موضوع:اپوزیشن کی ریلیوں اور عمران خان کی بیان بازیوں کے درمیان پھنسا پاکستان
پاکستان میں گیارہ پارٹیوں کی پاکستان جمہوری تحریک نے زور پکڑنا شروع کردیا ہے۔ اس نے آئندہ سال جنوری میں اسلام آباد میں حکومت مخالف ایک بڑی ریلی کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اس منصوبے سے عمران خان حکومت کافی پریشان نظر آرہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی ریلیاں اکتوبر سے برابر ہورہی ہیں اور ان ریلیوں کے جواب میں حکومت پاکستان کا جو رد عمل سامنے آیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کافی پریشان و فکر مند ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام ارکان نے استعفیٰ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ جس سے پاکستان تحریک انصاف حکومت مزید گھبرائی ہوئی ہے۔
عمران خان حکومت کی گھبراہٹ کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ اس کے ایک سینئر وزیر نے یہ الزام لگانا شروع کردیاہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو ریلیوں کے انعقاد کیلئے دوسرے ملکوں سے فنڈ مل رہے ہیں۔ دوسرے وزراء بھی ٹی وی ٹاک شوز کے دوران اس وقت غیر ارادی طور پر اس گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں جب وہ اپوزیشن لیڈروں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ بد عنوان ہیں اور وہ صرف اپنے ذاتی مفاد کیلئے ہی کام کرتے ہیں اور ان میں لوگوں کی خدمت کرنے کا کوئی جذبہ موجود نہیں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھی کچھ اسی طرح کا رویہ اپنا رکھا ہے۔ ایک حالیہ انٹر ویو میں انہوں نے یہ بات دہرائی کہ بدعنوان اپوزیشن رہنماؤں کو عام معافی نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگرچہ وہ ریلیوں پر پابندی عائد نہیں کریں گے لیکن کووڈ-19 کے معاملات میں اضافے کے پیش نظر حکومت ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے گی جو 13 دسمبر کو لاہور میں جلسے کا انعقاد کریں گے۔
ابھی چند روز قبل پاکستان جمہوری تحریک کی ملتان میں پانچوں ریلی کو روکنے کیلئے حکومت نے ہر ممکن کوشش کی۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس اجتماع سے کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہوگا۔
20 ستمبر کو وجود میں آنے کے بعد سے پاکستان جمہوری تحریک اب تک ملک میں 5 ریلیاں کرچکی ہے۔ اس نے گجرانوالا میں 16 اکتوبر، کراچی میں 18 اکتوبر، کویٹہ میں 25 اکتوبر، پشاور میں 22 نومبر اور ملتان میں 30 نومبر کو ریلیاں کی تھی۔ حکومت کی جانب سے روڑے اٹکانے کے باوجود ان ریلیوں میں کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔
پاکستان جمہوری تحریک کے 12 مطالبات ہیں۔ ان مطالبات میں آئین کی بالادستی کا قیام، صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد، عدلیہ اور قومی اسمبلی کی آزادانہ کارروائی ، سیاست میں فوج کی دخل اندازی پر روک، صوبوں کے حقوق کی پاسداری اور دہشت گردی اور شدت پسندی کا مقابلہ شامل ہیں۔
اپوزیشن پارٹیاں عمران خان کو ‘‘سلیکٹڈوزیر اعظم کے نام سے بلاتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں فوج نے وزیر اعظم کی حیثیت سے چنا ہے تاکہ وہ اس کے ایجنڈے کے مطابق کام کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ عمران خان کو برسراقتدار لانے کیلئے فوج نے انتخابی عمل میں دھاندلی کی تھی۔ اس بارے میں اگرچہ بہت سے اپوزیشن لیڈروں کی آوازیں دبا دی گئی ہیں تاہم سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے ورچوول خطابات میں بڑے صاف الفاظ میں اس الزام کو بار بار دہرایا ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے آئی ایس آئی اور فوج کے سربراہوں کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سبھی لوگ انتخابات میں دھاندلی کرانے میں ملوث تھے۔
پاکستان کو اس وقت زبردست معاشی بحران کا بھی سامنا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ نسلی اقلیتی فرقے خاص طور پر بلوچستان اور سندھ کے قبائلی علاقوں کے لوگ حکومت سے کافی ناراض ہیں۔ عمران خان حکومت کے سامنے یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان میں مبصرین کا خیال ہے کہ بحران کے حل کیلئے حکومت کو قومی سطح پر بات چیت کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ اسے حقائق کا پتہ لگانے اور اپوزیشن پارٹیوں سے مصالحت کرنے کیلئے ایک کمیشن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں حکومت کی کوششیں غیر سنجیدہ ہیں۔ عمران خان ابھی بھی اپوزیشن لیڈروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ وہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کو مافیہ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے ملک کی تمام دولت لوٹ کر اسے دیوالیہ بنا دیا ہے۔
ان تمام مسائل کے درمیان ہندوستان کا خوف پھیلایا جارہا ہے تاکہ نہ صرف لوگوں میں اتحاد کا جذبہ پیدا کیا جاسکے بلکہ اپوزیشن کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ کی دھمکی کو بھی بے معنی کیا جاسکے۔ پاکستانی میڈیا میں بھی یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ ہندوستان کوئی کارروائی کرسکتا ہے۔ اس افواہ کا مقصد لوگوں کی نگاہ میں فوج کی اہمیت جتانا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اندرون اور بیرون ملک دونوں جانب مصالحت کا جذبہ ہی پاکستان کا مستقبل بچا سکتا ہے۔
عمران خان حکومت کی گھبراہٹ کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ اس کے ایک سینئر وزیر نے یہ الزام لگانا شروع کردیاہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو ریلیوں کے انعقاد کیلئے دوسرے ملکوں سے فنڈ مل رہے ہیں۔ دوسرے وزراء بھی ٹی وی ٹاک شوز کے دوران اس وقت غیر ارادی طور پر اس گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں جب وہ اپوزیشن لیڈروں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ بد عنوان ہیں اور وہ صرف اپنے ذاتی مفاد کیلئے ہی کام کرتے ہیں اور ان میں لوگوں کی خدمت کرنے کا کوئی جذبہ موجود نہیں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھی کچھ اسی طرح کا رویہ اپنا رکھا ہے۔ ایک حالیہ انٹر ویو میں انہوں نے یہ بات دہرائی کہ بدعنوان اپوزیشن رہنماؤں کو عام معافی نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگرچہ وہ ریلیوں پر پابندی عائد نہیں کریں گے لیکن کووڈ-19 کے معاملات میں اضافے کے پیش نظر حکومت ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے گی جو 13 دسمبر کو لاہور میں جلسے کا انعقاد کریں گے۔
ابھی چند روز قبل پاکستان جمہوری تحریک کی ملتان میں پانچوں ریلی کو روکنے کیلئے حکومت نے ہر ممکن کوشش کی۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس اجتماع سے کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہوگا۔
20 ستمبر کو وجود میں آنے کے بعد سے پاکستان جمہوری تحریک اب تک ملک میں 5 ریلیاں کرچکی ہے۔ اس نے گجرانوالا میں 16 اکتوبر، کراچی میں 18 اکتوبر، کویٹہ میں 25 اکتوبر، پشاور میں 22 نومبر اور ملتان میں 30 نومبر کو ریلیاں کی تھی۔ حکومت کی جانب سے روڑے اٹکانے کے باوجود ان ریلیوں میں کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔
پاکستان جمہوری تحریک کے 12 مطالبات ہیں۔ ان مطالبات میں آئین کی بالادستی کا قیام، صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد، عدلیہ اور قومی اسمبلی کی آزادانہ کارروائی ، سیاست میں فوج کی دخل اندازی پر روک، صوبوں کے حقوق کی پاسداری اور دہشت گردی اور شدت پسندی کا مقابلہ شامل ہیں۔
اپوزیشن پارٹیاں عمران خان کو ‘‘سلیکٹڈوزیر اعظم کے نام سے بلاتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں فوج نے وزیر اعظم کی حیثیت سے چنا ہے تاکہ وہ اس کے ایجنڈے کے مطابق کام کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ عمران خان کو برسراقتدار لانے کیلئے فوج نے انتخابی عمل میں دھاندلی کی تھی۔ اس بارے میں اگرچہ بہت سے اپوزیشن لیڈروں کی آوازیں دبا دی گئی ہیں تاہم سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے ورچوول خطابات میں بڑے صاف الفاظ میں اس الزام کو بار بار دہرایا ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے آئی ایس آئی اور فوج کے سربراہوں کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سبھی لوگ انتخابات میں دھاندلی کرانے میں ملوث تھے۔
پاکستان کو اس وقت زبردست معاشی بحران کا بھی سامنا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ نسلی اقلیتی فرقے خاص طور پر بلوچستان اور سندھ کے قبائلی علاقوں کے لوگ حکومت سے کافی ناراض ہیں۔ عمران خان حکومت کے سامنے یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان میں مبصرین کا خیال ہے کہ بحران کے حل کیلئے حکومت کو قومی سطح پر بات چیت کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ اسے حقائق کا پتہ لگانے اور اپوزیشن پارٹیوں سے مصالحت کرنے کیلئے ایک کمیشن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں حکومت کی کوششیں غیر سنجیدہ ہیں۔ عمران خان ابھی بھی اپوزیشن لیڈروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ وہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں کو مافیہ بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے ملک کی تمام دولت لوٹ کر اسے دیوالیہ بنا دیا ہے۔
ان تمام مسائل کے درمیان ہندوستان کا خوف پھیلایا جارہا ہے تاکہ نہ صرف لوگوں میں اتحاد کا جذبہ پیدا کیا جاسکے بلکہ اپوزیشن کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ کی دھمکی کو بھی بے معنی کیا جاسکے۔ پاکستانی میڈیا میں بھی یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ ہندوستان کوئی کارروائی کرسکتا ہے۔ اس افواہ کا مقصد لوگوں کی نگاہ میں فوج کی اہمیت جتانا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اندرون اور بیرون ملک دونوں جانب مصالحت کا جذبہ ہی پاکستان کا مستقبل بچا سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment