تجارتی معاہدوں پر بات چیت کیلئے ہندوستان کی حکمت عملی
ایسا لگتا ہے کہ علاقے میں معاشی امور پر صلاح ومشورہ کیلئے جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے اسے ہندوستانی اسٹیبلشمنٹ کے سفارتی گلیاروں میں قابل فہم سمجھا جارہا ہے۔ نئے سال کا آغاز ہوچکا ہے اس لئے ہم اس محاذ پر نئے طریقہ سے شروعات کرسکتے ہیں۔ آزاد تجارت سے متعلق معاہدوں میں ہندوستان کے ساتھ تھوڑا ناانصافی کی جاتی رہی ہے پھر بھی انہیں ضروری سمجھا جاتا تھا تاکہ ملک کی اہمیت وافادیت علاقے میں برقرار رہے۔ ہندوستان کے پاس سوائے اس کے کہ وہ ایسے معاہدوں کو مان لے، اور کوئی راستہ نہیں تھا تاکہ دنیا میں اس کی بات بھی سنی جاسکے۔ لیکن اس سوچ میں ڈرامائی طور پر اس وقت تبدیلی آئی جب ہندوستان نے خود کو علاقائی جامع معاشی شراکتداری سے الگ کرلیا۔ اس اقدام سے ہماری خارجہ معاشی پالیسی میں ایک اسٹریٹیجک تبدیلی نظر آئی اور ثابت کردیا کہ ملک کے مفاد کے خلاف کوئی بھی تجارتی معاہدہ قابل قبول نہیں ہے۔
علاقائی جامع معاشی پارٹنر شپ سے الگ ہونے کا فیصلہ کسی دوسرے نے نہیں بلکہ خود وزیراعظم نریندر مودی نے بینکاک سربراہ کانفرنس کے دوران لیا تھا۔ اس فیصلہ کا پیغام بالکل صاف اور واضح تھا۔ ہندوستان نے اپنے کسانوں اور چھوٹی اور اوسط درجہ کی صنعتوں کے مفادات کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا اور اگر ان بنیادی مطالبوں کو بھی تسلیم نہ کیا جائے تو ہندوستان کا ایسے گروپ میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور وہ اس سے الگ ہونے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائے گا۔ نئی دہلی نے واضح کردیا ہے کہ معاشی سفارتکاری اور اہم قومی مفادات کے درمیان توازن کی صورت میں ہی وہ کسی سے بات چیت کریگا۔ سب سے تیز ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر ہندوستان آئندہ چند برسوں میں پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے راستہ پر کامیابی کے ساتھ گامزن ہے۔ یہ ترقی ظاہر ہے کہ ایسی حکمت عملی کے ذریعے حاصل نہیں کی جاسکتی جو ہماری داخلی معیشت کے اہم شعبوں کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہو۔
ہندوستان کے زیادہ تر تجارتی معاہدے اس کے مشرقی ایشیا کے پڑوسیوں کے ساتھ ہیں۔ جو ہماری لُک ایسٹ اور اس کے بعد ایکٹ ایسٹ پالیسی کے عین مطابق ہیں۔ لیکن ان معاہدوں کے تحت ان ملکوں کے بازاروں میں ہندوستانی مصنوعات کی رسائی محدود ہے جن کے ساتھ معاہدے کے گئے ہیں۔
اس طرح ہندوستان کو تجارتی خسارہ سہنا پڑ رہا ہے۔ غیرملکی اسٹریٹیجک اور معاشی پالیسیوں کے متضاد مطالبوں اور داخلی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری کے درمیان پھنسے سفارتکاروں کو ایک واضح پالیسی اور ہدایات کی ضرورت تھی۔ اس لئے حکومت نے آئندہ کیلئے ایک راستہ متعین کردیا ہے اور کہا ہے کہ ہندوستان تجارتی سودے بازی میں اب دفاعی رویہ اختیار نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے اہم داخلی مفادات کے تحفظ کیلئے کوئی عذر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ تجارت سے متعلق تمام مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونگے تاکہ بات چیت کے جو معاہدے ہوں وہ دونوں ملکوں کیلئے مفیدثابت ہوں۔
اسی خدشتہ کو دور کرتے ہوئے کہ ہندوستان ملکی صنعتوں کو بیرونی مال پر تحفظ دینے کی پالیسی پر عمل کرنے جارہا ہے، نئی دہلی نے کہا ہے کہ وہ موجودہ معاہدوں پر نظرثانی کرکے ان پر دوبارہ بات چیت کرے گا اور فریقین کے درمیان برابری کے سلوک کو یقینی بنائے گا۔ جنوبی کوریا، جاپان اور آسیان ملکوں کیساتھ کئے گئے معاہدوں میں ان پر از سر نو جائزہ لینے کا التزام ہے۔ اسی شق کے تحت ہندوستان ان معاہدوں کا از سر نو جائزہ لے گا تاکہ رولس آف اوریجن اور محصولات نہ لگانے کی بندشوں سے متعلق مسائل دوبارہ اٹھائے جاسکیں۔ ہندوستان نے یوروپی یونین سے بھی کہا ہے کہ وہ اس معاملہ کو دھیان میں رکھ کر ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ ایگریمنٹ پر بات چیت دوبارہ شروع کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ فریقین زرعی مصنوعات کے بازاروں تک رسائی، محصولات کے ڈھانچوں اور حقوق املاک دانش جیسے معاملوں پر از سر نو تبادلہ خیال کیلئے تیار ہیں۔ ہندوستان نے دو طرفہ تجارتی معاہدے کیلئے امریکہ سے بھی بات چیت کی ہے۔ برطانیہ کے یوروپی یونین سے علیحدگی کے بعد ہندوستان اس سے بھی تجارتی معاہدے کے بارے میں بات چیت کرے گا۔ اسرائیل، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور یوریسین ایکونامک یونین کے ساتھ بھی بات چیت کے لئے مطالبے کئے جارہے ہیں جہاں ہندوستان کو فائدے حاصل کرنے کی امید ہے۔ انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی تجارتی معاہدہ جلد بازی میں نہیں کیاجائے گا اور نئے معاہدوں کے باعث محصولات اور ریگولیٹری ریجیم میں جو تبدیلی آئے گی اسے تسلیم کرنے کیلئے تجارت وصنعت کو مناسب وقت دیاجائے گا۔ اس طرح جہاں تک ہندوستان کے معاشی اور تجارتی معاملات پر بات چیت کرنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نئے سال میں یقیناً ایک نئے اور روشن باب کا اضافہ ہوگا۔
Comments
Post a Comment