پاکستان کے قومی مفادات پر فوج کا منفی اثر



پاکستان کی سیاست میں فوج کی مداخلت کا علم ہر کسی کو ہے۔ پاکستان کے عوام شاید اسے درست بھی سمجھتے رہے ہیں یا پھر انھیں یقین تھا کہ فوج عوامی اور قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ افواج پاکستان کو قریب سے جاننے والے لوگ فوجی قیادت کی ذہنیت سے واقف رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستانی عوام کے گلے میں محرومی کا طوق ڈالنے والی قوت کوئی اور نہیں بلکہ افواج پاکستان ہی ہے۔ تمام حقائق کے باوجود کچھ لوگ یہ بھی مانتے رہے ہیں کہ دنیا کی دیگر افواج کی طرح افواج پاکستان کے اندر بھی داخلی احتساب کا عمل ہوتا ہوگا۔ لیکن اب یہ حقیقت طشت از بام ہے کہ افواج پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص اعلی فوجی قیادت کو ان حقائق سے آگاہ کرنا بھی چاہے تو اسے ناپسندیدہ بلکہ اکثر اوقات مجرمانہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کے بیانات اور ان بیانات کے رد عمل میں انھیں ہراساں کیے جانے کے عمل کو اس معاملے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسد درانی کو یہ درد تب محسوس نہیں ہوا جب حسین حقانی اور ان جیسے لاتعداد لوگوں کو اسی جرم کی سزا کے طور پر ملک بدر ہونا پڑا۔ پاکستان میں فوج کی مطلق العنانیت اس حد تک پہونچ گئی ہے کہ فوج پر اٹھنے والی کسی بھی انگلی کو وہ پاکستان کی ہتک محسوس کرتی ہے۔ اسد درانی نے اپنے بیان میں ایسا کچھ بھی نہیں کہا جو لوگوں کو معلوم نہ ہو۔ تاہم ایک سابق فوجی کے ذریعہ اس طرح کا بیان عوام کے اس منفی تصور کی تصدیق کرتا ہے جو اس کے ذہن میں فوج کے حوالے سے موجود ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسد درانی کو یہ کہنا پڑا کہ اب ان کی جان کو خطرہ ہے۔ جبکہ ان سے پہلے آئی ایس آئی کے چیف رہ چکے جنرل حمید گل سرعام اس بات کا اعلان کرتے نظر آتے تھے کہ انھوں نے ہی آئی جی آئی تشکیل دے کر پاکستان میں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے اور عوام کی پسندیدہ جماعت کو حکومت سے دور رکھنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ افواج پاکستان نے پاکستان میں سیاسی مداخلت اور سپریم پاور بننے کا جو کھیل شروع کیا تھا اب اسے اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ نہ صرف یہ کہ اب فوج کے اندر ان پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ عوام اور سیاسی جماعتوں میں بھی فوج کے لیے شدید غم و غصہ دیکھا جا سکتا ہے۔ پی ڈی ایم کے جلسوں میں ایسے بے شمار بیانات سننے کو مل جاتے ہیں جن میں فوج کو اپنی سمت درست کرنے اور بصورت دیگر شدید عوامی رد عمل کے لیے تیار رہنے کی بات کہی جاتی ہے۔ 

سیاسی اور حکومتی امور میں افواج پاکستان کی مداخلت کو جہاں اس کے ناقدین کھل کر ہدف بنانے لگے ہیں وہیں فوج سے ہمدردی رکھنے والے لوگ اسے تسلیم بھی کرنے لگے ہیں کہ پاکستان میں ایک ہائبرڈ یعنی نیم فوجی حکومت ہے۔ یہ بات بھی کسی سے چھپی نہیں ہے کہ عمران خان کی پارٹی کو حکومت میں لانا بھی فوج کا ہی کارنامہ تھا۔ ایسے میں ناقدین یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ ایک طرف تو فوج آپریشن ضرب عضب کر رہی تھی اور دوسری طرف طالبان سے ہمدردی رکھنے والے عمران خان کو اقتدار کیوں سونپنا چاہتی تھی؟ 

حکومت میں افواج پاکستان کے ایک اور وفادار کارکن شیخ رشید ہیں جنہیں حال ہی میں وزیر داخلہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ شیخ رشید فوج سے اس قدر قریب ہیں کہ وہ خود کو پنڈی بوائے کہلانا پسند کرتے ہیں۔ شیخ رشید کو وزیر داخلہ کا قلمدان سونپ کر فوج پاکستان کے داخلی اور خارجی دونوں امور پر قابض ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ان کی شخصیت اور بیانات پر روشنی ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ہمدردیاں ان شدت پسند گروہوں کے ساتھ ہیں جو پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کا خونیں کھیل کھیلنا چاہتے ہیں ۔ ان حالات میں ان تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی کیونکر ممکن ہوگی جو ہمسایہ ملکوں میں دہشت گردانہ حملے کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ شیخ رشید نہ صرف یہ کہ ان تنظیموں سے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ وہ ہندوستان سے ایٹمی جنگ کے بھی خواہاں نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے میڈیا میں ان کے کئی بیانات دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی معاشی اور اقتصادی ترقی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے مشروط ہے ۔ ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کے ذریعہ اس کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے عوام کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ شیخ رشید جیسے لوگ پاکستان کے وسیع تر قومی مفادات کے لیے ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں یا پھر بوجھ کی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ