پاکستان کی ریاکاری
پاکستان کے شہر لاہور کے نزدیک ننکانہ صاحب میں جمعہ کے روز تقریباً چار سو لوگوں کے ایک ہجوم نے سکھوں کے مقدس ترین مقام گرودوارہ جنم استھان پر حملہ کردیا۔ پرتشدد ہجوم نے نہ صرف گرودوارے پر پتھر بازی کی بلکہ سکھ۔ مخالف نعرے بھی لگائے۔ اس ہجوم کی قیادت محمد حسن کا کنبہ کر رہا تھا۔ یہ وہی محمد حسن ہے جس پر گرودوارے کے گرنتھی کی بیٹی جگجیت کور کو اغوا کرنے اور جبراً اس کا مذہب تبدیل کراکے اس سے شادی کرنے کا الزام ہے۔ سکھ برادری نے لڑکے کی اس حرکت کی کافی مخالفت کی تھی اور اس مخالفت کے رد عمل کے طور پر یہ تشدد برپا کیا گیا۔ تشدد کے بعد جاری ایک ویڈیو میں لوگوں کو گرودوارے کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مظاہرین یہ بھی کہتےہوئے دکھائے گئے ہیں کہ وہ جلد ہی اس مقام کا نام ننکانہ صاحب سے بدل کر غلامانِ مصطفیٰ رکھ دیں گے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان سکھ عقیدتمندوں کو خوف زدہ کرنے والی تھی جو اس تاریخی گرودوارے کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔ اس تشددکے جواب میں حکومت پاکستان نے جو کارروائی کی وہ کافی مایوس کن ہے اور جس سے پاکستان میں رہنے والی سکھ برادری کے تحفظ کے بارے می...