پاکستان میں اپوزیشن قانون سازوں کا اجتماعی استعفیٰ متوقع

پاکستان میں اپوزیشن پارٹیوں اور حکومت کے درمیان ہونے والی رسہ کشی تھمتی نظر نہیں آتی۔ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول اول دن سے ہی چلا آرہا ہے کیونکہ 2018میں جو عام انتخابات ہوئے تھے ان میں ہر طرف یہ محسوس کیا گیاتھا کہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان کے حق میں کام کیا تھا اور اس بات کی کوشش کی تھی کہ دوسری مین اسٹریم پارٹیوں کو نقصان پہنچے۔ یہ بات الیکشن کے دوران پاکستانی میڈیا، پاکستان انسانی حقوق کمیشن اور غیر ملکی مشاہدین نے بھی کہی تھی۔ بلکہ میڈیا پر تو اسٹیبلشمنٹ کا زبردست دباؤ تھا اور دیانتدار صحافیوں کو پریشان بھی کیا گیا اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔ چونکہ فوج اور نواز شریف اور ان کی پارٹی کے درمیان محاذ آرائی کا ماحول تھا اور یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ فوج انہیں ہر حال میں اقتدار سےدور رکھنا چاہتی ہے اس لئے عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے وہ ہر طرح کے جتن کر رہی تھی۔ بہر حال نتائج کچھ ایسے ہی آئے، جن کے سہارے عمران خان وزیراعظم تو بن گئے لیکن انہیں اتنی سیٹیں ان کی پارٹی نے نہیں جیتی تھیں کہ یہ کہا جاسکے کہ انہیں زبردست مینڈیٹ ملا ہے۔ عمران خان چونکہ فوج کے حامی رہے ہیں، اس لئے فوج بھی ہر قدم پر ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ بطور وزیراعظم عمران خان نے عوام پر کوئی اچھا اثر مرتب نہیں کیا بلکہ ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئے۔ اپوزیشن پارٹیاں انہیں ‘سلیکٹیٹ’ وزیراعظم کہتی ہیں اور ان کا الزام ہے کہ فوج نے ہی مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرکے انہیں مسندِ اقتدار پر بٹھایا ہے۔

دو تین ماہ قبل پاکستان کی خاص اپوزیشن پارٹیوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا پی ڈی ایم نام کا ایک اتحاد قائم کیا، جس کا خاص مطالبہ ہے کہ فوج سیاست میں کسی طور پر دخل اندازی نہ کرے اور یہ کہ عمران خان انتخابی دھاندلی کے ذریعہ وزیراعظم بنائے گئے ہیں، اس لئے انہیں استعفیٰ دے کر دوبارہ انتخابات کرانے چاہئیں۔ اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے انہوں نےپاکستان کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات اور ریلیوں کا اہتمام کیا۔ چند روز بعد لاہور میں ایک ریلی ہونے والی ہے۔ اس سے قبل گوجرانوالا، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ملتان میں بھی بڑی بڑی ریلیاں ہوئی تھیں جن میں عوام بہت بڑی تعداد میں شریک ہوئے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور فوج کی پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں،کیونکہ گیارہ پارٹیوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کے تمام وہ ممبران جو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رکن ہیں، اجتماعی طور پر اپنی رکنیت سے استعفیٰ دیں گے۔ اس اپوزیشن اتحاد کےسربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ منگل کو یہ اعلان کیا کہ اس بات پر اتفاق رائے ہوا ہے کہ تمام ممبران اپنا اپنا استعفیٰ 31 دسمبر تک اپنی اپنی پارٹیوں کے سربراہوں کو سونپ دیں گے۔ انہوں نے جب یہ اعلان کیا تو پاکستان مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری بھی ان کے قریب ہی تھے۔ مولانا کے مطابق یہ فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کہ اسمبلیوں کو خیرباد کس تاریخ کو کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم کے لیڈران نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ 13دسمبر کو لاہور میں بھی ایک بہت بڑی ریلی کا اہتمام کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے اجتماعات میں عوام جتنی بڑی تعداد میں اور جس جوش وخروش سے حصہ لے رہےہیں، اس سےتو یہی لگتا ہے کہ وہ موجودہ حکومت سے حد درجہ نالاں ہیں۔ حکومت تقریباً ہرمحاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ خاص طور سے اقتصادی معاملات میں اس نے عوام کو بہت مایوس کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بے ایمانی اور بدعنوانی کے معاملے میں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف جس طرح کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عمران حکومت کرپشن سے لڑنےکے نام پر صرف اپوزیشن سے انتقام لینےکی پالیسی اپنارہی ہے ، جس سے عوام میں یہی پیغام جا رہا ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئےاپوزیشن کے لیڈروں کو جیلوں میں بند کر رہی ہے اور اس کے لئے ریاست کے مختلف اداروں پر دباؤ ڈال کراپنا مقصد پورا کر رہی ہے۔ دوسری طرف عمران خان بظاہر اپنے آپ کو مضبوط وزیر اعظم ثابت کرنے کے لئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن لیڈران شوق سے استعفیٰ دیں لیکن وہ وسط مدتی انتخابات ہر گز نہیں کرائیں گے۔ ان کے استعفیٰ دینے کے بعد جو سیٹیں خالی ہوں گی، ان پر ضمنی انتخابات کرائے جائیں گے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اپوزیشن کی دھمکیوں میں آکر وہ قومی مصالحتی آرڈر جاری کردیں گے تو یہ اس کی خام خیالی ہوگی۔ جو لوگ کرپشن میں ملوث رہے ہیں، وہ بچ نہیں پائیں گے۔

آثار یہی بتاتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست ٹکراؤ ہوسکتا ہے۔ چونکہ عمران حکومت اور فوج کے درمیان مکمل ‘ہم آہنگی’ ہے اس لئے فوج کے اگلے قدم پر بھی لوگوں کی نظر رہے گی کیونکہ اپوزیشن کا احتجاج بنیادی طورپر فوج کی سیاسی امور میں بےجا مداخلت ہی کے خلاف ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ