چین کے سنکیانگ میں جبری مزدوری کی اسکیم



یہ امر ارتقا کے موجودہ مر حلے میں افسوسناک ہے کہ دنیا کے ایک بڑے حصے میں آج بھی ا نسانی آزادی سلب اورغصب کرنےوالی قوتوںکا غلبہ نظر آتا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے قومی، علاقائی اور عالمی ادارے اس صورتحال کو بدلنے کیلئے بساط بھر کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن ان کوششوں کو ابتک ایسی کامیابی نہیں ملی جو صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دے۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کے ادراک و احساس کے باوجود یہ دنیا ظالم و مظلوم میں بٹی ہوئی ہے۔ اس میں معاشرتی طور پر رائج فرسودہ روایات و نظریات کے علاوہ بعض ایسی حکومتوں کا بھی عمل دخل ہے جو بظاہر طبقاتی نظام ختم کرنے کی زبانی دہائی تودیتی ہیں لیکن عملاً ان کا دامن داغدار ہے۔ 

دنیا ایسی ہی ایک نظیر چین کے صوبہ سنکیانگ میں دیکھ رہی ہے جہاں نسلی اقلیتی گروپ کے پچاس لاکھ سے زیادہ ایغور لوگ کپاس کے پھول چننے پر مجبور کر دئے گئے ہیں۔ ایغور اور دیگر ترک اقلیت کے لوگوں کے ساتھ وہاںجبری مشقت کی یہ زیادتی سابقہ اندازے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے ۔ امریکہ نے ابھی اسی مہینے میں اس کا نوٹس لیتے ہوئے سنکیانگ سے کپاس کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔

سنٹر برائے عالمی پالیسی کی جانب سے جو صائب الرائے لوگوں کی ایک اہم مجلس ہے، اسی ہفتے منگل کو جاری ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کے اہم شواہد موجود ہیں کہ سنکیانگ میں مشتبہ طور پر انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ یہ چونکا دینے والی خبر ایک طرف جہاں انتہائی تشویشناک ہے وہیں بین اقوامی فوجداری کورٹ (آئی سی سی) نے یہ کہہ کرانسانی حقوق کیلئے سرگرم حلقوں کو اور بھی بے چین کر دیا ہے کہ کورٹ کو سنکیانگ میں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کا اختیار حاصل نہیں۔
انسانی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والوں کے مطابق سنکیانگ میں ماورائے عدالت حراستی کیمپوں میں کوئی دس لاکھ لوگ قیدی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہر چند کہ چین نے سنکیانگ میں ایغوروں کے ساتھ جبری مشقت سے کام لینے کے الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور یہ استدلال کیا ہے اُس کے تربیتی پروگراموں، روزگار کی اسکیموں اور بہترین تعلیم کی وجہ سے متعلقہ خطے سے شدت پسندی ختم کر نے میں کامیابی ملی ہے اور جنہیں قید خانوں سے تعبیرکیا جارہا ہے وہ شدت پسندی ترک کرنے اور اُس سے بچاؤ کی تربیت دینے کے مراکز ہیں۔ دستیاب شواہد بہر حال کچھ اور ہی منظر بیان کرتے ہیں۔ آن لائن سرکاری دستاویزات کےحوالے سے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ محصورین تین دیگر اکثریتی علاقوں میں بھی ہیں اور دو سال قبل کے اندازے کے مطابق ان کی تعداد پانچ لاکھ 70 ہزار ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ایغور نسل کے لوگوں کو شدید نگرانی میں رکھا جاتا ہے اور انہیں اپنے ڈی این اے اور بائیومیٹرکس کے نمونے تک دینے پڑ تے ہیں۔سنکیانگ میں آباد جن لوگوں کے رشتہ دار انڈونیشیا، قزاخستان اور ترکی جیسے 'حساس' ممالک میں رہتے ہیں، انہیں کسی بھی شبہے پر یا کسی بھی حوالے سے مبینہ طور پر حراست میں لے لیا جا تا ہے ۔تقریباً دس لاکھ افراد کو ابھی تک حراست میں لیا جا چکا ہے۔انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایغوروں کو وہاں مینڈارن یا چینی زبان سکھائی جا رہی ہے اور اسی کے ساتھ انھیں اپنے مذہب کو ترک کرنے یا اُس پر تنقید کرنے پر بھی مجبور کیا جا تا ہے۔ 
رپورٹ میں سرکاری دستاویزات سامنے لانے والے ایڈرین زینز کے مطابق، جو سنکیانگ اورتبت کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں،اس سچ سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کپاس چننے کے لئے مزدوروں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی میں جبری مشقت کا عمل دخل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ، کچھ اقلیتیں ممکن ہے اس عمل کا حصہ بننے میں کسی حد تک رضامندی ظاہرکر تی ہوں اور اس طرح ان کو مالی طور پر فائدہ بھی ہو تا ہو، لیکن اس محاذ پر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کہاں زبردستی ختم ہوتی ہے اور کہاں سے مقامی رضا مندی شروع ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جبر کے الزام کو چین یہ کہہ کر مسترد کرتا ہے کہ،سنکیانگ میں تمام نسلی اقلیتیں مزدوری کے لئےکمپنی کے ساتھ معاہدہ بند ہوتی ہیں اور وہ اپنی مرضی سے یہ طے کرتی ہیں کہ انہیں کیا پیشہ اختیار کرنا ہے۔ بہرحال ایسے شواہد بھی سامنے آتے رہتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ صوبہ مکمل طور پر نگرانی میں ہے جہاں امن میں خلل کے لئے چین علیحدگی پسندوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔چینی وزارت خارجہ سے جب بھی سنکیانگ میں ظلم و جبر کے حوالے سے رجوع کیا جاتا ہے تو یہی جواب ملتا ہے کہ حکومت نسلی علیحدگی پسندوں اور پر تشدد دہشت گردانہ اور مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ