طالبان کے مقتول سربراہ کا پاکستان میں لائف انشورنس

اکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔اس مملکت خداداد میں ایسے ایسے نادر واقعات دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن پر یقین کرنا بہت مشکل ہوتاہے۔ اب پچھلے دنوں ہی یہ انکشاف ہوا کہ طالبان کے ایک دہشت گرد رہنما نے پاکستان میں زندگی کا بیمہ یعنی لائف انشورنس کرارکھا تھا۔

یہ کوئی معمولی دہشت گرد نہیں تھا بلکہ طالبان کا رہنما ملّا اختر منصور تھا جو سن 2016 میں امریکی ڈرون حملے میں مارا جاچکا ہے۔ ملّا اختر منصور کی حیثیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے طالبان کے روحانی سربراہ ملا محمد عمر کی موت کے بعد اس دہشت گرد تنظیم کا رہنما مقرر کیا گیا تھا۔

ملا منصور کے لائف انشورنس پالیسی کا انکشاف اس وقت ہوا جب کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت، منصور اور اس کے مفرور ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔سماعت کے دوران پتہ چلا کہ ملّا منصور نے نہ صرف اپنی زندگی کا بیمہ کرا رکھا تھا بلکہ بیمہ کمپنی کو تین لاکھ پاکستانی روپے ادا بھی کرچکا تھا۔اس نے یہ بیمہ ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے کرایا تھا جس کے لیے اسے سن 2005میں پاکستان کا قومی شناختی کارڈ جاری کیا گیا تھا۔ ملّا منصور نے پاکستان میں متعدد غیر منقولہ جائیدادیں بھی خرید رکھی تھیں جن میں پلاٹ اور مکانات شامل ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ پاکستانی انتظامیہ اور بالخصوص پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی تائید و حمایت اور مدد کے بغیر کسی بھی صورت میں ممکن نہیں تھا اور اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان نہ صرف ہندوستان بلکہ اپنے برادر پڑوسی ملک افغانستان میں کس طرح کے تخریبی کھیل میں ملوث رہا ہے۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہےاور افغانستان میں تمام تر کوششوں کے باوجود قیام امن کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا رول بھی ہے،جو بظاہر امن کی باتیں تو کرتا ہے اور افغانستان کے امن کو پاکستان کے لیے ضروری بھی قرار دیتا ہے لیکن درحقیقت جنگ زدہ ملک میں امن کے تئیں ذرا بھی مخلص نہیں ہے ،کیونکہ اگر اسلام آباد نے افغان طالبان کی پشت پناہی نہ کی ہوتی تو افغانستان میں دہشت گردی کا مسئلہ کب کا حل ہوچکا ہوتا۔

امریکہ کو بھی، جس نے افغانستان میں طالبان کو قابو کرنے کی خاطر پاکستان کے لیے اپنے خزانے کے منہ کھول دیے تھے، اس بات کا پوری طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر اسے کس طرح گمراہ کرتا رہا۔ چند ماہ قبل امریکی پارلیمان میں پیش کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے دہائیوں سے افغانستان میں ایک سرگرم لیکن منفی کردار ادا کیا ہے۔

امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس ‘سی آر ایس’ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نے افغانستان کے باغی گروپوں بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات قائم رکھے جو کہ امریکہ کی طرف سے اعلان کردہ غیر ملکی دہشت گر د تنظیم ہے اور طالبان کا باضابطہ ایک نیم خود مختار دھڑا بن گیا ہے۔

سی آر ایس دراصل اہم موضوعات پر امریکی اراکین پارلیمنٹ کے لیے رپورٹیں تیار کرتی ہے تاکہ انہیں درست فیصلے لینے میں آسانی ہو۔ سی آر ایس کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایک مضبوط اور متحد افغانستان کے بجائے ایک غیر مستحکم اور کمزور افغانستان کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔

یہاں امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ کا ذکر بھی مناسب معلوم پڑتا ہے جنہوں نے اپنی خودنوشت اے پرومیسڈ لینڈ میں پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے تعلقات کے سلسلے میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے اور جن سے ہندوستان اور عالمی برادری کے ان الزامات کی مزید تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور تربیت گاہ ہے اور بیشتر دہشت گرد تنظیموں کو پاکستانی فوج اور حکومت دونوں کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے۔

افغانستان کے حالات اسی لیے بدتر ہوئے کیوں کہ وہاں دہشت گردی ختم کرنے کے لیے امریکہ نے پاکستان کو اتحادی بنایا۔ پاکستانی رہنما ایک طرف تو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور دہشت گردی کے خلاف بیان بازی کرتے رہے، دوسری طرف طالبان کے ساتھ معاونت کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ بھی ہے کہ طالبان دراصل پاکستان کا ہی پیدا کردہ ہے۔

یہ بات لوگوں کے ذہنوں سے ابھی محو نہیں ہوئی ہوگی کہ گزشتہ برس قطر میں واقع طالبان کے سیاسی دفتر کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ کہہ کر حقیقت سے پردہ اٹھادیا تھا کہ طالبان کے تمام فیصلوں میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ملوث رہتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ امریکی فوج جلد از جلد افغانستان سے نکل آئے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر امریکی فوجیں اس جنگ زدہ ملک سے چلی گئیں تو دہشت گردی کے خلاف جو تھوڑی بہت کامیابی حاصل کی گئی ہے وہ سب مٹی میں مل جائے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی رہنما فوج کی افغانستان سے واپسی پر متفق نہیں ہیں جبکہ امریکہ کے دیگر حلیف ممالک بھی اس سلسلے میں اپنے خدشات کا کھل کر اظہار کرچکے ہیں۔

یہ بات اب بالکل واضح ہوچکی ہے کہ پاکستان، افغانستان میں ہمیشہ منفی رول ادا کرتا رہاہے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے نام پر ایک خطرناک کھیل کھیلتا رہاہے اور اب جبکہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن معاہدے کی کوششیں بھی تیز ہوچکی ہیں، پاکستان نے بھی اپنی منفی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ پاکستان یہ کبھی نہیں چاہتا کہ دو دہائیوں سے جنگ کی آگ میں جھلس رہے افغان عوام امن و سکون کی سانس لے سکیں اور جب تک طالبان کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل رہے گی، افغانستان میں مستقل اور دیرینہ امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ