طالبان اور جنوبی ایشیا کی سلامتی

سنہ 2020آخری سانسیں لے رہا ہے۔ چند دنوں میں ہم 2021 کا سورج دیکھیں گے جس کا پوری دنیا کو بڑی بے چینی سے انتظار ہے۔ کورونا کی وبا نے ہماری زندگی سے ایک سال جیسے چھین ہی لیا ہے۔ امید کیجیے کہ یہ دنیا اگلے برس خوشی کے گیت گائے گی لیکن آگے کے سال جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لئے کیسے ہوں گے اس کی کوئی گارنٹی نہیں لی جا سکتی۔

پڑوسی ملک افغانستان جو ایک طویل عرصے سے تخریب و تشدد کا شکار رہا ہے وہاں کے حالات پر سلامتی امور کے ماہرین کو ایک بڑی فکر لا حق ہے اور یہ بے وجہ نہیں۔ افغانستان میں جاری قتل و خون کے ذمہ دار طالبان اور امریکہ کے درمیان فروری 2020میں دوحہ (قطر) میں جوامن معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق جنوری 2021 یعنی بس اگلے مہینے تک افغانستان میں امریکہ اپنے فوجیوں کی تعداد 4500 سے گھٹا کر 2500 کر دے گا۔ یہ ایک طرف ۔ دوسری طرف حکومت افغانستان نے طالبان سے امن بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے پانچ ہزار طالبانی قیدیوں کو رہا بھی کر دیا ہے جس میں چار سو ایسے خطرناک طالبانی بھی شامل ہیں جن پر سنگین الزامات ہیں اور جن کی رہائی سے اول اول حکومت افغانستان کترا رہی تھی۔ ایسی رپورٹیں پہلے ہی آ چکی ہیں کہ رہا کئے گئے طالبان نے افغانستان میں اپنی تخریبی سرگرمیاں تیز تر کر دی ہیں۔

طالبان کے علاوہ افغانستان میں پچھلے چار پانچ برسوں میں ایک نئی انتہا پسند جماعت کا اضافہ ہوا ہے اور وہ ہے داعش خراسان یا ISKP ۔ یہ گروپ داعش کی ہی ایک شاخ ہے جس کی تنظیمی حیثیت بہت واضح نہیں ہے لیکن اتنا کہا جا سکتا ہے کہ داعش کے زوال کے بعد اس کے باقی ماندہ انتہا پسندوں نے صوبہ خراسان میں ایک نئے گروہ کی شکل اختیار کر لی۔ داعش خراسان کے بارے میں اقوام عالم کو شاید زیادہ نہیں معلوم کیونکہ اس کی تشکیل عراق اور سیریا میں داعش کے زوال کے بعد ہوئی ہے اور اس کے پنپنے کا علاقہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کا کوریڈور ہے اور ظاہر ہے کہ اسے محض ایک اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کا ایک پختہ ثبوت اس سال اپریل میں دنیا کے سامنے آ گیا۔ جب افغانستان کی قومی سلامتی کے محکمہ نے داعش کے ایک خود ساختہ اعلی کمانڈر منیب کو گرفتا ر کیاجو پاکستانی کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ اس نے داعش خراسان اور آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر کام کر نے کا راز فاش کیا ۔

داعش کے بڑھتے ہوئے اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان کے غیرمطمئن انتہا پسند بھی اس میں ہی شامل ہو رہے ہیں اور اس کے خطرناک عزائم کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان میں کئی حملوں میں اس کا براہ راست ہاتھ رہا ہے۔ سب سے حالیہ واقعہ جلال آباد میں اس ماہ کے دس دسمبر کو یعنی کوئی دو ہفتہ پہلے پیش آیا جب ریڈیو اور ٹی وی کی مشہور خاتون صحافی ملالائی مائیوند کو داعش کے دہشت گردوں نے ہلاک کر کر دیا۔





جلال آباد جیل کے حملہ آوروں نے جو ویڈیو جاری کیا وہ دری یا پشتو زبان میں نہیں بلکہ اردو میں تھی۔ اردو پاکستان کے علاوہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے خطے کی زبان ہے ۔ جموں و کشمیر کی تو یہ سرکاری زبان بھی ہے اور ریاست جموں و کشمیر تا حال پاکستان اور اس کی پشت پناہی پر چل رہی سبھی دہشت گر د تنظیموں کا سب سے بڑا نشانہ ہے ۔ ISKPنے بھارتی علاقوں میں اپنے اثرات بڑھانے کے لئے فروری 2020 سے صوت الہند نامی ایک رسالہ بھی نکالنا شروع کر دیا ہے جو اردو، ہندی اور بنگلہ میں اپنی جہادی سرگرمیوں کی تشہیر کر رہا ہے۔ اس کے ایک شمارہ میں غزوہ ہند کی تیاری کے زیر عنوان کشمیر میں بھارت کے خلاف جدو جہد کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ وہ تین زبانیں ہیں جنہیں بھارت کی بہت بڑی آبادی جانتی ہے۔ جس سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ وہ مستقبل میں بھارت میں اپنی سرگرمی کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

اگر افغانستان میں امن کےنام پرطالبان کو دوبارہ کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا تو پھر ہندوستان کو اپنی سلامتی پر نئے سرے سے غور کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے لیے یہ بہت آسان ہو گا کہ وہ طالبان کو بھارت کے خلاف استعمال کرے ۔ سلامتی ماہرین و مبصرین نے پہلے ہی انتباہ دے دیاہے کہ امریکہ طالبان معاہدہ کے بعد پاکستان میں سرگرم انتہا پسند تنظیموں مثلاً لشکر طیبہ، جیش محمد ، طالبان اور حقانی نیٹ ورک نے افغانستان میں بھارت کے مفادات کے خلاف مل کر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی پاکستان کے لئے یہ بھی بہت آسان ہو گا کہ داعش خراسان کو بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لئے وہ کشمیر کے مسٔلے کو ملت اسلامیہ کا وسیع مسئلہ بنا کر پیش کرے جس پر وہ داعش اور لشکر طیبہ دونوں کو یکجا کر سکتا ہے۔ چنانچہ طالبان اور امریکہ کے معاہدہ کو محض افغانستان میں "قیام امن" کی کوشش کے طور پردیکھنا پوری طرح صحیح نہیں ہو گا ۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ