ہندوستان کا پڑوسی ملکوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کا اعادہ


ہندوستان پڑوسی ملکوں کو ترجیح دینے کی اپنی پالیسی پر پابندی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔مئی 2014 میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے جناب نریندرمودی نے مختلف مواقع پر اس پالیسی کا اعادہ کیا ہے۔ 26 مئی 2014 کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں انہوں نے اسی جذبے کے تحت سارک ملکوں کے سربراہان مملکت اور حکومت کو مدعو کیا تھا۔ اسی سال انہوں نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کے لیے بھوٹان کو منتخب کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے جنوبی ایشیا کے ملکوں سے غربت اور سب کے لیے تعلیم جیسے مسئلوں سے نپٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اپنے پڑوسیوں کی فلاح وبہبود کے لیے ان سے اپنی مہارت ساجھا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

2020 کے نئے سال کے موقع پر بھی وزیراعظم مودی نے اسی جذبے کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھوٹان کے شاہ جگمے کھیسر نامگیل وانگ چک (Jigme Khesar Namgyel Wang chuck) اور وزیراعظم ڈاکٹر لوٹے شیرنگ، سری لنکا کے صدر گوت بایا راج پکشے اور وزیراعظم مہندا رج پکشے، مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح، بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ اور نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ملکوں کو ترجیح دینے کی پالیسی پر کاربند رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک علاقہ کے تمام دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ امن چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام دوست اس کے ساتھ خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزں ہوں۔ ٹیلی فون پر شاہ بھوٹان کے ساتھ اپنی بات چیت میں وزیراعظم مودی نے پچھلے سال کی ان حصولیابیوں پر روشنی ڈالی جن کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان خصوصی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ بھوٹان کے اپنے پچھلے دورے کے دوران انہیں عوام سے جو محبت اورپیار ملا اس کے لیے وہ ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان نوجوانوں کے مزید تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جناب مودی نے کہا کہ وہ شاہ بھوٹان کے ہندوستان دورے کے شدت سے منتظر ہیں۔

سری لنکا کے صدر گوت بابا نے بھی وزیراعظم نریندرمودی کے نئے سال کے پیغام کا جواب بڑی گرم جوشی سے دیا اور یقین ظاہر کیا کہ ہندوستان اور سری لنکا 2020 میں اپنے دوستانہ رشتوں کو مزید بہتر بنائیں گے۔ دونوں رہنماؤں نے اس مقصد کے حصول کے لیے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔

سری لنکا کے اپنے ہم منصب مہندا رج پاکشے سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعاون کو مزید فروغ دینے کی عہد بستگی کا اظہار کیا۔ جناب راج پکشے نے بھی وزیراعظم مودی کے پیغام کا گرم جوشی کے ساتھ جواب دیا اورکہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان آپسی تعلقات کو فروغ دینے کے خواہش مند ہیں۔

مالدیپ کے صدر کو دیے گئے پیغام میں وزیراعظم مودی نے ملک وقوم کی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششوں کے لیے کامیابی کی دعائیں کیں۔صدر صالح نے بھی جناب مودی کی نیک خواہشات کا اسی گرم جوشی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دوطرفہ تعاون کو فروغ دے کر اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرکے مالدیپ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنائے گا۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جناب مودی نے آئندہ تین برسوں کے لیے عوامی لیگ کی دوبارہ صدر منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ہندوستان میں بنگلہ دیش کے سابق ہائی کمشنر سید معظم علی کی وفات پر بھی تعزیت پیش کی۔ جناب مودی نے ہند-بنگلہ دیش تعلقات نے پچھلے سال جو ترقی حاصل کی اس کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ بنگ بندھو کے صدسالہ یوم پیدائش، بنگلہ دیش کی آزادی کی 50 سال اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ جناب مودی نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ قریبی تعلقات کی برقراری ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

نیپال کے اپنے ہم منصب جناب کے پی شرمااولی کے ساتھ گفتگو کے دوران وزیراعظم مودی نے 2019 میں ہند-نیپال تعلقات کے فروغ پراطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال نیپال میں ہندوستان کی امداد سے شروع کیے جانے والے بہت سے پروجیکٹ مکمل ہوئے، اس سلسلہ میں انہوں نے ہندوستان کے موتیہاری اور نیپال کے املیکھ گنج کے درمیان ریکارڈ ٹائم میں پٹرول پائپ لائن کی تکمیل کا ذکر کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ