پلوامہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا اعتراف



پاکستان یکے بعد دیگرے اپنے ہی بنے ہوئے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی ریلیوں کی کامیابی سے اسٹیبلشمنٹ کی گھبراہٹ اور جھنجھلاہٹ مختلف شکلوں میں اب ظاہر ہونے لگی ہے حالانکہ اس پر پردہ ڈالنے کی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔ مریم نواز کے شوہر کو ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر اٹھائے جانے کا معاملہ ہو یا سندھ کے آئی جی کے اغوا کا معاملہ ، اس سے اور کچھ بھلے ہی نہ معلوم ہو لیکن اتنا ضرور واضح ہوتا ہے کہ حکمراں طبقہ پوری طرح حواس باختہ ہو چکا ہے اور اس میں فیصلہ لینے کی صلاحیت باقی نہیں بچی ہے۔ بڑی مشکل سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچا ہے لیکن مجموعی طور پر اس کی پالیسی دنیا اور اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ہی رہی ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ لوگ خود پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں لیکن حکومت کا رویہ اب بھی دہشت گردوں کے تئیں نہیں بدلا۔ پڑوسی ممالک خواہ افغانستان ہو ایران ہو یا ہندوستان، اس کی اس پالیسی کو دو طرفہ بات چیت کے دوران اور عالمی اداروں میں بھی بڑی شد ومد سے اٹھاتے رہے ہیں کہ پاکستان جب تک دہشت گردوں کی پشت پناہی ترک نہیں کرتا تب تک خطے میں پائدار امن کی امید نہیں کی جا سکتی۔ پشاور دھماکے پر اپنے ردعمل کے دوران پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے بھی یہی بات کہی کے دہشت گردی پر قابو پانے کے فوج اور حکومت کے تمام دعوے فرضی ہیں۔ دہشت گردوں کو اسٹریٹیجک ایسٹ سمجھنے والے ملک سے دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی فیصلہ کن کارروائی کی امید رکھنا کار فضول کے سوا کچھ بھی نہیں۔ گزشتہ دنوں حکومت کے ایک سرکردہوزیر فواد چودھری کا علیالاعلانیہ اعتراف کرنا کہ پلوامہ حملہ پاکستان کے لئے ’’ فخر کا لمحہ‘‘ تھا بہت اہم کنفیشن ہے جس کا عالمی برادری نے خاطر خواہ نوٹس بھی لیا ہے۔ وزیر موصوف فواد چودھری نے اسے ’’عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی کامیابی ‘‘ قرار دیا۔ اب پاکستان کی قلعی پوری طرح کھل چکی ہے اور ہندوستان کا یہ دعویٰ کے پلوامہ حملے میں پاکستان ملوث تھا بالآخر درست نکلا۔ ہندوستان بار بار بین الاقوامی فورموں پر اس مسئلے کو اٹھاتا رہا ہے اور تمام ثبوت و شواہد بھی مہیا کراتا رہا ہے لیکن پاکستان ہر بار دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ٹال مٹول کرتا رہا ۔ لیکن اب اپنے ہی وزیر کے اقبالیہ بیان سے مکرنا عمران خان کے لئے اس بار آسان نہیں ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے سرکردہ بہی خواہوں کی نادانیوں اور بے سر پیر کی بیان بازیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ جب سے نیشنل اسمبلی کے سابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھارتی ونگ کمانڈر ابھنندن کی رہائی کے پیچھے کی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا اور ان کے پاؤں بری طرح یہ کہتے ہوئے کانپ رہے تھے کہ اگر ابھنندن کو نہیں لوٹایا گیا تو بھارت حملہ کر سکتا ہے تب سے عجیب وغریب بیانات کا ایک سلسلہ سا چل پڑا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے در پردہ نون لیگ والوں کو طالبان کے ذریعے سبق سکھانے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ طالبان کو پاک فوج کی حمایت حاصل ہے اور دونوں کا بیانیہ ایک ہے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ پشتونوں کےقتل عام میں اسٹیبلشمنٹ ملوث ہے، پی ٹی ایم نے جب بھی قتل عام کے خلاف آواز اٹھائی،تو ان کو غدار کہہ کر چپ کرانے کی کوشش کی گئی۔ اب خوداعجاز شاہ بتا رہے ہیں کہ بلور فیملی کو مار دیا، میاں افتخار کے بیٹے کو مار دیا، یہ ردعمل تھا ۔ یعنی جو لوگ نون لیگ یا ایاز صادق کے بیانیہ کے ساتھ ہیں اللہ اُن کو ہدایت دے، حفاظت کرے ۔ جو فوج کے خلاف بات کرتے ہیں وہ باڈر کراس کریں اور امرتسر جائیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی بریگیڈئیر شاہ ہیں جن پر بے نظیر بھٹو نے اپنے قتل سے پہلے ہی جان سے مارنے کی سازش کا الزام لگایا تھا اور جن کے القاعدہ اور طالبان سے تعلقات کافی گہرے رہے ہیں۔

الغرضپاکستان جس طرح دہشت گردوں کی اعانت کرتا رہا ہے اس کے اثرات وہاں کے معاشرے پر بھی گہرا منفی نقش مرتب کر رہے ہیں۔ شہباز تاثیر کے قتل کا معاملہ ہو یا آئے دن اہانت دین سے متعلق معاملات میں لوگوں کا ہجوم کے ذریعہ مارا جانا اس سے پاکستان کی شبیہ کس حد تک بگڑتی جا رہی ہے ، حکمراں طبقے کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں۔پاکستان کو ہرگز یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ابھی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو چار ماہ کی مہلت اسے دی گئی ہے اس دوران اس کی تمام حرکتوں اور قول و فعل کے تضاد پر دنیا بھر کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں اور اس کی کوئی بھی نادانی اسے سخت مصیبت میں ڈال سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ