لاک ڈاون کے بعد معیشت بہتری کی راہ پر

اس سال لگا تار دوسرے مہینے یعنی نومبر میں جی ایس ٹی سے تقریبا ایک لاکھ کروڑ روپے اکٹھا ہوئے۔ اس کے علاوہ نہ صرف کاروں کی فروخت میں کافی اضافہ ہوا بلکہ مال گاڑی سے جو سامان ڈھوئے گئے اور ان سے جو کرایہ حاصل ہوا وہ بھی کافی بہتر تھا۔ سروسز کے شعبہ میں بھی کافی بہتری دیکھنے کو ملی۔ یہ تمام باتیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ملک کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ مالی سال 2020-21 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی گھریلو پیداوار منفی 24فیصد تھی جو دوسری سہ ماہی یعنی جولائی اور ستمبر کے درمیان بہتر ہو کر منفی سات اعشاریہ پانچ فیصد ہو گئی۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہےکہ پہلی سہ ماہی کے دوران لاک ڈاون کے اثرات تمام ملک میں نمایاں تھے ،جی ڈی پی کی تازہ ترین شرح سے لوگوں کو امید ہے کہ سال کے باقی ماندہ مہینوں میں معیشت تیزی کے ساتھ ترقی کرے گی ۔ یہ بات وزارت خزانہ کے معاشی معاملات کے تازہ ترین جائزے میں بھی کہی گئی ہے۔

سال کی دوسری سہ ماہی میں پیداوار میں بھی کافی بہتری آئی اور اگر پچھلےسال کی اسی مدت سے مقابلہ کیا جائے توصرف سات اعشاریہ پانچ فیصد کی ہی گراوٹ درج کی گئی۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران مینو فیکچرنگ سیکٹر میں پیداوار کی شرح منفی 39 فیصد تھی جو دوسری سہ ماہی میں بہتر ہو کر مثبت صفر اعشاریہ چھ فیصد ہو گئی۔ اس بہتری کے ساتھ ہی مینو فیکچرنگ شعبہ نے اپنی رفتار پکڑ لی اور صنعتی ساز و سامان کی مانگ پوری ہونے لگی۔

نومبر میں جی ایس ٹی سے کل ایک لاکھ پانچ ہزار کروڑ روپے حاصل کئے گئے ۔ یہ رقم پچھلے سال کی رقم سے صرف ایک اعشاریہ چار فیصد زیادہ ہے۔ شروع کے مہینوں میں لاک ڈاون کے باعث اس میں اتار چڑھاؤ آتا رہا لیکن اکتوبر اور نومبر میں اس میں بہتری دیکھنے کو ملی، لہذا امید کی جاتی ہے کہ ریاستوں کو جو معاوضہ دیا جاتا ہے اس میں مزید کٹوتی نہیں ہوگی۔ نومبر میں8242کروڑ روپے سیس کے طور پر اکٹھا کئے گئے تھے جنہیں جی ایس ٹی کے نفاذ کے لئے ریاستوں کو معاوضہ دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ ریاستوں نے مقامی ٹیکسوں کو جی ایس ٹی میں ضم کر دیا ہے اس لئے انہیں ان ٹیکسوں کے عوض معاوضہ دیا جاتا ہے۔

نومبر میں جی ایس ٹی کے کلکشن میں بہتری کے علاوہ کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس نے جو اعداد و شمارجاری کئے ہیں ان کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں مرکزی ٹیکسوں میں گراوٹ کے بعد اکتوبر کے مہینے میں اس میں بہتری آنے لگی ۔ ذاتی انکم ٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں کے کلکشن میں کافی اضافہ ہوا۔ اگر دیکھا جائے تو اکتوبر میں مرکز کے ٹیکسوں کے کل کلکشن میں 17 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ سب جی ایس ٹی ،ایکسائز اینڈ کسٹمس اور دوسرے ٹیکسوں کے ذریعہ حاصل کی گئی رقوم کے باعث ممکن ہو سکا۔ تہواروں کے موسم میں لوگوں کو خرید و فروخت کا بھی خوب موقع ملا جس سے یہ اشارہ ملا کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے اپنے تازہ ترین جائزے میں لکھا ہے کہ اس سال ہندوستانی کمپنیوں کے لئے حالات سازگار رہیں گے کیونکہ لاک ڈاون کے بعد معاشی سر گرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی آمدنی بھی بڑھنے لگی ہے اور تمام شعبوں میں مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے اس لئے 2021 ہندوستانی کمپنیوں کے لئے بہت ہی اچھا سال رہے گا۔ ایجنسی کے مطابق ملک میں کم شرحوں پر قرض دستیاب ہیں جس کے باعث ہندوستانی کمپنیاں خوب ترقی کریں گی۔

ان تمام مثبت باتوں کے باوجود ماہرین معاشیات نے متنبہ کیا ہے کہ مانگ میں مسلسل کمی کے باعث شرح ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لئے انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سیاحت اورریٹیل جیسے شعبوں پر زیادہ دھیان دیا جائے جہاں روزگار کے کافی مواقع موجود ہیں۔ تاکہ ترقی کی رفتار کو بر قرار رکھا جا سکے۔ اگربے روزگاری بڑھے گی اور مانگ میں کمی واقع ہوگی تو معیشت میں آئی بہتری بھی متاثر ہوگی۔ اس لئے ایسے شعبوں کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے خالصتانی علیحدگی پسندی کے احیاء کی ناپاک کوشش

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ