نیپال میں سیاسی اتھل پتھل
نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے پارلیمنٹ کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے سے تقریباً دو سال قبل ہی اسے تحلیل کرنے کی سفارش کردی۔ ان کے اس اقدام سے ملک میں سیاسی بحران سا پیدا ہوگیا ہے۔ دراصل حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی کا ناراض گروپ جس کی قیادت پارٹی کے ایگزیکٹیو چیئرمین اور سابق وزیراعظم پشپ کمل دہل کررہے ہیں، وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہا تھا۔ اس کا الزام ہے کہ جناب اولی کا کام کرنے کا انداز آمرانہ ہے۔ وہ ایک ڈکٹیٹر کی طرح سے کام کرتے ہیں۔ ان کی قیادت میں بدانتظامی اور بدعنوانی اپنے شباب پر ہے۔ وہ کووڈ-19 جیسی عالمی وبا کا بھی مؤثر طور پر مقابلہ نہیں کرسکے۔ اپنی کابینہ کی ایک ہنگامی میٹنگ کے بعد جناب اولی نے صدر بدیادیوی بھنڈاری سے ایوان نمائندگان کو تحلیل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے آئندہ سال 30 اپریل اور دس مئی کو تازہ پارلیمانی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ صدر بدیادیوی نے بھی اس سفارش اور تازہ انتخابات کی تجویز کو منظوری دیدی ہے۔
کابینہ کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دہل اور مادھو نیپال دھڑے سے تعلق رکھنے والے سات وزراء نے استعفیٰ دےدیا۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں تین پٹیشنس بھی دائر کی گئی ہیں۔
جناب اولی کے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے اچانک فیصلے سے قبل یہ خبر گرم تھی کہ ایوان نمائندگان میں جناب دہل کی قیادت میں حکمراں پارٹی کے تقریباً 90 ارکان وزیراعظم اولی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ ان ارکان کا جناب دہل کو نیا وزیراعظم بنانے کا منصوبہ تھا۔ حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی کی پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت ہے۔ پارلیمنٹ کی کل 275 نشستوں میں سے 174 نیپال کمیونسٹ پارٹی کے پاس ہیں پھر بھی وزیراعظم اولی کی حکومت کو بار بار نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اس پر مختلف الزامات عائد کئے جاتے تھے۔ خبروں کے مطابق پارٹی فورموں میں وہ اقلیت میں آگئے تھے۔ 9 ارکان پر مشتمل سکریٹریٹ ہو، 44 ارکان والی اسٹینڈنگ کمیٹی ہو یا 445 ارکان والی سینٹرل کمیٹی، وہ ہر جگہ اقلیت میں تھے۔ جناب اولی نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا جو فیصلہ لیا اس کے لئے اسٹینڈنگ کمٹیی نے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اس سلسلے میں جب جناب اولی کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے طلب کیا گیا تو وہ حاضر نہیں ہوئے۔ بعد میں ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیراعظم کی حیثیت سے کام نہیں کرنے دیا جارہا تھا حالانکہ ان کی حکومت اکثریت میں تھی، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ تحلیل کرکے تازہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے پاس یہی بہترین جمہوری راستہ تھا۔ انہوں نے اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کو غیرآئینی قرار دیا۔
حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی مئی 2018 میں اولی کی قیادت والی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال اور دہل کی قیادت والی ماؤئسٹ (Maoist) پارٹی کے انضمام کے بعد وجود میں آئی تھی۔ لیکن زمینی سطح پر ان دونوں دھڑوں میں تال میل پیدا نہ ہوسکا۔ دونوں پارٹیوں نے 2017 میں پارلیمانی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مل کرلڑے اور نہ صرف پارلیمنٹ کے انتخابات میں فتح حاصل کی بلکہ 7 میں سے چھ صوبائی اسمبلیوں پر بھی قبضہ کرلیا۔
2015 میں نئے آئین کے وجود میں آنے کے بعد 2017 کے عام انتخابات کے موقع پر کمیونسٹوں نے عوام سے امن واستحکام کا وعدہ کیا تھا لیکن افسوس کہ یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکا۔ پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت کے باوجود اولی حکومت پارٹی کے اندرونی جھگڑوں کا ہمیشہ شکار رہی۔ اس سال اپریل اور مئی اور پھر اگست اور ستمبر میں بھی پارٹی ٹوٹنے کے دہانے پر تھی تاہم غیرملکی طاقتوں کی مداخلت نے اولی کو بچالیا۔ لیکن 22 اکتوبر کواولی اور پراچنڈ نے کٹھمنڈو میں اپنے اپنے حامیوں کی الگ الگ میٹنگ کرکے یہ اشارہ دے دیا کہ نیپال کمیونسٹ پارٹی دراصل اب ٹوٹ چکی ہے جس کا مرکزی دفتر اب بند پڑا ہے۔
اب تمام نگاہیں ملک کے سپریم کورٹ پر مرکوز ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے متعلق پٹیشن کا نپٹارا کس طرح کرتا ہے، نیپال میں آئین کے ماہرین کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا اقدام غیرآئینی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق ہی پارلیمنٹ کو تحلیل کیا جاسکتا ہے اور آئین میں اس طرح کا کوئی بھی التزام نہیں ہے کہ حکمراں اکثریتی پارٹی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی سفارش کرسکتی ہے جس کی پانچ سال کی معینہ مدت ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جون 1994 میں منموہن ادھیکاری کی قیادت والی سی پی این (یو ایم ایل) کی اقلیتی حکومت نے پارلیمنٹ کو تحلیل کردیاتھا لیکن جب اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو وہ دوبارہ بحال کردی گئی تھی۔
نیپال کی موجودہ صورتحال پر بھارت نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارت اپنے دوست اور پڑوسی ملک کے امن واستحکام اور اس کی معاشی خوشحالی کا ہمیشہ خواہاں رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ نہ صرف نیپال بلکہ تمام جنوبی ایشیاء میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہو۔
کابینہ کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دہل اور مادھو نیپال دھڑے سے تعلق رکھنے والے سات وزراء نے استعفیٰ دےدیا۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں تین پٹیشنس بھی دائر کی گئی ہیں۔
جناب اولی کے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے اچانک فیصلے سے قبل یہ خبر گرم تھی کہ ایوان نمائندگان میں جناب دہل کی قیادت میں حکمراں پارٹی کے تقریباً 90 ارکان وزیراعظم اولی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ ان ارکان کا جناب دہل کو نیا وزیراعظم بنانے کا منصوبہ تھا۔ حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی کی پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت ہے۔ پارلیمنٹ کی کل 275 نشستوں میں سے 174 نیپال کمیونسٹ پارٹی کے پاس ہیں پھر بھی وزیراعظم اولی کی حکومت کو بار بار نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اس پر مختلف الزامات عائد کئے جاتے تھے۔ خبروں کے مطابق پارٹی فورموں میں وہ اقلیت میں آگئے تھے۔ 9 ارکان پر مشتمل سکریٹریٹ ہو، 44 ارکان والی اسٹینڈنگ کمیٹی ہو یا 445 ارکان والی سینٹرل کمیٹی، وہ ہر جگہ اقلیت میں تھے۔ جناب اولی نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا جو فیصلہ لیا اس کے لئے اسٹینڈنگ کمٹیی نے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اس سلسلے میں جب جناب اولی کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے طلب کیا گیا تو وہ حاضر نہیں ہوئے۔ بعد میں ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیراعظم کی حیثیت سے کام نہیں کرنے دیا جارہا تھا حالانکہ ان کی حکومت اکثریت میں تھی، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ تحلیل کرکے تازہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے پاس یہی بہترین جمہوری راستہ تھا۔ انہوں نے اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کو غیرآئینی قرار دیا۔
حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی مئی 2018 میں اولی کی قیادت والی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال اور دہل کی قیادت والی ماؤئسٹ (Maoist) پارٹی کے انضمام کے بعد وجود میں آئی تھی۔ لیکن زمینی سطح پر ان دونوں دھڑوں میں تال میل پیدا نہ ہوسکا۔ دونوں پارٹیوں نے 2017 میں پارلیمانی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مل کرلڑے اور نہ صرف پارلیمنٹ کے انتخابات میں فتح حاصل کی بلکہ 7 میں سے چھ صوبائی اسمبلیوں پر بھی قبضہ کرلیا۔
2015 میں نئے آئین کے وجود میں آنے کے بعد 2017 کے عام انتخابات کے موقع پر کمیونسٹوں نے عوام سے امن واستحکام کا وعدہ کیا تھا لیکن افسوس کہ یہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکا۔ پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت کے باوجود اولی حکومت پارٹی کے اندرونی جھگڑوں کا ہمیشہ شکار رہی۔ اس سال اپریل اور مئی اور پھر اگست اور ستمبر میں بھی پارٹی ٹوٹنے کے دہانے پر تھی تاہم غیرملکی طاقتوں کی مداخلت نے اولی کو بچالیا۔ لیکن 22 اکتوبر کواولی اور پراچنڈ نے کٹھمنڈو میں اپنے اپنے حامیوں کی الگ الگ میٹنگ کرکے یہ اشارہ دے دیا کہ نیپال کمیونسٹ پارٹی دراصل اب ٹوٹ چکی ہے جس کا مرکزی دفتر اب بند پڑا ہے۔
اب تمام نگاہیں ملک کے سپریم کورٹ پر مرکوز ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے متعلق پٹیشن کا نپٹارا کس طرح کرتا ہے، نیپال میں آئین کے ماہرین کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا اقدام غیرآئینی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق ہی پارلیمنٹ کو تحلیل کیا جاسکتا ہے اور آئین میں اس طرح کا کوئی بھی التزام نہیں ہے کہ حکمراں اکثریتی پارٹی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی سفارش کرسکتی ہے جس کی پانچ سال کی معینہ مدت ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جون 1994 میں منموہن ادھیکاری کی قیادت والی سی پی این (یو ایم ایل) کی اقلیتی حکومت نے پارلیمنٹ کو تحلیل کردیاتھا لیکن جب اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو وہ دوبارہ بحال کردی گئی تھی۔
نیپال کی موجودہ صورتحال پر بھارت نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارت اپنے دوست اور پڑوسی ملک کے امن واستحکام اور اس کی معاشی خوشحالی کا ہمیشہ خواہاں رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ نہ صرف نیپال بلکہ تمام جنوبی ایشیاء میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہو۔
Comments
Post a Comment