عمران حکومت اور پاکستان میں سیاسی گفتگو کا پست ہوتا معیار
جمہوریت ایک طرف جہاں دنیا کے لئے نعمت ثابت ہوئی ہے وہیں دوسری طرف جن ممالک نے اس کی روح کو اپنے اندر انگیز نہیں کیا ان کے لئے یہ مصیبت بھی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال پاکستان ہے جہاں جمہوریت آمریت کے سائے میں پروان چڑھی یا یوں کہیں کہ جمہوری طرز فکر کو وہاں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع نہیں ملا اور یہاں تک کہ اس کے فقدان کے سبب پاکستان کو اپنا ایک حصہ بھی گنوانا پڑا۔
فی الوقت پاکستان ایک سیاسی اتھل پتھل کے دور سے گزر رہا ہے۔ حزب مخالف نے پے در پے وار سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی نیند اڑا رکھی ہے۔ حالات اسقدر تیزی سے کروٹ بدل رہے ہیں کہ حکمراں طبقے کی بوکھلاہٹ نے ان کی فیصلہ لینے کی صلاحیت تک کو سلب کر لیا ہے۔ حریفوں کو زیر کرنے کے لئے ایسے ہتھکنڈوں کا استعمال عام ہو چلا ہے جن کی اجازت ایک مہذب سماج ہر گز نہیں دیتا۔ دراصل عمران خان کا سیاسی وجود فوج کی پرداخت کا ہی نتیجہ ہے یہی سبب ہے کہ فوج پر نکیل کسنے یا اسے کٹگھرے میں کھڑا کرنے کی جب بھی کوشش ہوتی ہے، حکمراں طبقہ چراغ پا ہو جاتا ہے۔ اسے یہ بات سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے کہ جمہوری حکومتوں میں فوج حاکم اعلیٰ کے رول میں نہیں ہوتی۔ اسے کچھ اصول و ضوابط کی پاسداری کرنا ہوتی ہے اور وہ اپنے ہر عمل کے لئے جمہوری اداروں اور عدلیہ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ لیکن عمران حکومت مدعی سست گواہ چست کے مصداق ہر جگہ اس کے دفاع میں کود پڑتی ہے۔
دراصل پی ڈی ایم نے اور خاص طور سے نواز شریف نے جب سے فوج کو نام لے کر پاکستان کی تنزلی اور بدعنوانی کا سبب بتایا ہے تب سے حکمراں طبقہ فوج کے بچاؤ میں کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اگر بات صرف تو تو میں میں تک محدود رہتی تو بھی بہت مضائقہ نہ تھا لیکن مرد و زن اور پیر و جواں سب ادب اور تہذیب کا دامن چھوڑ دیں تو پھر سیاسی مکالمے ذاتی رنجشوں کی حد سے بھی گزر جاتے ہیں۔ ابتذال کی اسی روش پر گزشتہ دنوں پاکستان کے معروف کالم نگار عباس ناصر نے ایک مفصل مضمون بھی لکھا تھا اور کئی اخباروں اور آن لائن جریدوں نے اپنے ا داریوں میں بھی سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے خاص طور پر نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ کے انتقال پر پنجاب حکومت کی ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے نازیبا تبصرے کا حوالہ بھی دیا۔ ان کی والدہ کے جسد خاکی کو لائے جانے کے سلسلے میں جن الفاظ کا استعمال کیا گیا وہ شرمناک تھے۔ حکمراں طبقے کے کسی وزیر کا اس نوعیت کا بیان یقیناً صدمے کے متاثرین کے لئے بھی اذیت ناک رہا ہوگا، وہ بھی ایسے وقت میں جب پاکستان میں کووڈ کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں اور لوگ اپنے عزیز و اقارب کی صحت اور سلامتی کے لئے تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ بھی حکمراں جماعت کے ذمہ داروں کی تقاریر کے حوالے دئے جا سکتے ہیں جن میں ایسے لہجے اور ایسی زبان کا استعمال کیا گیا جو کسی بھی جمہوریت کے لئے نیک فال تو ہر گز نہیں کہی جا سکتیں۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حکمراں طبقے پر اس بات کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ زہر افشانی کی بجائے صلح و صفائی کا راستہ اختیار کرے اور کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دے جس سے امن کی بحالی کا ذرہ برابر بھی امکان ہو کیونکہ حکومت ہمیشہ ایک طاقتور پوزیشن ہوتی ہے۔ اس کے پاس کھونے کے لئے وہ سب کچھ ہوتا ہے جو اس کے مخالفین کو میسّر نہیں اس لئے کشادہ ظرفی کے مظاہرے کی امید بھی اسی سے کی جاتی ہے، جو بہت بیجا بھی نہیں۔ اشتعال انگیز خطابت اور زہر افشانی سے مسئلے کا حل نہیں نکلتا بلکہ ان کی نوعیت سنگین تر ہوتی جاتی ہے۔ سینئر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ گندگی اقتدار کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص یعنی عمران خان سے شروع ہو کر اس طبقے میں پہنچی ہے جو انھیں آئیڈیل تصور کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خواتین کے لئے نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے والے بھی یہی لوگ ہیں اور اندیشہ اس بات کا ہے کہ جیسے جیسے حزب مخالف کی تحریک زور پکڑتی جائے گی گندگی کا سیلاب بھی اپنی رفتار تیز کرتا جائے گا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ وبا ، تباہ ہوتی معیشت اور بےروزگاری کی مار جھیل رہے عوام کے پاس اپنی بات رکھنے اور احتجاج کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کے اعمال اور الفاظ دونوں سے بد دلی کا فائدہ بھی پی ڈی ایم کو ہی پہنچنے والا ہے۔ پتہ نہیں عمران حکومت اس نوشتہ دیوار کو پڑھنے سے قاصر ہے یا اسے پڑھنا ہی نہیں چاہتی۔
فی الوقت پاکستان ایک سیاسی اتھل پتھل کے دور سے گزر رہا ہے۔ حزب مخالف نے پے در پے وار سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی نیند اڑا رکھی ہے۔ حالات اسقدر تیزی سے کروٹ بدل رہے ہیں کہ حکمراں طبقے کی بوکھلاہٹ نے ان کی فیصلہ لینے کی صلاحیت تک کو سلب کر لیا ہے۔ حریفوں کو زیر کرنے کے لئے ایسے ہتھکنڈوں کا استعمال عام ہو چلا ہے جن کی اجازت ایک مہذب سماج ہر گز نہیں دیتا۔ دراصل عمران خان کا سیاسی وجود فوج کی پرداخت کا ہی نتیجہ ہے یہی سبب ہے کہ فوج پر نکیل کسنے یا اسے کٹگھرے میں کھڑا کرنے کی جب بھی کوشش ہوتی ہے، حکمراں طبقہ چراغ پا ہو جاتا ہے۔ اسے یہ بات سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے کہ جمہوری حکومتوں میں فوج حاکم اعلیٰ کے رول میں نہیں ہوتی۔ اسے کچھ اصول و ضوابط کی پاسداری کرنا ہوتی ہے اور وہ اپنے ہر عمل کے لئے جمہوری اداروں اور عدلیہ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ لیکن عمران حکومت مدعی سست گواہ چست کے مصداق ہر جگہ اس کے دفاع میں کود پڑتی ہے۔
دراصل پی ڈی ایم نے اور خاص طور سے نواز شریف نے جب سے فوج کو نام لے کر پاکستان کی تنزلی اور بدعنوانی کا سبب بتایا ہے تب سے حکمراں طبقہ فوج کے بچاؤ میں کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اگر بات صرف تو تو میں میں تک محدود رہتی تو بھی بہت مضائقہ نہ تھا لیکن مرد و زن اور پیر و جواں سب ادب اور تہذیب کا دامن چھوڑ دیں تو پھر سیاسی مکالمے ذاتی رنجشوں کی حد سے بھی گزر جاتے ہیں۔ ابتذال کی اسی روش پر گزشتہ دنوں پاکستان کے معروف کالم نگار عباس ناصر نے ایک مفصل مضمون بھی لکھا تھا اور کئی اخباروں اور آن لائن جریدوں نے اپنے ا داریوں میں بھی سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے خاص طور پر نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ کے انتقال پر پنجاب حکومت کی ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے نازیبا تبصرے کا حوالہ بھی دیا۔ ان کی والدہ کے جسد خاکی کو لائے جانے کے سلسلے میں جن الفاظ کا استعمال کیا گیا وہ شرمناک تھے۔ حکمراں طبقے کے کسی وزیر کا اس نوعیت کا بیان یقیناً صدمے کے متاثرین کے لئے بھی اذیت ناک رہا ہوگا، وہ بھی ایسے وقت میں جب پاکستان میں کووڈ کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں اور لوگ اپنے عزیز و اقارب کی صحت اور سلامتی کے لئے تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ بھی حکمراں جماعت کے ذمہ داروں کی تقاریر کے حوالے دئے جا سکتے ہیں جن میں ایسے لہجے اور ایسی زبان کا استعمال کیا گیا جو کسی بھی جمہوریت کے لئے نیک فال تو ہر گز نہیں کہی جا سکتیں۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حکمراں طبقے پر اس بات کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ زہر افشانی کی بجائے صلح و صفائی کا راستہ اختیار کرے اور کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دے جس سے امن کی بحالی کا ذرہ برابر بھی امکان ہو کیونکہ حکومت ہمیشہ ایک طاقتور پوزیشن ہوتی ہے۔ اس کے پاس کھونے کے لئے وہ سب کچھ ہوتا ہے جو اس کے مخالفین کو میسّر نہیں اس لئے کشادہ ظرفی کے مظاہرے کی امید بھی اسی سے کی جاتی ہے، جو بہت بیجا بھی نہیں۔ اشتعال انگیز خطابت اور زہر افشانی سے مسئلے کا حل نہیں نکلتا بلکہ ان کی نوعیت سنگین تر ہوتی جاتی ہے۔ سینئر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ گندگی اقتدار کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص یعنی عمران خان سے شروع ہو کر اس طبقے میں پہنچی ہے جو انھیں آئیڈیل تصور کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خواتین کے لئے نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے والے بھی یہی لوگ ہیں اور اندیشہ اس بات کا ہے کہ جیسے جیسے حزب مخالف کی تحریک زور پکڑتی جائے گی گندگی کا سیلاب بھی اپنی رفتار تیز کرتا جائے گا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ وبا ، تباہ ہوتی معیشت اور بےروزگاری کی مار جھیل رہے عوام کے پاس اپنی بات رکھنے اور احتجاج کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کے اعمال اور الفاظ دونوں سے بد دلی کا فائدہ بھی پی ڈی ایم کو ہی پہنچنے والا ہے۔ پتہ نہیں عمران حکومت اس نوشتہ دیوار کو پڑھنے سے قاصر ہے یا اسے پڑھنا ہی نہیں چاہتی۔
Comments
Post a Comment