Posts

گلگت۔بلتستان کی حیثیت تبدیل کرنے کی پاکستانی کوشش کو ہندوستان نےسختی سے کیا مسترد

اس ماہ کی پہلی تاریخ کو پاکستان نےگلگت۔بلتستان کوعارضی صوبے کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ اس علاقہ کو اس سےپہلے شمالی علاقوں کےنام سے جانا جاتا تھا۔ گلگت۔بلتستان مقبوضہ کشمیر کا ایک حصہ ہے جس پر پاکستان نے ناجائز اور غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ ہندوستان نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کےاس اعلان پرسخت رد عمل ظاہر کرتےہوئےاسلام آباد کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔وزارت خارجہ کےترجمان انو راگ سریواستو نے کہا کہ نئی دہلی اس ہندوستانی علاقے کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی پاکستانی کوشش کو سختی سے مسترد کرتاہے جس پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے۔ انہوں نےپاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام علاقوں کو فوری طورپر خالی کردے جن پر اس نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ایسے علاقوں پرکوئی حق نہیں ہے اور حکومت پاکستان کے تازہ ترین اقدام سےاس علاقہ میں جاری حقوق انسانی کی شدید خلاف ورزیوں کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ جناب سریواستو نےکہا کہ 1947میں جموں وکشمیر کےیونین آف انڈیاکےساتھ قانونی اورمکمل الحاق کی رو سے گلگت۔بلتستان سمیت جموں وکشمیر کے مرکز کے زیرانتظام علاقے اور لداخ ہن...

افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد صورتحال کے بد تر ہونے کا امکان

اب ہر طرف یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان جو سمجھوتہ ہوا وہ کئی راؤنڈ کے مذاکرات کے بعد قطعی شکل میں سامنے آیا تھا لیکن یہ اندیشہ ہر مرحلے میں ظاہر کیا جاتا رہا کہ افغان طالبان پر بھروسہ کرنا مشکل ہے کیونکہ انہوں نے تشدد کا راستہ کبھی ترک نہیں کیا تھا۔ یہ بات بھی محسوس کی جاتی رہی کہ طالبان صرف کاغذی سطح پر مذاکرات میں شریک ہورہے ہیں لیکن درپردہ ان کا یجنڈا کچھ اور ہی ہے۔ پانچ چھ سال قبل افغانستان سے بڑی تعداد میں جب امریکی فوجیں واپس چلی گئی تھیں تو پاکستان میں اپنی پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے طالبان وہیں سے حملے کی منصوبہ بندی کرتے اور افغانستان میں سیکورٹی فورسز اور سویلین کو نشانہ بناتے۔ ان کے حملے اتنے بڑھ گئے کہ کئی بار افغان صدر کو پاکستانی حکمرانوں سے یہ کہنا پڑا کہ وہ طالبان کو قابو میں کرنے کی کوشش کریں اور ایک پڑوسی کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں لیکن ان باتوں کا کبھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ صدر ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق کئی فیصلے کئے۔ پہلے تو انہوں نے پاکس...

پلوامہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا اعتراف

پاکستان یکے بعد دیگرے اپنے ہی بنے ہوئے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی ریلیوں کی کامیابی سے اسٹیبلشمنٹ کی گھبراہٹ اور جھنجھلاہٹ مختلف شکلوں میں اب ظاہر ہونے لگی ہے حالانکہ اس پر پردہ ڈالنے کی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔ مریم نواز کے شوہر کو ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر اٹھائے جانے کا معاملہ ہو یا سندھ کے آئی جی کے اغوا کا معاملہ ، اس سے اور کچھ بھلے ہی نہ معلوم ہو لیکن اتنا ضرور واضح ہوتا ہے کہ حکمراں طبقہ پوری طرح حواس باختہ ہو چکا ہے اور اس میں فیصلہ لینے کی صلاحیت باقی نہیں بچی ہے۔ بڑی مشکل سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچا ہے لیکن مجموعی طور پر اس کی پالیسی دنیا اور اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ہی رہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ لوگ خود پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں لیکن حکومت کا رویہ اب بھی دہشت گردوں کے تئیں نہیں بدلا۔ پڑوسی ممالک خواہ افغانستان ہو ایران ہو یا ہندوستان، اس کی اس پالیسی کو دو طرفہ بات چیت کے دوران اور عالمی اداروں میں بھی بڑی شد ومد سے اٹھاتے رہے ہیں کہ پاکستان جب تک دہشت گردوں کی پشت پناہی ترک نہیں کرت...

عمران خان کی، نام نہا، امن مذاکرات کی پیش کش

آج کل پاکستان میں عمران حکومت نیز فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان محاذ آرائی کا سلسلہ چل رہا ہے جو ظاہر ہے وہاں کا گھریلو معاملہ ہے۔ اس سے پہلے جب نواز شریف کی حکومت تھی اور عمران خان اپوزیشن میں تھے تو اس وقت بھی اسی طرح کی محاذ آرائی چل رہی تھی اور عمران خان اور ان کی پارٹی نے زبردست مہم اس وقت کی حکومت کے خلاف چلائی تھی اور راجدھانی اسلام آباد کو کئی روز تک معطل کرکے رکھ دیا تھا۔ وہ بھی پاکستان کا اندرونی معاملہ تھا۔ کسی اور ملک سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ لیکن اب جبکہ عمران خان ہندوستان پر طرح طرح کے الزام لگانے میں مصروف ہوگئے، کبھی انہوں نے یہ کہا کہ نواز شریف ہندوستان کے اشارے پر پاکستانی فوج کو کمزور کرنے کی سازش کررہے ہیں اور کبھی پاکستان کے مسلکی جھگڑوں کا سلسلہ بھی انہوں نے ہندوستان سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی، لیکن ظاہر ہے اس طرح کی کھوکھلی باتوں اور اوچھے الزامات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے کہ ا یسی باتوں سے ان کا فرسٹریشن لوگوں کے سامنے بے نقاب ہوتا ہے۔ بہرحال، اب انہوں نے ایک نیا شوشہ یہ چھوڑا ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے تیار ہیں اگ...

چین کی نیوکلیائی توسیع پسندی اور سنکیانگ

پچھلی دو تین دہائیوں میں چین دنیا کی ایک بہت بڑی معیشت بن کر ابھرا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اس کے سامراجی عزائم سے دنیا میں نقص امن کا کتنا بڑاخطرہ ہے۔ چین اپنی سامراجیت قائم کرنے کے لئے اپنے پڑوسی ممالک سے بھی ہمیشہ بر سر پیکار رہتا ہے۔ ساؤتھ چائنا سی (South China Sea) پر قبضہ جمانے کے لئے اس نے فلپائین، کوریا یہاں تک کہ امریکہ سے بھی دشمنی مول لےرکھی ہے ۔ وہیں بیٹھے بٹھائے وہ بھارت جیسے ایک ملک، جسے اپنی سرحدیں بڑھانے کا کوئی شوق نہیں ہے، اور جو دنیا میں امن و امان چاہتا ہے، اس کے خلاف بھی کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں گلوان ویلی میں چینی فو جیوں نے جس طرح ہندوستانی فوجیوں پر بے وجہ حملہ کیا اور جس جھڑپ میں 20 ہندوستانی فوجی شہید ہوئے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی طاقت کا بھونڈا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ اور بات کہ ہندوستانی فوجیوں نے بھی منہ توڑ جواب دیا اور چین کو جتا دیا کہ بھارت اب اس سے دبنے والا نہیں ہے۔ اس کی فوج چین سے لوہا لینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے ۔ بھارت کے اس موقف کی دنیا بھر میں حمایت ہوئی ہے۔ اب سے صرف چند روز پہلے امریکی وزیر خارجہ...

موضوع: ہندوستانی معیشت میں بہتر ی کے آثار

وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ تہوار کے مہینوں میں اشیائے صرف کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں اکتوبر سے لے کر مارچ تک کی مدت کو تہوارں کا موسم تصور کیا جاتا ہے۔ نکّی مینوفیکچرنگ پرچیز منیجر کےاشاریہ پی ایم آئی کا حوالہ دیتےہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ کووڈ-19 وبا پھیلنے کے بعد عائد کی گئی پابندیوں میں چھوٹ دینے اور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے متعدد اقدامات کے بعد ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پی ایم آئی ریڈنگ (Reading)اگرپچا س سےاوپر ہےتو اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے اور اگر ریڈنگ پچاس سے نیچے ہوئی تو سمجھ لیجئے کہ اس میں گراوٹ آرہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ جائزوں کے مطابق اگست میں پی ایم آئی کی ریڈنگ 52 تھی جو ستمبر میں بڑھ کر 56 اعشاریہ آٹھ ہوگئی۔ یہ ریڈنگ جنوری 2020 سے لے کر اب تک سب سے زیادہ تھی۔  تہوار کے موسم میں کاروں کی فروخت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور ملک کے کچھ حصوں میں دو پہیاں گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ برآمدات خاص طور پر زرعی برآمدات میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ زرمباد...

پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی نئی لہر

گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا میں دہشت گردی ایک لعنت بنی ہوئی ہے ۔دہشت گردی کے واقعات کہیں بھی پیش آئیں وہ قابل مذمت ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے بیشتر بے قصور افراد کی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور معاشی سطح پر نقصان بھی ہوتاہے ۔لیکن ایسے وقت یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے جب دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ایک ملک خود اس کا شکار ہوجائے ۔پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخوا کی راجدھانی پشاور کے ایک مدرسہ میں پیش آنے والا دہشت گردی کا واقعہ انتظامیہ اور دہشت گردوں کے مابین طویل عرصہ تک جاری گہرے روابط کا شاخسانہ ہے ۔اس واقعہ میں آٹھ افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے ہیں جن میں طلبا اور اساتذہ شامل ہیں ۔پی ڈی ایم کے سربراہ اور قائد جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے بالکل صحیح کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دہشت گردی کو ختم کر دینے کے تمام دعوے کھوکھلے اور بے معنی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا حالیہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ گزشتہ ماہ بھی خیبر پختو نخوا میں دھماکے ہوئے تھے اور ان میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے ۔29 ستمبر کو صوبہ خیبر پختو نخوا میں 24 گھنٹے کے اندر دودھماکے ہوئے تھے...