د امریکا متحده ایالاتو ولسمشر ډونالډ ټرمپ د کورونا ویروس د مرستې او مصرف کڅوړه قانون کې لاسلیک کړ: 

نئے سال کی آمد آمد ہے اور دنیا اپنی تمام تر توانائی اور زندگی کے ساتھ نئے سال میں قدم رکھنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔انفرادی اور اجتماعی سطح پر وبا کے اثرات سے محفوظ رہنے کےلئے سب اپنے اپنے طور پر کوشاں ہیں۔ کئی ممالک ویکسین حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے ہیں۔ مسئلہ تیسری دنیا کے ممالک کا ہے جہاں وسائل اس حد تک میسر نہیں جتنی ضرورت اس وقت ہے لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ عالمی ادارے اور تنظیمیں اس آفت سے دنیا کو محفوظ رکھنے کے لئے متحد ہو کر کوئی لائحہ عمل تیار کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گی۔ قدرتی آفات اور وبا کی لائی ہوئی تباہی ایک طرف تو دوسری طرف وہ بربادی ہے جو خود پاکستان اپنے لئے طے کر رہا ہے۔

پی ڈی ایم کی تحریک کا پہلا مرحلہ لاہور جلسے پر تمام ہو چکا ہے۔ کسی نہ کسی بہانے سے لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچنے سے روکنے کی تمام تر کوششیں کی گئیں۔ میڈیا مالکان کو سخت ہدایت تھی کہ جلسہ کو ناکام دکھایا جائے۔ میر شکیل الرحمان کی طویل حراست اور صحافیوں کی لگاتار گمشدگی کے واقعات اور دھمکیوں نے اپنا اثر دکھایا۔ اب حکومت کو اکتیس جنوری تک عہدہ چھوڑنے کا الٹی میٹم تحریک کی جانب سے دیا جا چکا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو احتجاج کا دوسرا مرحلہ صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ کا اعلان اور تیسرا مرحلہ مارچ میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا۔ پی ڈی ایم پاکستان کی بائیں بازو کی مرکزی جماعت، دائیں بازو، سیکولر، روایتی سوچ رکھنے والی مذہبی اور مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے اور اس کا اصل ہدف حکومت کی بجائے سیاسی عمل میں مداخلت کرنے والا اسٹیبلشمنٹ ہے جس کی حمایت سے وجود میں آنے والی حکومت کی نااہلی کا ذمہ دار بھی عوام انھیں ہی سمجھتے ہیں۔

خارجی محاذ پر بھی دیکھا جائے تو عمران حکومت چاروں طرف سے گھری نظر آتی ہے۔ طالبان لیڈروں کے پاکستان میں کیمپوں کے دورے کا کابل نے سخت نوٹس لیا ہے اور بجا طور پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ دراصل میڈیا میں کچھ ویڈیوز گردش کر رہے ہیں جن میں عسکریت پسندوں کے تربیتی کیمپوں میں طالبان رہنماؤں کو زخمی دہشت گردوں کی عیادت کرتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ انھیں افغان حکومت کے خلاف بھڑکایا بھی گیا۔ افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں سخت الفاظ میں کہا گیا کہ ایسی سرگرمیاں افغانستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان میں عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے اور وہاں طالبان قیادت کی موجودگی علاقائی امن و استحکام کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ افغانستان نے عالمی برادری کو باور کرا دیا ہے کہ یہ صورتحال افغانستان میں دیر پا امن کے قیام کی کوششوں میں بھی بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ افغان حکومت نے پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان باغیوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے باز رکھے۔

الغرض یہ بات اب ساری دنیا جان چکی ہے کہ کس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ لے کر پاکستان دہشت گرد گروپوں کو مسلح کرتا رہا ہے اور ان کا بے دریغ استعمال ہمسایہ ممالک میں دہشت پھیلانے کے لئے کرتا رہا ہے۔ ممبئی اور پلوامہ حملوں کے وقت بھی بھارت تمام ثبوت و شواہد کے ساتھ پاکستانی ایجنسیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی ملی بھگت سے دنیا کو آگاہ کرتا رہا ہے لیکن پاکستان مسلسل بھارت اور افغانستان جیسے مملک میں فعال دہشت گردوں کو اسٹریٹیجک ایسیٹ کی طرح استعمال کرتا رہا ہے۔

بدنام زمانہ دہشت گرد اور کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے غیر قانونی فنڈنگ کیس میں مجموعی طور پر ساڑھے پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے اس پر ایک لاکھ ستر ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ واضح رہے کہ جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں پر کل اکتالیس مقدمات درج ہیں۔حافظ سعید کو گزشتہ سال سترہ جولائی کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر سارے معاملے ایک ساتھ چلیں گے اور اگر حکومت سنجیدہ ہوئی ،جس کا امکان ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کم ہے، تو حافظ سعید کی باقی ماندہ زندگی سلاخوں کے پیچھے گزرنے کا امکان ہو سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے تماشے مسلسل چلتے رہتے ہیں اور ان کی رفتار ایک ذرا تیزی کی طرف مائل ہوتی ہے جب عالمی برادری یا ایف اے ٹی ایف کوئی بڑا فیصلہ لینے کی دہلیز پر ہوں۔

حقیقت تو یہی ہے کہ عالمی برادری کے سامنے بار بار شرمندگی اٹھانے کے باوجود پاکستان اپنی روش تبدیل کرنے کو ذرہ برابر بھی تیار نہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اصل دشواری وہاں کے عوام کو اٹھانا پڑے گی جن کی مشکلات پہلے سے ہی کافی زیادہ اور سنگین ہیں۔ اگر مولانا فضل اللہ کی اس بات کو درست مان لیا جائے کہ میثاق جمہوریت کے پورا نہ ہونے کی صورت میں ملک میں بدامنی پھیل سکتی ہے تو یہ پاکستان کے حق میں نہیں ہوگا ۔ لیکن مبصرین کی نظر میں اس سے بھی بدتر صورت یہ ہوگی جب اسٹیبلشمنٹ اور عمران حکومت کی فسطائیت پاکستانی عوام کی آزادی سلب کر لے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ