قرض کے بوجھ میں دبا پاکستان
پاکستان کی موجودہ حکومت کا طریقہ کار اور پالیسیاں اب پاکستانی عوام کے لئے مضر رساں ثابت ہو رہی ہیں۔پاکستانی عوام نے پچھلی حکومتوں کی بد عنوانیوں اور غلط پالیسیوں سے عاجز آ کر عمران خان کو موقع دیا تھا، لیکن عمران خان نے عوام کو مایوس ہی کیا ہے۔ پاکستانی عوام کو امید تھی کہ عمران خان ملک میں بدعنوانی ، مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے ، لیکن ایسا ہوانہیں ۔ بلکہ صورتحال مزید خراب ہوچکی ہے۔پاکستان کی معیشت بری طرح تباہ ہوگئی ہے اورملکی و غیر ملی قرضوں کے بوجھ کے سبب وہ دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیاہے۔در اصل پاکستان کا بیرونی قرض بدستور بڑھتا رہتا ہے اور اسے اپنے پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان در حقیقت قرض کے جال میں بری طرح پھنس چکا ہے۔
پاکستان پر یوں تو بیرونی قرضوں کا بوجھ ہمیشہ رہا ہے، لیکن موجودہ دور حکومت میں ملکی و غیر ملکی قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیاہے۔ پچھلے دنوں پاکستانی میڈیا نے سرکاری دستاویز کے حوالے سے بتایا تھا کہ موجودہ حکومت کے سوا 2 سال میں ملکی قرضہ 14 ہزار 922 ارب روپے بڑھ گیا، یہ مالی بوجھ جی ڈی پی کا 98.3 فیصد ہے، مقامی قرضوں کا بوجھ سوا دو سال میں 7 ہزار 285 ارب روپے بڑھ گیا، جس کے بعد مجموعی مقامی قرضوں کا حجم 23 ہزار 701 ارب روپے ہو گیا ہے۔ بیرونی قرضوں کے بوجھ میں سوا 2 سال میں 6 ہزار 416 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس سے مجموعی طور پر بیرونی قرضوں کا بوجھ 17 ہزار 369 ارب روپے ہو گیا۔اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ پاکستان کے غیر ملکی قرضوں اور ذمہ داریوں میں گذشتہ برسوں میں کتنی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کے قرض میں ڈوبنے کی مختلف وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان نےہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود، ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنے کی بجائے، ہمیشہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے پر زیادہ دھیان دیا ہے۔ اسی طرح ، ٹیکس کے نظام میں اصلاحات اور محصولات کی وصولی میں اضافہ نہ کرنا حکومت کی طرف سے بھاری ملکی اور غیر ملکی قرضوں کے پیچھے ایک اہم عنصر ہے۔اس کے علاوہ حال ہی میں سعودی عرب کا قرض ادا کرنے کے لئے پاکستان نے چین سے مالی مدد مانگی ہے۔ در اصل سعودی عرب نے پاکستان کے رویہ سے خفا ہو کرگزشتہ جولائی میں اپنا اقتصادی پیکج واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکج کو سعودی عرب نے اکتوبر 2018 میں جاری کیا تھا۔ اس کے تحت سعودی عرب نے پاکستان کو تین سال کے لئے 6.2 بلین ڈالر کا لون دیا تھا۔ لیکن پاکستانی وزیر خارجہ کے اشتعال انگیز بیانات سے ناراض سعودی عرب نے 2021 میں ختم ہونے والے اس پیکج کو 2020میں ہی بند کر دیا۔ وہیں دوسری جانب پاکستان میں چین؍ پاک اکانومک کوریڈور یعنی سی پی ای سی تیار ہو رہا ہے۔ اس کے لئے بھی چین 80 فیصد سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2022تک پاکستان کو چین کو 6.7ارب ڈلر ادا کرنا ہیں۔ ظاہر ہے پہلے ہی غربت اور قرض میں ڈوبے پاکستان کے لئے یہ نا ممکنات میں سے ہے۔ ایسے میں وہ آنے والے وقت میں چین کے بوجھ کے نیچے مزید دب جائے گا۔ غربت اور قرض ہی نہیں، بے روزگاری بھی پاکستان کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 64فیصد آبادی 30سال کی عمر کے نیچے ہے اور بے روزگاری کی شرح 8.5 فیصد ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بار بار ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں دہشت گردی کا مرکز ہے۔ نہ صرف ہندوستان، بلکہ پوری دنیا پاکستان کی پروردہ دہشت گردی کا شکار ہوئی ہے۔ امریکہ پر نائن الیون حملے کے ذمہ دار اسامہ بن لادن کو بھی پاکستان میں ہی پناہ ملی تھی۔ ممبئی میں دہشت گردانہ حملہ پاکستان کے ہی دہشت گردوں نے انجام دیا۔ اور پلوامہ میں بھی پاکستان کی دہشت گرد تنظیم جیش محمد کا ہاتھ تھا۔ اس کا اعتراف عمران خان کے ایک کابینی رفیق نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کیا تھا۔ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان نے دہشت گردی کے خاتمہ کا جو دعویٰ کیا تھا، در اصل وہ محض ایک فریب تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عمران خان بھی سابقہ حکومتوں کی طرح دہشت گردی کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہے ہیں، بلکہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معیشت کے محاذ پر بری طرح ناکام رہے ہیں۔ پاکستان کی حکومتوں نے اگردہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے انتہاپسند گروپوں کی اعانت نہ کی ہوتی اور اپنا دھیان ملک کی معیشت اور ترقی و خوشحالی پر مرکوز کیا ہوتا تو شایدانھیں اتنے خراب دور سے گزرنا نہیں پڑتا۔ نہ ہی اس پر قرض کا اتنا بوجھ بڑھتا کہ پورا ملک ہی دوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ جائے۔ اب حالت یہ ہے کہ پاکستان جس چین پر سب سے زیادہ تکیہ کئے رہتا ہے، اس نے بھی پاکستان کی اس طرح مدد نہیں کی، جس طرح پاکستان امید لگائے رہتا ہے۔
Comments
Post a Comment