اپوزیشن کے حملوں سے ناراض فوج کا بچاؤ کرنے میں عمران پیش پیش
پاکستان میں گیارہ سیاسی پارٹیوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا پی ڈی ایم نے فوج اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپنی مہم تیز کردی ہے۔ مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی ریلیوں اور جلسوں میں بڑے پیمانے پر عوام کی شرکت نے نہ صرف فوج کو گھبراہٹ میں مبتلا کردیا ہے بلکہ عمران خان بھی پریشان ہواٹھے ہیں۔ فوج پر لگاتار یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرکے جمہوریت کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے تو دوسری طرف موجودہ وزیراعظم، اپوزیشن کے حملوں کی زد میں اس لئے آرہے ہیں کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعہ فوج نے عمران خان کو پلانٹ کیا ہے۔ اپوزیشن کےجلسوں میں اس الزام کو کلیدی نقطے کے طور پر اٹھایا جارہا ہے۔ یہ صورتحال اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ فوج کی مداخلت کا ذکر تو ضرور ہوتا تھا لیکن عوامی سطح پر کبھی اس طرح کی تحریک نہیں چلائی گئی تھی۔
اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کا ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ اب عمران خان باقاعدہ فوج کی مدافعت میں اس طور پر سامنے آئے ہیں کہ وہ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ اپوزیشن کا الزام غلط ہے اور یہ کہ فوج ریاست کے ایک اہم ادارے کے طور پر اپنے فرائض بھی ادا کررہی ہے اور کسی غیرآئینی فعل میں ملوث نہیں ہوتی۔ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ فوج بہرحال وزیراعظم کی ماتحتی میں کام کرتی ہے اور اس وقت وہ میرے ماتحت کام کررہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ دلیل سیاسی طور پر کسی بھی باشعور حلقے کو مطمئن نہیں کر پا رہی ہے کیوں کہ یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے قیام پاکستان کے سات دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے کا کم وبیش نصف حصہ براہ راست فوجی حکمرانی میں گزرا، لیکن جب براہ راست فوج اقتدار میں نہیں ہوتی تب بھی سیکیوریٹی سے متعلق جملہ امور اور خارجہ پالیسی پر اسی کا کنٹرول ہوتا ہے۔ جب بھی کسی حکومت نے فوج کی اس نوعیت کی کارکردگی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، فوج نے کسی نہ کسی طور پر نہ صرف اسے اقتدار سے بے دخل کیا بلکہ اسے کئی سطحوں پر اذیتیں بھی دیں۔ ایک ستم ظریفی یہ بھی رہی کہ ریاست کے بعض دوسرے ادارےبھی فوج کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ فوج نےلامحدود اختیارات حاصل کرلئے ہیں جو خود پاکستان کے آئین سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ پاکستان کی عدالت عالیہ نے بھی اکثر فوج کے غیرآئینی اقدام کو ‘‘نظریۂ ضرورت’’ کہہ کر نظرانداز کردیا۔ اس لئے فوج کی حمایت میں عمران کا یہ کہنا کہ وہ صرف اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرتی ہے، مبصرین اور تجزیہ کاروں کے لئے مذاق کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔
چند روز قبل اپوزیشن اتحاد نے لاہور ‘‘اعلانیہ’’ جاری کیا جس پر تمام رکن پارٹیوں کے لیڈران نے دستخط کئے تھے اور جس میں کہا گیا تھا کہ 2018 میں فوج نے عوام کے مین ڈیٹ کو چوری کرکے عوام پر ایک ناکارہ حکومت مسلط کردی جسے ایک جعلی حکومت کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے الزامات سے عمران خان کا فرسٹریشن اتنا بڑھ گیا کہ انہوں نے ‘‘سماء’’ ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک ا نٹرویو میں اپوزیشن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری طور پر منتخب ہوکر اقتدار تک پہنچے ہیں۔ اور یہ کہ وہ فوج کی بے جا مداخلت یا انتخابی دھاندلی کے طفیلی وزیراعظم نہیں بنے ہیں۔ اسی انٹرویو میں عمران خان نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف، موجودہ آرمی چیف جنرل باجوا اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے ہی 2007 میں انہیں اقتدار سے بے دخل کردیا تھا اور 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ عمران خان نے جنرل باجوا کی حمایت میں یہ بھی کہا کہ وہ اب تک اس طرح کے الزامات برداشت کررہے ہیں لیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ فوج میں اپوزیشن کے الزامات کی وجہ سے غصہ بڑھ رہا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس طور پر عمران خان نے اپوزیشن کو دھمکی دینے کی کوشش کی ہے۔ یعنی ا نہوں نے یہ اشارہ کیا ہے کہ اگر اپوزیشن نے یہ سلسلہ بند نہ کیا تو ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف کارروائی کا سلسلہ تو ویسے بھی شروع ہوچکا ہے۔ مثلاً پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف کچھ پرانے معاملات کی بنیاد پر بدعنوانی کا الزام عائد کرکے کارروائی شروع کرنے کی بات سننے میں آئی ہے۔ ویسے بھی عمران حکومت اپوزیشن لیڈروں کے خلاف آئے دن کارروائی کررہی ہے۔ ایسے میں یہ نہیں لگتا کہ عمران خان کی دھمکی سے اپوزیشن کی تحریک پر کوئی اثر پڑسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ فوج اور وزیراعظم، دونوں کے لئے یہ وقت خاصا پریشان کن ہے۔
اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کا ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ اب عمران خان باقاعدہ فوج کی مدافعت میں اس طور پر سامنے آئے ہیں کہ وہ یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ اپوزیشن کا الزام غلط ہے اور یہ کہ فوج ریاست کے ایک اہم ادارے کے طور پر اپنے فرائض بھی ادا کررہی ہے اور کسی غیرآئینی فعل میں ملوث نہیں ہوتی۔ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ فوج بہرحال وزیراعظم کی ماتحتی میں کام کرتی ہے اور اس وقت وہ میرے ماتحت کام کررہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ دلیل سیاسی طور پر کسی بھی باشعور حلقے کو مطمئن نہیں کر پا رہی ہے کیوں کہ یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے قیام پاکستان کے سات دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے کا کم وبیش نصف حصہ براہ راست فوجی حکمرانی میں گزرا، لیکن جب براہ راست فوج اقتدار میں نہیں ہوتی تب بھی سیکیوریٹی سے متعلق جملہ امور اور خارجہ پالیسی پر اسی کا کنٹرول ہوتا ہے۔ جب بھی کسی حکومت نے فوج کی اس نوعیت کی کارکردگی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، فوج نے کسی نہ کسی طور پر نہ صرف اسے اقتدار سے بے دخل کیا بلکہ اسے کئی سطحوں پر اذیتیں بھی دیں۔ ایک ستم ظریفی یہ بھی رہی کہ ریاست کے بعض دوسرے ادارےبھی فوج کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ فوج نےلامحدود اختیارات حاصل کرلئے ہیں جو خود پاکستان کے آئین سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ پاکستان کی عدالت عالیہ نے بھی اکثر فوج کے غیرآئینی اقدام کو ‘‘نظریۂ ضرورت’’ کہہ کر نظرانداز کردیا۔ اس لئے فوج کی حمایت میں عمران کا یہ کہنا کہ وہ صرف اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرتی ہے، مبصرین اور تجزیہ کاروں کے لئے مذاق کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔
چند روز قبل اپوزیشن اتحاد نے لاہور ‘‘اعلانیہ’’ جاری کیا جس پر تمام رکن پارٹیوں کے لیڈران نے دستخط کئے تھے اور جس میں کہا گیا تھا کہ 2018 میں فوج نے عوام کے مین ڈیٹ کو چوری کرکے عوام پر ایک ناکارہ حکومت مسلط کردی جسے ایک جعلی حکومت کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے الزامات سے عمران خان کا فرسٹریشن اتنا بڑھ گیا کہ انہوں نے ‘‘سماء’’ ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک ا نٹرویو میں اپوزیشن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری طور پر منتخب ہوکر اقتدار تک پہنچے ہیں۔ اور یہ کہ وہ فوج کی بے جا مداخلت یا انتخابی دھاندلی کے طفیلی وزیراعظم نہیں بنے ہیں۔ اسی انٹرویو میں عمران خان نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف، موجودہ آرمی چیف جنرل باجوا اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے ہی 2007 میں انہیں اقتدار سے بے دخل کردیا تھا اور 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ عمران خان نے جنرل باجوا کی حمایت میں یہ بھی کہا کہ وہ اب تک اس طرح کے الزامات برداشت کررہے ہیں لیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ فوج میں اپوزیشن کے الزامات کی وجہ سے غصہ بڑھ رہا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس طور پر عمران خان نے اپوزیشن کو دھمکی دینے کی کوشش کی ہے۔ یعنی ا نہوں نے یہ اشارہ کیا ہے کہ اگر اپوزیشن نے یہ سلسلہ بند نہ کیا تو ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف کارروائی کا سلسلہ تو ویسے بھی شروع ہوچکا ہے۔ مثلاً پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف کچھ پرانے معاملات کی بنیاد پر بدعنوانی کا الزام عائد کرکے کارروائی شروع کرنے کی بات سننے میں آئی ہے۔ ویسے بھی عمران حکومت اپوزیشن لیڈروں کے خلاف آئے دن کارروائی کررہی ہے۔ ایسے میں یہ نہیں لگتا کہ عمران خان کی دھمکی سے اپوزیشن کی تحریک پر کوئی اثر پڑسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ فوج اور وزیراعظم، دونوں کے لئے یہ وقت خاصا پریشان کن ہے۔
Comments
Post a Comment