پاکستان میں جبراً گمشدہ ہزاروں افراد کی حالت زار


پاکستان کی صورت حال جتنی پیچیدہ اتنی ہی سنگین ہے ۔1947میں آزادی کے بعد جمہوریت کومستحکم ہونے کاموقع نہیں ملا اور وقتا فوقتا ملک آمریت کے شکنجہ میں رہا ۔جب بھی وہاں جمہوری طریقہ سے کوئی منتخب پارٹی برسراقتدارآئی تو اسے ملک وسماج کےلیے کام کرنے کی آزادی نہیں ملی اور اسے فوج کے ماتحت ہی کام کرنا پڑا۔پاکستان میں 2008سے سول حکومتیں اقتدارمیں ہیں لیکن آج بھی صورتحال کم وبیش ویسی ہی ہے ۔

دہشت گردی کی حمایت کرنے اور دہشت گردوں کوپناہ دینے کے معاملے میں تو پاکستان دنیابھرمیں بدنام ہے اور اس کی انھیں حرکتوں کی وجہ سے اسے کئی طرح کی پابندیوں کاسامنا ہے ۔اسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لینے میں بھی دشواریوں کا سامناکرنا پڑرہاہے ۔کوئی بھی مالی ادارہ پاکستان کو اس لیے رقم نہیں دینا چاہتا کیوں کہ اس سے دہشت گردوں کی اعانت ہوتی ہے ۔ پاکستان نے ابتدا سے ہی دہشت گردی کو ایک آلہ کار کے طورپر استعمال کیا ہے ۔ پاکستان کی شہ پردنیا کے کئی ملکوں میں دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں اور اس سے سب سے زیادہ پڑوسی ممالک متاثر ہوئے ہیں ۔لیکن بدنیتی پر مبنی کسی بھی کام کے مثبت نتائج برآمدنہیں ہوتے ۔

پاکستان کوآج خود دہشت گردی کا سامنا ہے ۔اب وہ دنیا کے سامنے یہ التجاکر رہا ہے کہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار پاکستان ہے اور دنیا اس کی مددکرے اور اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر ان دہشت گردوں کی پرورش و پرداخت کس نے کی؟ اب یہی دہشت گرد اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں اور پاکستان حکومت اور اس کے ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نام پر اپنے حق کے لیے آوازبلند کرنے والے افرادکو نشانہ بنارہے ہیں اور انکی جبراً گمشدگی جیسے گھناؤنے عمل کا ارتکاب کررہےہیں ۔جبراً گمشدگی پاکستان میں ایک ایسی اصطلاح بن گئی ہے جس سے ہرخاص عام واقف ہے ۔ یوں تو جبراً گمشدگی کے واقعات ملک کے ہرحصے میں پیش آتے رہتے ہیں لیکن اس سے سب سے زیادہ متاثر علاقہ بلوچستان ہے ۔ 

وزیراعظم عمران خان اقتدارمیں آنے سے قبل اور بعد میں بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ جبراً گمشدگی کا معاملہ حل کریں گے لیکن اس سمت میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور جبراً گمشدگی کےواقعات مسلسل پیش آرہے ہیں بلکہ بعض حلقوں کےمطابق اس میں پہلے سے اضافہ ہوگیا ہے ۔بلوچستان نیشنل پارٹی نے گزشتہ جون میں حکمراں پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے اتحاد سے خود کو اس لیے الگ کر لیا تھا کیوں کہ اس نے جبراً گمشدگی کے سلسلہ کو ختم کرنے سے متعلق اپنا وعدہ نہیں نبھایا۔ وزیراعظم عمران خان کے دورحکومت میں جبراً گمشدگی کے متاثرین میں سب سےنمایاں نام ادریس خٹک کاہے جنھیں نومبر 2019 میں اغوا کیا گیا تھا۔ خٹک انسانی حقوق کے کارکن اور گمشدگی کےخلاف آوازبلندکرنےوالے ہیں ۔ پہلے ان کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا لیکن ملکی اوربین الاقوامی سطح پر دباؤبڑھنے کےبعد فوج نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اس کی تحویل میں ہیں ، لیکن انھیں ابھی تک رہانہیں کیا گیا۔بلوچستان سے کتنے افراد لاپتہ ہوئے ہیں اس کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن اتنا تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ انکی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ جبراً گمشدگی سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے مطابق انکے پاس 1980سے 2019کے درمیان جبرا ً گمشدگی کے 1144معاملات ہیں جن میں سے 731 افراد اب بھی لاپتہ ہیں ۔تاہم یہ تعدادحقیقت بیان نہیں کرتی کیونکہ بہت سے معاملات اقوام متحدہ تک کبھی نہیں پہنچتے ۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کےلیے آوازبلند کرنے والی حقوق انسانی کی ایک تنظیم، وی بی ایم پی کے مطابق بلوچستان سے 6ہزار سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں ۔2009سے سلامتی دستوں کے ذریعہ اغواکیے گئے 1400افراد مردہ پائے گئے ہیں جن کے جسم پر گولیوں اور ظلم وزیادتی کے نشانات تھے ۔جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حقوق انسانی کے کارکن اور پشتون تحفظ مومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے خطہ میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات کو نمایاں کرنے کےلیے حال ہی میں ایک تحریک شروع کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ 08۔2007 میں جب سے اس خطہ میں فوجی کارروائی شروع ہوئی ہے 8000لوگوں کا اغوا ہواہے اور صرف 1500افراد رہاہوئے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ لاپتہ ہونے جیسے واقعات بلاروک ٹوک جاری ہیں کیونکہ قصورواروں کو سزادیے بغیر یہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا، وہ جانتے ہیں کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں ۔انکے بقول جب بھی کوئی جبراً گمشدگی کے خلاف بات کرتاہے ، چاہے وہ وکیل ہو،سماجی کارکن ہو،صحافی یاسیاست داں ہو تو انھیں دھمکیاں ملتی ہیں ،انھیں اغوا کرلیاجاتاہے اور بعض دفعہ قتل بھی کر دیا جاتا ہے ۔اس سے زیادہ سفاکی اور کیاہوسکتی ہے ۔پاکستان کو اگربین الاقوامی برادری کی نظر میں اپنی شبیہ بہتر کرنی ہے اور موجودہ سیاسی ، سماجی اور معاشی بحران سے باہرنکلنا ہے تو اسے سب سے پہلے دہشت گردی کی حمایت ختم کرنی ہوگی اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف کی جانے والی ظلم وزیادتی کا سلسلہ بندکرناپڑے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ