طالبان کو بدستور اپنے مفاد کےلئے استعمال کر رہا ہے پاکستان

افغانستان کے داخلی معاملات میں پاکستان کی دخل اندازیاں جاری ہیں جن کی وجہ سے افغان مذاکرات کے ذریعہ وہاں امن بحال کرنے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں اور وہاں کی سیاسی اور سماجی زندگی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان سے بدستور نالاں ہے اور پاکستان سے مانگ کر رہی ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائے۔

افغان معاملوں میں پاکستان کی بے جا مداخلت کا تازہ ترین ثبوت طالبان کے ڈپٹی پولیٹیکل لیڈر عبد الغنی برادر کا دورۂ پاکستان ہے جو انہوں نے قطر میں جاری امن مذاکرات کے دوران دیے گئے وقفے کے بیچ گزشتہ ہفتے کیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو فوٹیج میں وہ زخمی طالبان جنگجوؤں سے ملتےہوئے نظر آرہے ہیں جن کا علاج کراچی میں چل رہا ہے۔ اسی ویڈیو میں برادر یہ کہتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں کہ ان کی طرف سےامن مذاکرات میں ہونے والے تمام فیصلے پاکستان میں موجود طالبان کی شوریٰ اور علماء کونسل سے صلاح و مشورے کے بعد ہی طے پائیں گے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مزید ایک ویڈیو میں امن مذاکرات میں حصّہ لے رہے ایک دیگر طالبان لیڈر ملا فضل اخوند پاکستانی ٹریننگ کیمپ میں تربیت پا رہے طالبان جنگجوؤں کے بیچ نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کے سابق سینیٹر اور علاقائی معاملوں پر گہری نظر رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ کار افراسیاب خٹک نے اپنے ملک کے ذریعہ افغانستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازیوں کی مذمّت کی ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کی حکومت طالبان کو افغانستان میں اپنے سیاسی مفاد کو پروان چڑھانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان اپنی پرانی روش پر قائم ہیں جس کی وجہ سے خطے میں امن قائم کرنے کی مسلسل کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو پارہی ہیں۔طالبان ایک طرف امن مذاکرات میں حصّہ لے رہے ہیں اور دوسری طرف تشدد کو بڑھاوا بھی دے رہے ہیں۔ ان کے جنگجو مختلف محاذوں پر لڑنے میں مصروف ہیں۔ افراسیاب خٹک کے مطابق چونکہ طالبان لیڈرشپ تشدد کا راستہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، اس لئے نہ صرف افغانستان بلکہ پورا خطہ بے یقینی کی صورت حال سے دو چار ہے۔

افراسیاب خٹک اپنے ملک کی پالیسیوں سے بری طرح نالاں نظر آتے ہیں۔ ان کا اصل نشانہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستانی حکام اپنی منفی سوچ کو تج کر ایک وسیع تر انسانی مفاد کے پیش نظر اپنی پالیسی وضع کریں۔

افراسیاب خٹک کا یہ بھی کہنا ہے کے پشتوں تحفظ موومنٹ جیسی تنظیم کا قیام بھی دراصل پاکستانی حکام کی بے جا حرکتوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے ذریعہ پشتون قوم پر ظلم و جبر اور ان کا سیاسی استحصال اب ان کے لئے برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔چنانچہ اب وہ اس کے خلاف کھڑے ہو گئے ہے۔پاکستانی حکام ان کی مانگوں پر کان دھرنے اور ان کی شکایتوں کو دور کرنے کی بجائےان پر مزید ظلم کر رہے ہیں۔

قطر میں جاری افغان امن مذاکرات میں دیئے گئے وقفے کے فوراً بعد عبد الغنی برادر اور ملا ّ فضل اخوند کے پاکستان پہنچنے اور وائرل ویڈیوز کے ذریعہ اس کی تشہیر کا افغانستان کی حکومت نے بطور خاص نوٹس لیا ہے۔ ردعمل کے طور پر افغان وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کر اس دورے کی مذمّت بھی کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں طالبان لیڈروں اور جنگجوؤں کی موجودگی سے خطہ میں پائے جانے والے بحران اور عدم استحکام کو تقویت مل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے افغانستان میں امن بحال کرنے کی کوششیں ایک نئے طرح کے چیلنج سے دو چار ہیں۔

افغان وزارت دفاع نے پاکستان سے مانگ کی ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین شورش پسندوں کے ذریعہ استعمال نہیں ہوگی۔وزارت دفاع کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں کے لئے جو محفوظ پناہ گاہ بنا رکھی ہے اسے ختم کرنا بے حد ضروری ہے، تاکہ افغان بحران کا خاتمہ ہو اور نہ صرف افغانستان میں بلکہ پورے خطے میں امن قائم ہو سکے۔

دریں اثنا، خطہ کے دو اہم تجزیہ نگاروں نے بھی طالبان کو متنبہ کیا ہے کہ اس کی موجودہ پالیسی ، یعنی ایک طرف امن مذاکرات میں شمولیت اور دوسری طرف تشدد کا بطور ہتھیار استعمال ، نا قابل قبول ہے۔ اس سلسلے میں سید علی رضا محمودی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو بحالی امن کے لئے مضر مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جتنے بھی مذاکرات کر لئے جائیں جب تک طالبان اپنی انتہا پسند فکر میں تبدیلی نہیں لاتے، کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکلنے کی امید نہیں۔

سید اکبر آغا، جو کہ ماضی میں طالبان کے کمانڈر رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ افغانوں کو اپنی توجہ مثبت باتوں پر مرکوز رکھنی چاہیے نہ کہ تشدد کا سہارا لینا چاہیے۔ان کی رائے ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے وہاں کے عوام اپنے تنازعات آپسی میل ملاپ سے حل کریں اور باہری طاقتوں کی بے جا مداخلت کو ناکام بنائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ