Posts

پاکستان کی ریاکاری

پاکستان کے شہر لاہور کے نزدیک ننکانہ صاحب میں جمعہ کے روز تقریباً چار سو لوگوں کے ایک ہجوم نے سکھوں کے مقدس ترین مقام گرودوارہ جنم استھان پر حملہ کردیا۔ پرتشدد ہجوم نے نہ صرف گرودوارے پر پتھر بازی کی بلکہ سکھ۔ مخالف نعرے بھی لگائے۔ اس ہجوم کی قیادت محمد حسن کا کنبہ کر رہا تھا۔ یہ وہی محمد حسن ہے جس پر گرودوارے کے گرنتھی کی بیٹی جگجیت کور کو اغوا کرنے اور جبراً اس کا مذہب تبدیل کراکے اس سے شادی کرنے کا الزام ہے۔ سکھ برادری نے لڑکے کی اس حرکت کی کافی مخالفت کی تھی اور اس مخالفت کے رد عمل کے طور پر یہ تشدد برپا کیا گیا۔  تشدد کے بعد جاری ایک ویڈیو میں لوگوں کو گرودوارے کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مظاہرین یہ بھی کہتےہوئے دکھائے گئے ہیں کہ وہ جلد ہی اس مقام کا نام ننکانہ صاحب سے بدل کر غلامانِ مصطفیٰ رکھ دیں گے۔  یہ صورتحال خاص طور پر ان سکھ عقیدتمندوں کو خوف زدہ کرنے والی تھی جو اس تاریخی گرودوارے کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔ اس تشددکے جواب میں حکومت پاکستان نے جو کارروائی کی وہ کافی مایوس کن ہے اور جس سے پاکستان میں رہنے والی سکھ برادری کے تحفظ کے بارے می...

پاکستان: ایک دہائی جو غارت ہوگئی

پاکستان کے دانشوروں اورعوام کو ایک سوال جو آج بار بار پریشان کررہا ہے اور جسے میڈیا میں آئے دن اٹھایا جارہا ہے، یہ ہے کہ آخر ان کا ملک کدھر جارہا ہے؟ ممتاز صحافی زاہدحسین نے تو پچھلی ایک دہائی کے عرصہ کو جہاں تک پاکستان کا سوال ہے، ایک غارت جاچکی دہائی کا نام دیا ہے۔ آج یہ شعور بھی قوی ہوتا جارہا ہے کہ موجودہ صورت پاکستان کے اپنے سیاست دانوں کی تخلیق ہے اور یہ کہ نظریہ میں ایک بنیادی تبدیلی کے بغیر پاکستان کے لیے موجودہ دلدل سے باہر نکلنا ناممکن ہوگا۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے، فروری 2008 میں جب قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائے گئے تھے اور اس کے بعد جب آصف علی زرداری، نواز شریف نے مری معاہدہ پر دستخط کیے تھے تب یہ امید قائم ہوئی تھی کہ اپنے تمام آپسی اختلافات کے باوجود سبھی اہم سیاسی جماعتیں کم سے کم جمہوری نظام کی بقا کے سوال پر اپنی اپنی اعانت پیشہ کریں گی۔ ابتدامیں قومی اسمبلی کی بعض کارروائیوں سے لگا بھی کہ اس سلسلے میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔ لیکن پھر تنگ نظر سیاسی داؤ پیچ کے وہی پرانے کھیل شروع ہوگئے اور جو فوج لگتا تھا فی الوقت خود کو خاموش رہنے پر مجبور پارہ...

پاکستان میں اقلیتیں چوطرفہ حملوں کا شکار

وزیر اعظم پاکستان عمران خان اس وقت عالمی برادری اور بالخصوص عالم اسلام میں یہ پروپگنڈا کرنے میں مصروف ہیں کہ ہندوستان میں مسلم اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران حکومت نے عالمی برادری اور مسلم دنیا کو مسلسل گمراہ کرنے کی غرض سے ایک سفارتی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ گویا ان کی ان گمراہ کن کوششوں سے لوگ واقعی گمراہ ہوجائیں گے اور یہ سمجھنے لگیں گے کہ پاکستان میں اقلیتیں بہت محفوظ ہیں اور وہاں کسی طرح کی زیادتی کسی اقلیت کے ساتھ نہیں ہوتی۔ حالانکہ خود پاکستانی اخبارات میں لوگ آئے دن یہ خبریں پڑھتے رہے ہیں کہ وہاں کن کن عنوانات سے اقلیتوں کو پریشان کیا جاتا ہے۔ بہت سی غیر مسلم لڑکیوں کی جبرا شادی کرانے اور مشرف بہ اسلام کرنے کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان واقعات پر خود پاکستان کے انصاف پسند حلقے احتجاج بھی کرتے ہیں اور حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گزشتہ سال جب عمران خان برسراقتدار آئے تو جہاں انہوں اور بہت سے وعدے کیے تھی وہیں یہ بھی یقین دلایا تھا کہ کسی کے ساتھ کسی طرح کاامتیازی سلوک نہیں ہوگا اور ان کے حقوق کی حفا...

ہندوستان کا پڑوسی ملکوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کا اعادہ

ہندوستان پڑوسی ملکوں کو ترجیح دینے کی اپنی پالیسی پر پابندی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔مئی 2014 میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے جناب نریندرمودی نے مختلف مواقع پر اس پالیسی کا اعادہ کیا ہے۔ 26 مئی 2014 کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں انہوں نے اسی جذبے کے تحت سارک ملکوں کے سربراہان مملکت اور حکومت کو مدعو کیا تھا۔ اسی سال انہوں نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لیے بھوٹان کو منتخب کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے جنوبی ایشیا کے ملکوں سے غربت اور سب کے لیے تعلیم جیسے مسئلوں سے نپٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اپنے پڑوسیوں کی فلاح وبہبود کے لیے ان سے اپنی مہارت ساجھا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ 2020 کے نئے سال کے موقع پر بھی وزیراعظم مودی نے اسی جذبے کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھوٹان کے شاہ جگمے کھیسر نامگیل وانگ چک (Jigme Khesar Namgyel Wang chuck) اور وزیراعظم ڈاکٹر لوٹے شیرنگ، سری لنکا کے صدر گوت بایا راج پکشے اور وزیراعظم مہندا رج پکشے، مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح، بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ اور نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی کو نئے سال ک...

افریقہ کے ایک بڑے حصے کو دہشت گرد گروپوں سے خطرہ

سچ پوچھئے تو جس طرح ماحولیات اور آب وہوا کی بگڑتی ہوئی صورتحال عالمی برادری کی بھرپور توجہ کی متقاضی ہے، اسی طرح عالمی برادری کو دہشت گردی سے لاحق خطرات بھی ٹھیک اسی نوعیت کی توجہ کے طالب ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دونوں خطرات کے تئیں عالمی برادری، خاص طور سے وہ بااثر ممالک جو زیادہ اہم اور موثر رول ادا کرسکتے ہیں ، وہ کہیں نہ کہیں موثر رول ادا کرنے سے یا تو پس وپیش کررہے ہیں یا نسبتاً کم دلچسپی لے رہے ہیں۔ دہشت گردی اس وقت اس قدر خطرناک روپ اختیار کرچکی ہے کہ مختلف خطوں کو شدید نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ اگر ہم اپنے خطے کی بات کریں تو کئی ملک، طالبان، القاعدہ ، لشکرطیبہ اور جیش محمد جیسے کئی خطرناک اور عالمی پیمانے پر ممنوعہ گروپوں کے نرغے میں ہیں۔ ان میں سے بیشتر گروپوں کو اسی خطے کا ایک ملک چاہے تو قابو میں کرسکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کا تخریب کارانہ ایجنڈا اسے مثبت قدم اٹھانے سے باز رکھتا ہے۔ مغربی ایشیا کے کئی ملکوں میں داعش یا اسلامی اسٹیٹ نے تباہی پھیلائی۔ اگرچہ اس نے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا ان میں سے بیشتر اب اس کے قبضے سے آزاد کرالئے گئے ہیں لیکن اس کے خطرات...

تجارتی معاہدوں پر بات چیت کیلئے ہندوستان کی حکمت عملی

ایسا لگتا ہے کہ علاقے میں معاشی امور پر صلاح ومشورہ کیلئے جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے اسے ہندوستانی اسٹیبلشمنٹ کے سفارتی گلیاروں میں قابل فہم سمجھا جارہا ہے۔ نئے سال کا آغاز ہوچکا ہے اس لئے ہم اس محاذ پر نئے طریقہ سے شروعات کرسکتے ہیں۔ آزاد تجارت سے متعلق معاہدوں میں ہندوستان کے ساتھ تھوڑا ناانصافی کی جاتی رہی ہے پھر بھی انہیں ضروری سمجھا جاتا تھا تاکہ ملک کی اہمیت وافادیت علاقے میں برقرار رہے۔ ہندوستان کے پاس سوائے اس کے کہ وہ ایسے معاہدوں کو مان لے، اور کوئی راستہ نہیں تھا تاکہ دنیا میں اس کی بات بھی سنی جاسکے۔ لیکن اس سوچ میں ڈرامائی طور پر اس وقت تبدیلی آئی جب ہندوستان نے خود کو علاقائی جامع معاشی شراکتداری سے الگ کرلیا۔ اس اقدام سے ہماری خارجہ معاشی پالیسی میں ایک اسٹریٹیجک تبدیلی نظر آئی اور ثابت کردیا کہ ملک کے مفاد کے خلاف کوئی بھی تجارتی معاہدہ قابل قبول نہیں ہے۔ علاقائی جامع معاشی پارٹنر شپ سے الگ ہونے کا فیصلہ کسی دوسرے نے نہیں بلکہ خود وزیراعظم نریندر مودی نے بینکاک سربراہ کانفرنس کے دوران لیا تھا۔ اس فیصلہ کا پیغام بالکل صاف اور واضح تھا۔ ہندوستان نے اپنے کسانوں اور چ...

سیاسی مخالفین کے خلاف عمران خان کی انتقامی کارروائیاں

عمران خان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد پاکستان کے اصل بحران اور پریشانیوں سے نمٹنے کی کوئی سنجیدہ کوشش تو ابھی تک نظر نہیں آئی البتہ ایک بات کا ہر طرف چرچہ ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی حریفوں سے چن چن کر انتقام لے رہے ہیں اور اس کے لئے ریاست کے مختلف اداروں کو بے دریغ استعمال بھی کر رہے ہیں۔ ایسی کارروائیوں کو انجام دینے میں پاکستانی فوج تو قدرتی طور پر ان کا ساتھ دے ہی رہی ہے لیکن قومی احتساب بیورو ایف آئی اے اور اے این ایف جیسے ادارے اور ایجنسیاں بھی استعمال میں لائی جا رہی ہیں۔ یہ محض الزام نہیں ہے بلکہ صاف نظر بھی آ رہا ہے۔ اس صورت حال کے باعث وہ حلقے بھی عمران خان سے خاصے بد دل اور ناراض ہوئے ہیں جو ان کی کھل کر حمایت کر رہے تھے اور جو یہ امید کر رہے تھے کہ واقعی عمران خان پاکستان میں ایک شفاف اور منصفانہ نظام رائج کرنا چاہتے ہیں جس میں بد عنوانی کا سلسلہ یقینی طور پر رکے گا یا کم از کم سرکاری اداروں میں کرپشن میں کمی آئے گی۔ لیکن قریب ڈیڑھ سال کے عرصہ کے بعد لوگ عمران خان کی حکومت کی کار کردگی سے کچھ اتنے زیادہ مایوس نظر آتے ہیں کہ عوام کے بیشتر حلقے یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ...