افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد صورتحال کے بد تر ہونے کا امکان



اب ہر طرف یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان جو سمجھوتہ ہوا وہ کئی راؤنڈ کے مذاکرات کے بعد قطعی شکل میں سامنے آیا تھا لیکن یہ اندیشہ ہر مرحلے میں ظاہر کیا جاتا رہا کہ افغان طالبان پر بھروسہ کرنا مشکل ہے کیونکہ انہوں نے تشدد کا راستہ کبھی ترک نہیں کیا تھا۔ یہ بات بھی محسوس کی جاتی رہی کہ طالبان صرف کاغذی سطح پر مذاکرات میں شریک ہورہے ہیں لیکن درپردہ ان کا یجنڈا کچھ اور ہی ہے۔ پانچ چھ سال قبل افغانستان سے بڑی تعداد میں جب امریکی فوجیں واپس چلی گئی تھیں تو پاکستان میں اپنی پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے طالبان وہیں سے حملے کی منصوبہ بندی کرتے اور افغانستان میں سیکورٹی فورسز اور سویلین کو نشانہ بناتے۔ ان کے حملے اتنے بڑھ گئے کہ کئی بار افغان صدر کو پاکستانی حکمرانوں سے یہ کہنا پڑا کہ وہ طالبان کو قابو میں کرنے کی کوشش کریں اور ایک پڑوسی کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں لیکن ان باتوں کا کبھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ صدر ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق کئی فیصلے کئے۔ پہلے تو انہوں نے پاکستان کو سخت سست کہا اور مالی امداد تک روکنے کا فیصلہ کیا لیکن پھر اچانک ان کی پالیسی میں تبدیلی پیدا ہوئی اور انہوں نے براہ راست طالبان سے بات چیت کرنے اور سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ حکومت افغانستان کے کچھ تحفظات تھے لیکن بات چیت کا سلسلہ دوحہ میں شروع ہوا۔

حکومت افغانستان نے سیز فائر پر زور دیا اور کئی بار پہل بھی کی لیکن طالبان کبھی حکومت کو خاطر میں نہ لائے۔ طے یہ پایا تھا کہ جب امریکہ اور طالبان کے مابین سمجھوتہ ہوجائے گا تو بین افغانستان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا اور حکومت افغانستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوگی۔

یہ سلسلہ بھی دوحہ میں شروع ہوا لیکن صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے کیونکہ آثار یہی بتاتے ہیں کہ طالبان کو اندرون افغانستان قیام امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ صرف وہ اپنا مخصوص ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان نے ایک دوست اور پڑوسی کے طور پر افغانی عوام اور حکومت کے ساتھ ممکنہ حد تک ہر مرحلے میں تعاون کیا۔ وہ یہی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہوتا کہ لوگ تعمیر و ترقی کے کاموں میں مصروف ہوں۔ لیکن جو خدشات طالبان کے رویوں کی وجہ سے پہلے بھی محسوس کئے جا تے رہے تھے وہ اب اور زیادہ بڑھ گئے ہیں اور افغانستان کے مختلف حلقے اس بات کا واضح طو رپر اشارہ کرنے لگے ہیں کہ افغانستان میں سیکورٹی کی صورتحال بگڑنے والی ہے۔

افغانستان کے ایک سینئر لیڈر اور صوبۂ بلخ کے سابق گورنر عطا محمد نور آج کل اپنے سفارتی مشن پر نئی دلی آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس دورے کے دوران متعدد لیڈران سے ملاقات کی اور ہندوستان کی ان کوششوں کی زبردست ستائش کی جو اس نے افغانستان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کیں۔ انہوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ جس دن امریکی فوجیں پورے طور پر افغانستان سے واپس چلی جائیں گی اور دوحہ میں شروع کی گئی بات چیت بے نتیجہ ثابت ہوئی تو افغانستان میں صورتحال ناگفتہ بہ بھی ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ دوحہ میں حکومت افغانستان کے نامزد کردہ نمائندوں کی جو ٹیم طالبان سے بات چیت کرنے کیلئے موجود ہے اس میں عطا محمد نور کے چھوٹے صاحبزادے خالد بھی شامل ہیں۔ لیکن خود نور صاحب بھی دوحہ مذاکرات سے کچھ زیادہ پُر امید نظر نہیں آئے۔ عطا محمد نور جیسے لیڈران نے طالبان کی کارستانیوں کا بہ نفس نفیس مشاہدہ کیا ہے اور ان کی پُرتشدد کارروائیوں سے واقف ہیں۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ جنوری 2016 میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے مزار شریف میں ہندوستانی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا تو نور صاحب ہی بلخ کے گورنر تھے اور دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن ہوا تھا اس کی قیادت خود انہوں نے کی تھی۔ نور صاحب نے ہندوستان کو اس بات کیلئے زبردست خراج تحسین پیش کیا کہ جب دوسرے کچھ ملک افغانستان میں دہشت گردوں کی مدد کررہے تھے تو ہندوستان وہ واحد ملک تھا جس نے افغانستان میں امن پسندوں اور قانون کے ماننے والوں کی مدد کی۔ 

اس وقت افغانستان کے امن پسند حلقوں میں جو مختلف نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ماضی میں ایک دوسرے کے حریف بھی رہ چکے ہیں۔ اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں اور متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف لڑنا بھی چاہتے ہیں۔ اس وقت انہیں ایک ہی بات پریشان کررہی ہے کہ اگر طالبان نے اپنی روش ترک نہ کی تو امن قائم کرنا دشوار ہوجائے گا۔ عالمی برادری اور عالمی اداروں کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا دہائیوں سے جنگ اورخانہ جنگی کی مار جھیلنے والے افغان عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے!!

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ