عمران خان کی، نام نہا، امن مذاکرات کی پیش کش

آج کل پاکستان میں عمران حکومت نیز فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان محاذ آرائی کا سلسلہ چل رہا ہے جو ظاہر ہے وہاں کا گھریلو معاملہ ہے۔ اس سے پہلے جب نواز شریف کی حکومت تھی اور عمران خان اپوزیشن میں تھے تو اس وقت بھی اسی طرح کی محاذ آرائی چل رہی تھی اور عمران خان اور ان کی پارٹی نے زبردست مہم اس وقت کی حکومت کے خلاف چلائی تھی اور راجدھانی اسلام آباد کو کئی روز تک معطل کرکے رکھ دیا تھا۔ وہ بھی پاکستان کا اندرونی معاملہ تھا۔ کسی اور ملک سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ لیکن اب جبکہ عمران خان ہندوستان پر طرح طرح کے الزام لگانے میں مصروف ہوگئے، کبھی انہوں نے یہ کہا کہ نواز شریف ہندوستان کے اشارے پر پاکستانی فوج کو کمزور کرنے کی سازش کررہے ہیں اور کبھی پاکستان کے مسلکی جھگڑوں کا سلسلہ بھی انہوں نے ہندوستان سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی، لیکن ظاہر ہے اس طرح کی کھوکھلی باتوں اور اوچھے الزامات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے کہ ا یسی باتوں سے ان کا فرسٹریشن لوگوں کے سامنے بے نقاب ہوتا ہے۔


بہرحال، اب انہوں نے ایک نیا شوشہ یہ چھوڑا ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے تیار ہیں اگر وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں وکشمیر کا معاملہ حل کرنے کیلئے تیار ہو۔ یہ بات کہتے ہوئے پچھلے تمام واقعات اور تاریخی حقائق کو وہ نظرانداز کرگئےکہ تب سے اب تک کیا کچھ ہوا اور کیا کچھ نہیں ہوا۔ لہٰذا انہیں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ جموں وکشمیر ایک رجواڑا تھا اور تمام سابق رجواڑوں کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ہندوستان سے الحاق کریں گے یا پاکستان سے جہاں تک جموں وکشمیر کا معاملہ تھا وہاں کے مہاراجہ نے چند ماہ کا وقت مانگا تھا کہ وہ سوچ سمجھ کر الحاق کے معاہدے پر کوئی قطعی رائے دیں گے اور دستخط کریں گے۔ تب تک دونوں ملک انتظار کریں اور تمام رابطے قائم رکھیں لیکن ابھی وہ وقت پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ پاکستان کی طرف سے کشمیر پر حملہ ہوگیا جسے قبائلی حملے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس حملے کے دوران کشمیر میں تباہی کے وہ منظر سامنے آئے کہ انسانیت بھی شرمندہ ہوگئی حملہ آوروں نے نہ صرف لوٹ پاٹ مچائی بلکہ عورتوں کی آبرو بھی لوٹی۔ ان حالات میں وہاں کے مہاراجہ نے حکومت ہند سے مدد مانگی، اسی وقت مہاراجہ نے الحاق کے معاہدے پر دستخط بھی کئے اور ا س طور پر ہندوستان سے کشمیر کا الحاق ہوا تھا۔ البتہ اس حملے میں بعض علاقوں پر پاکستان نے قبضہ کرلیا تھا اور ابھی تک ا س نے وہ علاقے خالی نہیں کئے۔ اسے نام نہاد آزاد کشمیر کانام دیا۔ اس مقبوضہ علاقے کے علاوہ گلگت اور بلتستان بھی ہے جسے شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ وہ بھی پاکستان کے قبضہ میں ہے کیونکہ یہ علاقے کبھی کشمیر کے مہاراجہ نے انگریزوں کو لیز پر دیا تھا جو انگریزوں کے جانے کے بعد قدرتی طور پر جموں وکشمیر کا حصہ ہوگیا لیکن ہر چند کہ دونوں علاقے پاکستان ہی میں تھے لیکن پاکستان نے شمالی علاقہ جات یعنی گلگت بلتستان کو مقبوضہ کشمیر میں شامل نہیں کیا۔ حتی کہ وہاں کی سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ ان علاقوں کو مقبوضہ کشمیر یعنی نام نہاد آزاد کشمیر میں شامل کیا جانا چاہئے لیکن پاکستان نے پھر بھی دونوں علاقوں کو ایک دوسرے میں شامل نہیں کیا۔


کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور پاکستان نے جارحانہ طور پر حملہ کرکے اس کے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیاتھا، جہاں تک مسئلہ کشمیر کے حل کا سوال ہے، تو عمران حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ حل طلب مسئلہ اب یہ ہے کہ پاکستان، کشمیر کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرے اور ہندوستان کے حوالے کرے۔


عمران خان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ 1947/48 سے اب تک کافی لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور اس درمیان ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی ایسے معاہدے بھی ہوچکے ہیں جن کے تحت کشمیر کا معاملہ، باہمی معاملہ بن چکا ہے اور کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اسے نہیں اٹھایا جانا چاہئے۔ 1972 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شملہ سمجھوتہ ہوا تھا۔ پاکستان نے اس کا کبھی پاس نہیں کیا۔ 1999 میں لاہور اعلامیہ بھی جاری ہوا تھا وہ بھی دونوں ملک کے باہمی اتفاق سے ہوا تھا۔ ان تمام تاریخی واقعات اور حقائق کو جھٹلا کر عمران خان اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر کررہے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہوا کہ انہیں اس خطے میں قیام امن سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ بس ہندوستان دشمنی انہیں عزیز ہے اور یہی پاکستانی فوج کی وہ اٹل حکمت عملی ہے جسے وہ ہرحال میں برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کے تمام مستقل ممبران یہی مشورہ دیتے رہے ہیں کہ باہمی نوعیت کے معاملات کو وہ باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے لیکن پاکستان میں کلیدی رول تو فوج ادا کرتی ہے لہٰذا وہ امن کی تمام کوششوں اور تمام معاہدوں کو نظرانداز کرکے اسی طور پر پاکستان میں اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتی ہے۔ چونکہ اِس وقت فوج اور عمران خان پورے طور پر ہم خیال ہیں اس لئے عمران خان بھی فوج ہی کی حکمت عملی اختیار کررہے ہیں۔ کیوں کہ ان کی حکومت اس بیساکھی پر ٹکی ہوئی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ