پاکستان: ایک دہائی جو غارت ہوگئی
پاکستان کے دانشوروں اورعوام کو ایک سوال جو آج بار بار پریشان کررہا ہے اور جسے میڈیا میں آئے دن اٹھایا جارہا ہے، یہ ہے کہ آخر ان کا ملک کدھر جارہا ہے؟ ممتاز صحافی زاہدحسین نے تو پچھلی ایک دہائی کے عرصہ کو جہاں تک پاکستان کا سوال ہے، ایک غارت جاچکی دہائی کا نام دیا ہے۔ آج یہ شعور بھی قوی ہوتا جارہا ہے کہ موجودہ صورت پاکستان کے اپنے سیاست دانوں کی تخلیق ہے اور یہ کہ نظریہ میں ایک بنیادی تبدیلی کے بغیر پاکستان کے لیے موجودہ دلدل سے باہر نکلنا ناممکن ہوگا۔
یہ ایک اہم نکتہ ہے، فروری 2008 میں جب قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائے گئے تھے اور اس کے بعد جب آصف علی زرداری، نواز شریف نے مری معاہدہ پر دستخط کیے تھے تب یہ امید قائم ہوئی تھی کہ اپنے تمام آپسی اختلافات کے باوجود سبھی اہم سیاسی جماعتیں کم سے کم جمہوری نظام کی بقا کے سوال پر اپنی اپنی اعانت پیشہ کریں گی۔ ابتدامیں قومی اسمبلی کی بعض کارروائیوں سے لگا بھی کہ اس سلسلے میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔ لیکن پھر تنگ نظر سیاسی داؤ پیچ کے وہی پرانے کھیل شروع ہوگئے اور جو فوج لگتا تھا فی الوقت خود کو خاموش رہنے پر مجبور پارہی تھی، وہ اس درجہ فعال ہو اٹھی کے اس نے اپنی پسند پورے ملک پر مسلط کرنے لگی۔ آج صورت یہ ہے کہ جمہوری ادارے پھر سے کمزور پڑ رہے ہیں اور عوام کی زندگی بھی اسی کی نسبت سے حراب ہورہی ہے ۔
یہاں مراد آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض اور اس کے سبب ملک کی اقتصادی اور سیاسی زندگی پر مرتب ہورہے اثرات سے ہے۔ یوں تو پاکستان ستمبر 2008 کے عالم گیر بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں ایک تھا لیکن جہاں بہت سے ملک اس بحران کے اثر سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے وہیں پاکستان کے لیے اس کے بعد کی پوری دہائی ایک غارت جاچکی دہائی کی حیثیت رکھتی ہے اور آئی ایم ایف سے قرض لینے کی مجبوری اس کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے ۔ صورت یہ ہے کہ آج پاکستان ایک قرض جال کا شکار ہے جس سے مراد وہ صورت ہوتی ہے جب کسی فرد، تنظیم یا ملک کے پرانے قرضوں کی سروس کے لیے نئے قرض لینے کی مجبوری پیش آئی ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بعض مبصرین نے کہا تھاکہ آئی ایم ایف سے قرض کا کوئی قابل ذکر حصہ پیداواری کاموں میں استعمال نہیں ہوا ہے تاکہ اس سے نئی دولت کی تخلیق ہو جو عوام کی زندگی کو یک راحت مل سکے ۔ اس کے برعکس اس قرض کا زیادہ تر حصہ پچھلے قرضوں کی سروس کے لیے استعمال کیاگیا ہے جس سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹے آئی ایم ایف کی شرطوں، بلکہ جبراً مسلط کی گئی شرطوں کی رو سے عمران سرکار نے عوام کوحاصل کچھ سبسڈیاں کاٹ دی ہیں۔ تعلیم اور صحت جیسی سماجی خدمات پر ہونے والے اخراجات حقیقی معنوں میں کم ہوئے ہیں،گیس اور بجلی کی قیمتوں اورٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھاری اضافے کیے گئے ہیں اور اس طرح کل ملاکر عوام کی زندگی عذاب ہوکررہ گئی ہے ساتھ ہی ساتھ پاکستان کی درآمدات سے حاصل آمدنی کم ہوئی ہے۔ اس کی برآمدات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور اس کا بوجھ بھی عوام کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ آج ایک امریکی ڈالر تقریبا 155 پاکستانی روپیوں کے بھاؤ پر ہے جب کہ ستمبر 2008 کے بحران کے وقت وہ 65 روپیہ میں دستیاب تھا۔
اس صورت میں پاکستان کی معیشت کس قدر لڑکھڑارہی ہے، یہ کوئی دھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اگر سعودی عرب سے ادھار تیل ملنا بند ہوجائے تو یہ معیشت غالبا ایک دن بھی ٹک نہ سکے اور ملک ایک اقتصادی دلدل میں جاپھنسے۔ عین ممکن ہے کہ اس صورت میں غیر مقیم پاکستانی بھی بینکوں سے اپنی رقومات نکالنے لگیں جیسے وہ ستمبر2008کے بعد نکالنے لگے تھے ۔ اگر یہ میلان شروع ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے مزیدتباہ کن ثابت ہوگا۔
رہا سوال اس صورت حال سے باہر نکلنے کا، تو خواہ فوج ہو یا سیاستداں، اس کی فکر کسی کو لاحق ہے ، ایسا نہیں لگتا۔ بقول شخصے شاید ہی کسی ملک میں ایسے تنگ نظر اور کم اندیش سیاست داں ملیں گے۔ایسی ہی صورت ہوتی ہے جب اہل اقتدار سیاسی لٹکوں جھٹکوں کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں اورپاکستان کے سیاست داں ٹھیک وہی کررہے ہیں یہ اور بات ہے کہ اب ان کی تکڑم کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے سوال کو اٹھانے کے سلسلے میں عمران خان بری طرح منھ کی کھاچکے ہیں اور تو اور اگر او آئی سی سے ان کو حمایت کی امید تھی تو وہ بھی ناکام ہوچکی ہے۔
ایسا نہیں کہ پاکستان اس دلدل سے باہر نہیں نکل سکتا، لیکن مبصرین کی رائے میں اس کے لیے نظریہ میں بنیادی تبدیلی درکار ہوگی جس کی فی الحال کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ غنیمت یہ ہے کہ دہشت گردی کے سوال پر پاکستان کے عمل پرعالمی برادری کی نظر ہونے کے سبب فی الحال دہشت گرد تنظیمیں خود کو خاموش رکھے ہوئے ہیں، لیکن اگر وہ فعال ہوئیں تو بین الاقوامی سطح پر اس کے رد عمل کےسبب پاکستان کس مرحلے کو پہنچے گا، اس کا تصور بھی محال ہے۔
Comments
Post a Comment