گلگت۔بلتستان کی حیثیت تبدیل کرنے کی پاکستانی کوشش کو ہندوستان نےسختی سے کیا مسترد
اس ماہ کی پہلی تاریخ کو پاکستان نےگلگت۔بلتستان کوعارضی صوبے کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ اس علاقہ کو اس سےپہلے شمالی علاقوں کےنام سے جانا جاتا تھا۔ گلگت۔بلتستان مقبوضہ کشمیر کا ایک حصہ ہے جس پر پاکستان نے ناجائز اور غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ ہندوستان نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کےاس اعلان پرسخت رد عمل ظاہر کرتےہوئےاسلام آباد کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔وزارت خارجہ کےترجمان انو راگ سریواستو نے کہا کہ نئی دہلی اس ہندوستانی علاقے کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی پاکستانی کوشش کو سختی سے مسترد کرتاہے جس پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے۔ انہوں نےپاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام علاقوں کو فوری طورپر خالی کردے جن پر اس نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ایسے علاقوں پرکوئی حق نہیں ہے اور حکومت پاکستان کے تازہ ترین اقدام سےاس علاقہ میں جاری حقوق انسانی کی شدید خلاف ورزیوں کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ جناب سریواستو نےکہا کہ 1947میں جموں وکشمیر کےیونین آف انڈیاکےساتھ قانونی اورمکمل الحاق کی رو سے گلگت۔بلتستان سمیت جموں وکشمیر کے مرکز کے زیرانتظام علاقے اور لداخ ہندوستان کےاٹوٹ حصے ہیں۔
گلگت۔بلتستان جموں وکشمیر میں کافی اونچائی پر واقع ہے۔ یہ مقبوضہ کشمیر سےتقریباً پانچ گنا بڑاہے لیکن یہاں کی آبادی زیادہ نہیں ہے۔ یہ وہ علاقہ ہےجوپاکستان کو زمین کےراستےچین سے جوڑتا ہے۔ گلگت۔بلتستان میں اس ماہ کی 15 تاریخ کو صوبائی اسمبلی کےلئےانتخابات ہونےوالےہیں۔ اس لئےوزیراعظم عمران خان نےپہلی نومبرکو علاقےکا دورہ کرکےاسے عارضی صوبے کا درجہ دینےکااعلان کیا۔ اس سے پہلےیہاں2015میں انتخابات ہوئے تھے تاہم اس علاقہ کی ملک کے وفائی ڈھانچہ میں کوئی نمائندگی نہیں ہےیعنی پاکستانی قومی اسمبلی کےایوان بالایاایوان زیریں میں اس علاقہ سے کوئی بھی رکن نہیں ہے۔ گلگت۔بلتستان کو صوبے کا مکمل درجہ دینےکے لئےآئین پاکستان میں ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ علاقہ میں 18اگست کوصوبائی اسمبلی کے لئےانتخابات ہونےوالےتھےلیکن 11 جولائی کوپاکستان کےانتخابی کمیشن نےکورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر انہیں معطل کردیا تھا۔
گلگت۔بلتستان ایک طرف افغانستان تو دوسری جانب چین سےلگا ہوا ہے۔ اس طرح اس کا محل وقوع کافی اہم ہے۔ یہاں کی آبادی ایک اعشاریہ دو ملین ہے اور یہیں سے ہو کر چین۔پاکستان معاشی راہداری گزرتی ہے۔ چین کا مفاد اس علاقےکے مستقبل سے جڑا ہواہے جو چین کےشنجیانگ یغور آٹونامس ریجن سےملا ہواہے۔چین۔پاکستان معاشی راہداری کے تحت بحیرۂ عرب میں پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو شنجیانگ میں کاشگر سےجوڑا جائے گا۔ لہٰذا اس منصوبےمیں گلگت۔بلتستان اہم کردارادا کرےگا۔ گلگت۔بلتستان کوایک مکمل صوبے کا درجہ دینے سے علاقہ میں سی پی ای سی میں چین کے ذریعہ سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔
گلگت۔بلتستان کے موضوع پر عمران خان کو فوج کی حمایت حاصل ہے اس لئے انہیں امید ہے کہ صوبائی انتخابات میں ان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی فتح حاصل کرکےاپنی طاقت میں اضافہ کرےگی۔ ہندوستان کاہمیشہ سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ گلگت۔بلتستان اس کا اٹوٹ حصہ ہےاور اس بارے میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے پہلی نومبرکوجو بیان جاری کیا اس میں بھی یہ بات واضح کردی گئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے جب حکومت پاکستان کو 2018 کے ایک انتظامی آرڈر میں ترمیم کرنے کی اجازت دی تھی تب بھی نئی دہلی نے یہی موقف اختیار کیا تھا۔ گلگت۔بلتستان کے بارے میں 2018 کا جو حکم نامہ ہے اس میں انتظامی تبدیلیاں لانے کا التزام ہے۔ اس آرڈر کے تحت پاکستان کے وزیر اعظم کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہےکہ وہ مختلف موضوعات کے بارےمیں قانون بھی بناسکتےہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پرسخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئےہندوستان نے پاکستان کے ایک سینئر سفارتکار کو طلب کرکے سخت احتجاج کیا تھا۔ کشمیر میں بھی بہت سےلوگوں نےعلاقہ میں چین کے بڑھتے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گلگت۔بلتستان جموں وکشمیر میں کافی اونچائی پر واقع ہے۔ یہ مقبوضہ کشمیر سےتقریباً پانچ گنا بڑاہے لیکن یہاں کی آبادی زیادہ نہیں ہے۔ یہ وہ علاقہ ہےجوپاکستان کو زمین کےراستےچین سے جوڑتا ہے۔ گلگت۔بلتستان میں اس ماہ کی 15 تاریخ کو صوبائی اسمبلی کےلئےانتخابات ہونےوالےہیں۔ اس لئےوزیراعظم عمران خان نےپہلی نومبرکو علاقےکا دورہ کرکےاسے عارضی صوبے کا درجہ دینےکااعلان کیا۔ اس سے پہلےیہاں2015میں انتخابات ہوئے تھے تاہم اس علاقہ کی ملک کے وفائی ڈھانچہ میں کوئی نمائندگی نہیں ہےیعنی پاکستانی قومی اسمبلی کےایوان بالایاایوان زیریں میں اس علاقہ سے کوئی بھی رکن نہیں ہے۔ گلگت۔بلتستان کو صوبے کا مکمل درجہ دینےکے لئےآئین پاکستان میں ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ علاقہ میں 18اگست کوصوبائی اسمبلی کے لئےانتخابات ہونےوالےتھےلیکن 11 جولائی کوپاکستان کےانتخابی کمیشن نےکورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر انہیں معطل کردیا تھا۔
گلگت۔بلتستان ایک طرف افغانستان تو دوسری جانب چین سےلگا ہوا ہے۔ اس طرح اس کا محل وقوع کافی اہم ہے۔ یہاں کی آبادی ایک اعشاریہ دو ملین ہے اور یہیں سے ہو کر چین۔پاکستان معاشی راہداری گزرتی ہے۔ چین کا مفاد اس علاقےکے مستقبل سے جڑا ہواہے جو چین کےشنجیانگ یغور آٹونامس ریجن سےملا ہواہے۔چین۔پاکستان معاشی راہداری کے تحت بحیرۂ عرب میں پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو شنجیانگ میں کاشگر سےجوڑا جائے گا۔ لہٰذا اس منصوبےمیں گلگت۔بلتستان اہم کردارادا کرےگا۔ گلگت۔بلتستان کوایک مکمل صوبے کا درجہ دینے سے علاقہ میں سی پی ای سی میں چین کے ذریعہ سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔
گلگت۔بلتستان کے موضوع پر عمران خان کو فوج کی حمایت حاصل ہے اس لئے انہیں امید ہے کہ صوبائی انتخابات میں ان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی فتح حاصل کرکےاپنی طاقت میں اضافہ کرےگی۔ ہندوستان کاہمیشہ سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ گلگت۔بلتستان اس کا اٹوٹ حصہ ہےاور اس بارے میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے پہلی نومبرکوجو بیان جاری کیا اس میں بھی یہ بات واضح کردی گئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے جب حکومت پاکستان کو 2018 کے ایک انتظامی آرڈر میں ترمیم کرنے کی اجازت دی تھی تب بھی نئی دہلی نے یہی موقف اختیار کیا تھا۔ گلگت۔بلتستان کے بارے میں 2018 کا جو حکم نامہ ہے اس میں انتظامی تبدیلیاں لانے کا التزام ہے۔ اس آرڈر کے تحت پاکستان کے وزیر اعظم کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہےکہ وہ مختلف موضوعات کے بارےمیں قانون بھی بناسکتےہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پرسخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئےہندوستان نے پاکستان کے ایک سینئر سفارتکار کو طلب کرکے سخت احتجاج کیا تھا۔ کشمیر میں بھی بہت سےلوگوں نےعلاقہ میں چین کے بڑھتے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Comments
Post a Comment