بھارت اورخلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نروانے اس وقت متحدہ عرب امارات کی راجدھانی ابو ظہبی میں ہیں۔ جنرل نروانے آج اور کل ابو ظہبی میں قیام کریں گے اس کے بعد وہ 13 اور 14 دسمبر کو سعودی عرب کے دارالسلطنت ریاض جائیں گے ۔ اس دورے میں جنرل نروانے دونوں ممالک کے اپنے ہم منصب اور دیگر اعلی فوجی عہدےداران سے ملاقات کریں گے اور دفاعی تعلقات کو بڑھانے پر غور وخوض کریں گے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا جنرل نروانے کا دورہ اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ بھارتی فوج کا کوئی سربراہ پہلی بار ان ممالک کا دورہ کر رہا ہے۔
بھارتی فوج کے سربراہ کے اس پہلے دورہ سے ان دونوں ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہورہا ہے۔امید قوی ہے کہ بھارت اور دونوں خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشق، زمینی جنگ کی تربیت اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے جیسے معاملات میں قریبی باہمی تعاون کی راہ مزید ہموار ہوگی۔ دفاعی تعاون کا یہ نیا دور دراصل بر صغیر اورخلیجی ممالک کے ما بین نئی سیاسی اور تجارتی سچائیوں کو سامنے لاتا ہے۔ دنیا کی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ سعودی عرب جس کی معیشت کا انحصار اب تک صرف تیل پر ہے وہ دوسرے شعبوں میں بھی امکانات دریافت کرنے کی طرف گامزن ہے۔ ایسے میں بھارت خلیج ممالک کے لئے دفاعی تکنالوجی،تکنیکی مہارت، اور تکنالوجی کے نئے مراکز قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں تک امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک کا تعلق ہے وہ اب امریکہ کی فراہم کردہ حفاظتی چھتر چھایا سے باہر نکل کر اپنا حفا ظتی نظام بنانا چاہتے ہیں۔ ثبوت یہ کہ پچھلے دنوں امریکہ نے جب امارات کو فوجی استعمال کے لئے ڈرون دینے سے منع کیا تو اس نے چین سے مطلوبہ ڈرون خرید لئے۔ بھارت اس نئی صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے ۔
جنرل نروانے کے اس دورے کے سلسلے سے ملنے والی اطلاعات کی بنا پر قیاس کیا جا رہا ہےکہ ابو ظہبی اور ریاض دونوں ہی بھارت سے برہموس میزائل خرید نے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ دیگر اسلحے ہیں جو بھارت کامیابی سے دیگر ممالک کو برآمد کرتا رہا ہے اور خلیجی ممالک میں ان کی خاصی اچھی مانگ ہو سکتی ہے۔ یہی نہیں دفاعی شعبے میں خلیجی ممالک اور بھارت کی صنعتوں کے درمیان اشتراک اور تجارت کا ویسا ہی سلسلہ قائم ہو سکتا ہے جیسا مثلاً توانائی کے شعبے میں قائم ہے۔
خلیجی دنیا میں آج بھارت محض سستے کامگار یا تیل کی فروخت کا بازار نہیں سمجھا جاتا بلکہ خلیجی ممالک اور بھارت کے درمیان بڑھتے تعاون کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایشیا کی ایک بڑی اقتصادی قوت اور بین اقوامی معاملات میں ایک اہم طاقت بن کر ابھرا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے ان ممالک سے تعلقات میں کچھ کشیدگی آتی نظر آ رہی ہے ۔ آ پ جانتے ہیں کہ امارات نے پچھلے مہینہ 13ممالک سے نئے لوگوں کی آمد پر جو روک لگائی ہے ان میں پاکستان بھی ایک ہے۔ اس سے پہلے امارات نے اپنے حفاظتی نظام کے مفادات کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو کامگار ویزا دینےمیں خاصی کمی کی تھی جبکہ اس دوران بھارتی شہریوں کو اس کا کچھ فائدہ ہی پہنچا تھا۔ اس سے پہلے بھی سفارتی سطح پر پاکستان کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی جب او آئی سی وزرائے خارجہ میٹنگ کے دوران کشمیر کے معاملے پر بات کرنے کی پاکستان کی تجویز مسترد ہو گئی تھی۔
جہاں تک سعودی عرب- پاکستان تعلقات کی بات ہے حالیہ دنوں میں ان کے رشتوں میں ایک دراڑ پڑی ہے۔ اب تک پاکستان سعودی عرب کو حفاظتی ضروریات کے لئے افرادی وسائل مہیا کرنے والا سب سے معتبر حلیف مانا جاتا تھا۔ نیز یہ بھی سمجھا جاتا رہا ہے کہ اگر سعودی عرب کو نیوکلیائی ساز و سامان کی کوئی فوری ضرورت پڑ جائے تو اس میں بھی پاکستان مدد گار ثابت ہوگا۔ لیکن پچھلے دنوں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے یمن میں سعودی فوجی مہم کے لئے اپنی افواج فراہم نہ کرنے اور پھر ترکی ملائشیا اور قطر کے ساتھ ہاتھ ملانے کے جو فیصلے کئے ان سے پاکستان –سعودی عرب تعلقات کو ٹھیس پہنچی ہے، جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈائرکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بگڑتی ہوئی صورت حال کو سنبھالا دینے کے لئے بنفس نفیس ریاض پہنچے لیکن مملکت سعودی عرب کے وارث اعلیٰ محمد بن سلمان تک رسائی نہیں پا سکے۔ واضح ہو کہ محمد بن سلمان سعودی معیشت اور سماج دونوں میں کھلا پن لانے کے لئے کوشاں ہیں جس کا فائدہ اٹھا کر بھارت عالم اسلام میں اپنی پوزیشن کو زیادہ بہتر طریقے سے رکھنے کی پو زیشن میں آ گیا ہے۔ خلیجی ممالک سے بھارت کےتجارتی اور ثقافتی تعلقات بہت پہلے ہی سے قریبی اور دوستانہ رہے ہیں۔ دفاعی تعاون اس مستحکم رشتے کا ایک نیا اور مضبوط پہلو بن کر ابھر ا ہے۔
Comments
Post a Comment