حکمراں جماعت کی طرف سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر بندشیں
پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کو لے کر پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں ، لیکن اب معاملہ گرم ہے اور پاکستانی حکومت ایسے صحافیوں کو مسلسل ٹرول کر رہی ہے ، جو حکومت کی حکمت عملی کے خلاف اپنے دل کی بات لکھ رہے ہیں، اس لئے یہ بنیادی بحث ان دنوں زوروں پر ہے کہ کیا میڈیا کی آزادی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے ؟ پاکستان کے بیشتر انفرادی صحافی ان دنوں حکومت کے مطلق العنان رویہ سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔
ابھی حال میں پاکستانی حکمران طبقے کی طرف سے سوشل میڈیا پر جو حملے ہوئے، اس کو دیکھتے ہوئے کچھ پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسّی کی دہائی میں جو شخص ہمارا حقیقی ہیرو تھا ، اب وہ ہمارا ہیرو نہیں رہا۔ پاکستان کی حکمران پارٹی اس وقت بد عنوانیوں کے الزامات میں بری طرح گھری ہوئی ہے ۔ سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ خاتون صحافیوں کے ساتھ بھی حکمران طبقے کا سلوک بہتر نہیں ہے ۔ نیا دور میڈیا نے اپنا موقف صاف کیا ہے کہ اب وہ سیاسی حملوں پر خاموش نہیں رہے گا۔ نیا دور میڈیا (این ڈی ایم) ایک دو لسانی ترقی پسند ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں کو حقیقت سے آگاہ کرنا اور تعلیم دینا ہے۔ نیا دور میڈیا پر جو حملے کیے جارہے ہیں ،ا ن حملوں کی وجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا انٹرویو ہے ، جو انہوں نے بی بی سی نیوز کے نمائندے کو دیا تھا۔پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ فوج پر بطور ادارہ جمہوری عمل کو کمزور بنانے کا الزام عائد نہیں کرتے بلکہ یہ کچھ لوگوں کی خواہش اور منصوبہ ہے، وہی لوگ جو پاکستان میں مارشل لا نافذ کرتے ہیں۔اسحاق ڈار نے بی بی سی کے شو ‘ہارڈ ٹاک’ میں پاکستان کو درپیش معاشی مسائل، اپوزیشن کی حکومت مخالف حکمت عملی اور فوجی قیادت پر سنگین الزامات بھی لگائے ہیں۔ایک مختصر براہ راست ویڈیو میں ، اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ انتخابات 2018 کو لے کر کچھ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے ملک کی انتخابی جمہوریت کمزور ہوتی ہے ، کیونکہ پاکستانی صحافیوں نے انتخابات کے پیش نظر متبادل نظریات کو خاموش کرنے کی زبردست کوششوں کو دیکھا ہے۔ 2018 میں عام انتخابات سے قبل میڈیا پراسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔اس انٹرویو سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ 2018 انتخابات میں متعدد بے ضابطگیاں دیکھی گئیں اور اس میں فوج کا عمل دخل موجود تھا ۔حکومت نہیں چاہتی کہ پرانے قصّے دوبارہ دہرائے جائیں۔نیا دور میڈیا نے الزام لگایا ہے کہ نہ صرف ہماری خواتین ایڈیٹر کو سوشل میڈیا پر ہراساں کیا گیا بلکہ ان کو دھمکی بھی دی گئی۔یہ سب کھیل پارٹی کے سرکاری پینل کی مکمل حمایت سے ہو رہا ہے اور یہی کہانی کا پریشان کن حصہ ہے۔ حکومت اور اس کے ٹرولز کو اب الگ کرنا مشکل ہےکیونکہ حکمران طبقہ سوشل میڈیا سے ، اپنے خلاف کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہے ۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے غیر ملکی چینل کو دیئے گئے انٹرویو کو دوبارہ نشر کرنے کے عوض کئی نجی ٹی وی چینلز کو پیمرا نے نوٹس جاری کیا ہے۔انٹرویو سے یہ بات بھی صاف ہوتی ہے کہ پاکستانی وزیر ا عظم بدعنوانی کے تمام الزامات میں قصوروار ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ڈار بھی مذکورہ الزامات کے لئے قصوروار ہو سکتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ ابھی عدالت کو کرنا ہے۔ پیمراکی جانب سے وضاحت کی گئی کہ مفرور ملزمان کے بیانات و انٹرویوز نشر کرنے پر پابندی کے باوجود پاکستانی ٹی وی چینلز نے اسحاق ڈار کا انٹرویو چلایا۔ پروگرام کو دوبارہ نشر کرنے پر میڈیا پلیٹ فارم کو نہ صرف آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ مسلسل دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔حکمران جماعت متعدد بار صحافیوں کو سبق سکھانے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے اور متعدد وفاقی وزراء صحافیوں کے خلاف حملے کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔سرکاری اہلکار اپنے حامیوں کے اس ناجائز سلوک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ بدعنوانی کے اس کلچر میں حکمراں جماعت کی شمولیت نے صحافیوں کے لئے ماحول کومعاندانہ کردیا ہے اور اس سے ملک میں جمہوریت کے مستقبل کو بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے سے ملک کا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔ پاکستانی مبصرین کے مطابق ان دنوں پاکستان غیر اعلانیہ مارشل لا کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میڈیا نیوز چینل جو حکومت کے وفادار ہیں ، وہ چین اور سکوں سے ہیں۔حکومت پاکستان اختلافی مذاکرات کو پسند نہیں کرتی،اس لئے آئے دن سوشل میڈیا پر حکومت کی زیادتیوں کا بازار گرم ہے۔ پاکستانی مبصرین کے مطابق میڈیا کی طاقت اس کی آزادی میں ہے اور اس بات کا حکومت کو خیال رکھنا چاہئے۔
ابھی حال میں پاکستانی حکمران طبقے کی طرف سے سوشل میڈیا پر جو حملے ہوئے، اس کو دیکھتے ہوئے کچھ پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسّی کی دہائی میں جو شخص ہمارا حقیقی ہیرو تھا ، اب وہ ہمارا ہیرو نہیں رہا۔ پاکستان کی حکمران پارٹی اس وقت بد عنوانیوں کے الزامات میں بری طرح گھری ہوئی ہے ۔ سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ خاتون صحافیوں کے ساتھ بھی حکمران طبقے کا سلوک بہتر نہیں ہے ۔ نیا دور میڈیا نے اپنا موقف صاف کیا ہے کہ اب وہ سیاسی حملوں پر خاموش نہیں رہے گا۔ نیا دور میڈیا (این ڈی ایم) ایک دو لسانی ترقی پسند ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں کو حقیقت سے آگاہ کرنا اور تعلیم دینا ہے۔ نیا دور میڈیا پر جو حملے کیے جارہے ہیں ،ا ن حملوں کی وجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا انٹرویو ہے ، جو انہوں نے بی بی سی نیوز کے نمائندے کو دیا تھا۔پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ فوج پر بطور ادارہ جمہوری عمل کو کمزور بنانے کا الزام عائد نہیں کرتے بلکہ یہ کچھ لوگوں کی خواہش اور منصوبہ ہے، وہی لوگ جو پاکستان میں مارشل لا نافذ کرتے ہیں۔اسحاق ڈار نے بی بی سی کے شو ‘ہارڈ ٹاک’ میں پاکستان کو درپیش معاشی مسائل، اپوزیشن کی حکومت مخالف حکمت عملی اور فوجی قیادت پر سنگین الزامات بھی لگائے ہیں۔ایک مختصر براہ راست ویڈیو میں ، اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ انتخابات 2018 کو لے کر کچھ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے ملک کی انتخابی جمہوریت کمزور ہوتی ہے ، کیونکہ پاکستانی صحافیوں نے انتخابات کے پیش نظر متبادل نظریات کو خاموش کرنے کی زبردست کوششوں کو دیکھا ہے۔ 2018 میں عام انتخابات سے قبل میڈیا پراسٹیبلشمنٹ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔اس انٹرویو سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ 2018 انتخابات میں متعدد بے ضابطگیاں دیکھی گئیں اور اس میں فوج کا عمل دخل موجود تھا ۔حکومت نہیں چاہتی کہ پرانے قصّے دوبارہ دہرائے جائیں۔نیا دور میڈیا نے الزام لگایا ہے کہ نہ صرف ہماری خواتین ایڈیٹر کو سوشل میڈیا پر ہراساں کیا گیا بلکہ ان کو دھمکی بھی دی گئی۔یہ سب کھیل پارٹی کے سرکاری پینل کی مکمل حمایت سے ہو رہا ہے اور یہی کہانی کا پریشان کن حصہ ہے۔ حکومت اور اس کے ٹرولز کو اب الگ کرنا مشکل ہےکیونکہ حکمران طبقہ سوشل میڈیا سے ، اپنے خلاف کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہے ۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے غیر ملکی چینل کو دیئے گئے انٹرویو کو دوبارہ نشر کرنے کے عوض کئی نجی ٹی وی چینلز کو پیمرا نے نوٹس جاری کیا ہے۔انٹرویو سے یہ بات بھی صاف ہوتی ہے کہ پاکستانی وزیر ا عظم بدعنوانی کے تمام الزامات میں قصوروار ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ڈار بھی مذکورہ الزامات کے لئے قصوروار ہو سکتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ ابھی عدالت کو کرنا ہے۔ پیمراکی جانب سے وضاحت کی گئی کہ مفرور ملزمان کے بیانات و انٹرویوز نشر کرنے پر پابندی کے باوجود پاکستانی ٹی وی چینلز نے اسحاق ڈار کا انٹرویو چلایا۔ پروگرام کو دوبارہ نشر کرنے پر میڈیا پلیٹ فارم کو نہ صرف آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ مسلسل دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔حکمران جماعت متعدد بار صحافیوں کو سبق سکھانے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے اور متعدد وفاقی وزراء صحافیوں کے خلاف حملے کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔سرکاری اہلکار اپنے حامیوں کے اس ناجائز سلوک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ بدعنوانی کے اس کلچر میں حکمراں جماعت کی شمولیت نے صحافیوں کے لئے ماحول کومعاندانہ کردیا ہے اور اس سے ملک میں جمہوریت کے مستقبل کو بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے سے ملک کا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔ پاکستانی مبصرین کے مطابق ان دنوں پاکستان غیر اعلانیہ مارشل لا کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میڈیا نیوز چینل جو حکومت کے وفادار ہیں ، وہ چین اور سکوں سے ہیں۔حکومت پاکستان اختلافی مذاکرات کو پسند نہیں کرتی،اس لئے آئے دن سوشل میڈیا پر حکومت کی زیادتیوں کا بازار گرم ہے۔ پاکستانی مبصرین کے مطابق میڈیا کی طاقت اس کی آزادی میں ہے اور اس بات کا حکومت کو خیال رکھنا چاہئے۔
Comments
Post a Comment