افریقہ کے ایک بڑے حصے کو دہشت گرد گروپوں سے خطرہ
سچ پوچھئے تو جس طرح ماحولیات اور آب وہوا کی بگڑتی ہوئی صورتحال عالمی برادری کی بھرپور توجہ کی متقاضی ہے، اسی طرح عالمی برادری کو دہشت گردی سے لاحق خطرات بھی ٹھیک اسی نوعیت کی توجہ کے طالب ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دونوں خطرات کے تئیں عالمی برادری، خاص طور سے وہ بااثر ممالک جو زیادہ اہم اور موثر رول ادا کرسکتے ہیں ، وہ کہیں نہ کہیں موثر رول ادا کرنے سے یا تو پس وپیش کررہے ہیں یا نسبتاً کم دلچسپی لے رہے ہیں۔ دہشت گردی اس وقت اس قدر خطرناک روپ اختیار کرچکی ہے کہ مختلف خطوں کو شدید نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ اگر ہم اپنے خطے کی بات کریں تو کئی ملک، طالبان، القاعدہ ، لشکرطیبہ اور جیش محمد جیسے کئی خطرناک اور عالمی پیمانے پر ممنوعہ گروپوں کے نرغے میں ہیں۔ ان میں سے بیشتر گروپوں کو اسی خطے کا ایک ملک چاہے تو قابو میں کرسکتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کا تخریب کارانہ ایجنڈا اسے مثبت قدم اٹھانے سے باز رکھتا ہے۔ مغربی ایشیا کے کئی ملکوں میں داعش یا اسلامی اسٹیٹ نے تباہی پھیلائی۔ اگرچہ اس نے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا ان میں سے بیشتر اب اس کے قبضے سے آزاد کرالئے گئے ہیں لیکن اس کے خطرات کم نہیں ہوئے ہیں اور مختلف علاقوں میں اس کی تخریبی کارروائیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اسی طرح اگر افریقہ کی طرف دیکھیں تو القاعدہ سے ہی وابستہ الشباب اور بعض دوسرے دہشت گرد گروپوں نے اس علاقے میں بڑی تباہی اور تاراجی پھیلائی ہے۔ حالیہ دنوں میں الشباب نے صومالیہ کے شہر مغادیشو (Mogadishu)میں خودکش حملے کئے ،ابھی گزشتہ سنیچر کو بھی وہاں ایک انتہائی بھیانک ٹرک بم کا حملہ ہوا جس میں کم از کم 70 افراد ہلاک اور سینکروں زخمی ہوئے۔ اس حملہ سے یہی اندازہ ہوا کہ صومالیہ میں سرگرم یہ گروپ، جسے 2011 میں بین الاقوامی فورسز کے ذریعے صومالیہ سے نکال باہر کیا گیا تھا وہ دوبارہ طاقت حاصل کررہا ہے۔ الشباب کو اگرچہ اب بھی صومالیہ کے ایک بہت بڑے حصہ پر دبدبہ حاصل ہے لیکن ادھر اس کا کچھ زور ٹوٹا تھا البتہ ماضی قریب میں اس نے کئی خودکش حملے کرکے کافی خوف کا ماحول پیدا کیا تھا۔ اس کا سب سے بڑا حملہ 2017 میں مغادیشو ہی میں ہوا تھا اور اتفاق سے وہ بھی ٹرک حملہ تھا جس میں 600 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ سال کے اوائل میں الشباب نے نیروبی کے ایک ہوٹل کمپلیکس پر حملہ کیا تھا اس میں 22 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں خواتین بھی تھیں، حالیہ حملے سے بمشکل دس روز قبل بعض دہشت گردوں نے مغادیشو میں ایک ہوٹل پر یلغار کرکے 5 افراد کو فنا کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ صومالیہ میں الشباب اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کا صفایا کرنے کے لئے اگرچہ امریکہ نے ہوائی مہم چھیڑی ہوئی ہے لیکن ان کے حملے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ یہاں کی وفاقی حکومت صورتحال کو سنبھال نہیں پارہی ہے۔ اگر اسے پورے طور پر نااہل نہ بھی قرار دیا جائے تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نظم وضبط کو بہتر ڈھنگ سے نہیں چلارہی ہے۔ اس کی اسی کمزوری کی وجہ سے صومالیہ کے علاقائی اتحادیوں اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس کی حمایت کرنے والے حلقوں کی کوششیں بھی ایک مضبوط انتظامیہ قائم کرنے میں زیادہ کارآمد نہیں ثابت ہورہی ہیں۔
یاد رہے کہ صومالیہ نے 1991 میں ایک ڈکٹیٹر محمد سیاد برّی (Siad Barre) سے نجات حاصل کی تھی۔ ڈکٹیٹر شپ سے تو نجات مل گئی تھی لیکن یہ ملک مستحکم نہیں ہوسکا۔ مختلف حلقوں اور انتہاپسند گروپوں نے اپنا اپنا قبضہ جمانے کی کوشش شروع کردی تھیں۔ خانہ جنگی جیسی صورتحال ہوگئی تھی۔ امن قائم کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کی غرض سے ایک بین الاقوامی مشن بھیجا گیا اور 1992 میں امریکہ نے اپنی فوجیں بھیجیں لیکن 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے اپنی فوجیں 1994 میں واپس بلالی تھیں۔ اسی افراتفری کے عالم میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا فائدہ اٹھاکر الشباب نے اپنی طاقت بڑھا لی اور پھر وہ بھی وقت آیا کہ اس نے نہ صرف اپنے اثرات بڑھالئے بلکہ خود مغادیشو پر بھی قبضہ جمالیا تھا۔ خیر وہ تو افریقن یونین اور امریکی فوجوں نے اسے نکال باہر کیا۔ صومالیہ کی حکومت کافی کمزور ہے۔ اس پر کرپشن، نااہلی اور آپس میں لڑنے جھگڑنے کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر جگہ صورتحال کچھ ایسی ہی ہوجایا کرتی ہے ۔ بہرحال، صومالیہ کی سیکوریٹی کا خیال افریقن یونین مشن رکھ رہا ہے۔ مشن کا کہنا یہ ہے کہ جیسے جیسے صومالیہ کی حکومت مستحکم ہوتی جائے گی، اسی رعایت سے افریقن یونین اور بین الاقوامی فوجیں سیکوریٹی کی ذمہ داری حکومت کو سونپتی جائیں گی۔ لیکن وہاں کی حکومت کی جوکارکردگی رہی ہے اس سے تو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ صومالیہ کی حکومت اپنی سیکوریٹی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سنبھال پائے گی۔ اس لئے بین الاقوامی فوجوں کو اس وقت تک صومالیہ سے واپس نہیں جانا چاہئے جب تک وہاں ایک مستحکم اور منظم سسٹم فروع نہیں پاجاتا۔
Comments
Post a Comment