موضوع :ہند چین تعلقات میں پیش رفت کے لئے امن و آشتی کی فضابے حد ضروری

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کہا کرتے تھے، ’دوست بدلے جا سکتے ہیں، پڑوسی نہیں۔‘پڑوسی سے رشتہ استوار کرنے کے لیے ہی وہ 21 فروری 1999 کو لاہور گئے تھے مگر دو مہینے بعد ہی پاکستان کے فوجیوں نے کارگل کی جنگ چھیڑ دی۔ ہندوستان کو ’آپریشن وجے‘کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ حکومت ہند کے لیے یہ ایک تلخ تجربہ تھا لیکن ماضی کی تلخیوں میں مقید رہنا اس نے پسند نہیں کیا۔ پڑوسی سے بہتر تعلقات کے لیے حکومت ہند نے آگرہ اجلاس کا انقاد کیا۔ یہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ اور پھر پی ایم مودی نے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی، کامیابی نہیں ملی۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ ہندوستان نے بار بار پاکستان کو موقع دیا مگر اپنی زمین سے دہشت گردی ختم کرنے میں وہ ناکام رہا۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنوں کا خون بہتے ہوئے دیکھنا ہندوستان کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا تو اسے جواب دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ جوابی کارروائی یہ اشارہ تھی کہ ہندوستان کمزور نہیں ہے، وہ جواب دینے کا اہل ہے، البتہ مسئلوں کے حل کے لیے مذاکرات کو اہمیت دیتا ہے۔

ہر ملک مستحکم سے مستحکم تر بننا چاہتا ہے۔ ایسا چاہنا غلط نہیں، غلط ہے استحکام کا توسیع پسندی کی وجہ بن جانا۔ اقتصادی اور دفاعی طور پر مستحکم بن جانے کے باوجود بقائے باہم کی ہندوستان کی پالیسی نہیں بدلی، البتہ اقتصادی اور دفاعی استحکام کے ساتھ چین کی توسیع پسندی میں شدت آتی جا رہی ہے۔ بحیرۂ شرقی چین میں اس نے جاپان اور جنوبی کوریا کے علاقوں پر دعویٰ کر رکھا ہے تو بحیرۂ جنوبی چین میں برونئی، تائیوان، انڈونیشیا، ملیشیا، فلپائن اور ویتنام کے علاقوں کو وہ اپنا بتاتا ہے۔ چینی دعوؤں کی اصل وجہ ان علاقوں کا اہمیت کا حامل ہونا ہے۔ جنوبی بحیرۂ چین عالمی گزرگاہ ہے۔ دنیا کی ایک تہائی تجارت یعنی سالانہ 3 ٹریلین امریکی ڈالر کی تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ بحیرۂ جنوبی چین کا علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اس علاقے میں کافی مچھلیاں ہیں۔ یہ عوامل ایسے نہیں کہ بحیرۂ جنوبی چین پر چین کی دعویداری کی وجہ بنیں مگر اس کے لیے اہمیت مفاد کی ہے، چین کی توسیع پسندی اب عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں رہی۔ گلوان واقعہ بھی اسی توسیع پسندی کے سبب پیش آیا مگر ہندوستان کی کوشش تنازعات کا پرامن حل مذاکرات کی میز پر نکالنے کی رہی ہے، گلوان تنازع کا حل بھی وہ مذاکرات کی میز پر ہی نکالنا چاہتا ہے۔ اس کے تحمل سے عالمی برادری ششدر ہے مگر امن پسندی کا امتحان برے وقت میں ہی ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس- جے شنکر کا کہنا ہے کہ ’میرا یقین اس بات پر ہے کہ ہم حقیقت پسندی کی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے یہ قبول کرنے میں کبھی شرمندگی محسوس نہیں کی کہ اختلافات ہیں لیکن چیلنج یہ ہے کہ جب اختلافات ہوں تو پھر ان پر کام کرنا چاہیے اور انہیں کم کرنا چاہیے، بدترنہیں بنانا چاہیے اور ان پر تنازعات نہیں ہونے چاہئیں‘ یہی وجہ ہے کہ گلوان پر مذاکرات اعلیٰ سطح پر بھی ہو رہے ہیں۔

اس بات سے عدم اتفاق کی گنجائش نہیں ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا احترام ہندوستان اور چین دونوں کو کرنا چاہیے۔ گزشتہ 6 برس میں چینی سربراہ شی جن پنگ سے وزیراعظم نریندر مودی کی 18 ملاقاتوں کے بارے میں ڈاکٹر شنکر کا یہ کہنا بجا ہے کہ ’اگر ہم کسی سے ملتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ اور صرف اس لیے کہ میں کسی سے ملا اور کوئی ایشو ہوتا ہے جیسا کہ ہمارا لداخ میں ایل اے سی پر ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم نے اختلافات کا اندازہ لگانے میں بھول کی۔‘ ہندوستان کے وزرائے اعظم کی شروع سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ کوتاہی ان کی طرف سے نہ ہو، تعلقات کی استواری یا تنازعات کے خاتمے کے لیے پہل ان کی طرف سے ہو، چنانچہ 2014 میں حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اسی لیے مدعو کیا گیا تھا۔ پی ایم نریندر مودی نے لاہور کا دورہ اسی مقصد سے کیا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین دوستانہ تعلقات قائم ہوں۔ اسی لیے گلوان تنازع کا حل بھی وہ مذاکرات سے نکالنا چاہتا ہے۔

ٹوکیو میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا تھا، ’میں کواڈ کو چین کے خلاف ایک اتحاد کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔‘ مگر ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس- جے شنکر کا کہنا ہے ، ’میں سوچتا ہوں کہ مختلف لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں۔ میں اُس بات کے لیے ذمہ دار ہوں جو میں نے کہی۔ ‘ کواڈ کو ڈاکٹر شنکر سفارتی پلیٹ فارم پر مثبت ایجنڈے اور سفارتی میکانزم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لداخ میں تنازع کے سلسلے میں ڈاکٹر ایس- جے شنکر کی یہ بات مثبت ہے کہ ’ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ تعلقات میں پیش رفت کا انحصار سرحدوں کے سوال کو حل کرنے پر ہے لیکن اس کا انحصار واضح طور پر امن و آشتی قائم رکھتے ہوئے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں ہے۔‘مگر یہ سوال جواب طلب ہے کہ کیا چین ایک اچھے پڑوسی کی اہمیت سے واقف ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ