اپنی ساکھ کے لئے بھی نیک فال نہیں۔ اس قسم کی واردات پاکستان کی سر زمین پر تو دیکھنے میں آتی رہی ہے اور حکمراں طبقہ اور ایجنسیاں اپنے پڑوس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو اپنے لئے فخر کی بات بھی سمجھتی رہی ہیں لیکن کسی مغربی ملک میں اپنے ہدف کو نشان زد کرنا اور قتل کر دینا کوئی عام واقعہ نہیں۔ اگر سویڈن میں ساجد حسین اور کناڈا میں کریما بلوچ کا قتل ایجنسیوں کی حرکت ہے تو دنیا کو وہ یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ اپنی تخریبی سرگرمیوں کا کسی کو کہیں بھی شکار بنا سکتی ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری کو بھی ان کے خلاف ایک واضح حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ