پاکستان کی ریاکاری


پاکستان کے شہر لاہور کے نزدیک ننکانہ صاحب میں جمعہ کے روز تقریباً چار سو لوگوں کے ایک ہجوم نے سکھوں کے مقدس ترین مقام گرودوارہ جنم استھان پر حملہ کردیا۔ پرتشدد ہجوم نے نہ صرف گرودوارے پر پتھر بازی کی بلکہ سکھ۔ مخالف نعرے بھی لگائے۔ اس ہجوم کی قیادت محمد حسن کا کنبہ کر رہا تھا۔ یہ وہی محمد حسن ہے جس پر گرودوارے کے گرنتھی کی بیٹی جگجیت کور کو اغوا کرنے اور جبراً اس کا مذہب تبدیل کراکے اس سے شادی کرنے کا الزام ہے۔ سکھ برادری نے لڑکے کی اس حرکت کی کافی مخالفت کی تھی اور اس مخالفت کے رد عمل کے طور پر یہ تشدد برپا کیا گیا۔ 

تشدد کے بعد جاری ایک ویڈیو میں لوگوں کو گرودوارے کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مظاہرین یہ بھی کہتےہوئے دکھائے گئے ہیں کہ وہ جلد ہی اس مقام کا نام ننکانہ صاحب سے بدل کر غلامانِ مصطفیٰ رکھ دیں گے۔ 

یہ صورتحال خاص طور پر ان سکھ عقیدتمندوں کو خوف زدہ کرنے والی تھی جو اس تاریخی گرودوارے کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔ اس تشددکے جواب میں حکومت پاکستان نے جو کارروائی کی وہ کافی مایوس کن ہے اور جس سے پاکستان میں رہنے والی سکھ برادری کے تحفظ کے بارے میں تشویشات پیدا ہوگئی ہیں۔ 

ننکانہ صاحب پاکستان کا ایک ضلع ہے جہاں 1469میں سکھوں کے پہلے گرونانک دیوجی پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے یہ گرودوارہ سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ تمام دنیا میں پچھلے سال سکھ برادری نے گرونانک دیو جی کا 550واں یوم پیدائش منایا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ ننکانہ صاحب میں پرتشدد واقعہ دسویں گرو گروگوبند سنگھ کے یوم پیدائش منائے جانے کے ایک دن بعد پیش آیا۔ 

ہندوستان نے اس منصوبہ بند تشدد اور غنڈہ گردی کی سخت مذمت کی ہے۔ نئی دہلی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال اگست میں جگجیت کور کو ننکانہ صاحب میں اس کے گھر سے اغوا کرکے جبراً اس کا مذہب تبدیل کرایا گیااور اب یہ حرکت کی گئی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہندوستان نے مقدس مقام کی بے حرمتی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے سکھ برادری کی فلاح وبہبود ، سلامتی اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کرنے کے لئے کہا ہے۔ نئی دہلی نے اسلام آباد سے گرودوارے کے تقدس کو مجروح کرنے والوں اور سکھ برادری پر حمہ کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے حکومت پاکستان کو یاد دلایا کہ گرو دوارہ ننکانہ صاحب کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کے تقدس کو برقرار رکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ 

ادھر ننکانہ صاحب پر حملے کی خبر ملنے کے فوراً بعد ہی پنجاپ کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو فون کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں فوراً مداخلت کرکے گرودوارے میں پھنسے عقیدتمندوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے میں مدد کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ گرودوارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے جو اس وقت پرتشدد ہجوم سے گھرا ہوا ہے۔ مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم وستم ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب گرودوارے پر حملے سے پاکستان کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ شرومنی اکالی دل کے صدر اور دوسرے سیاسی رہنماؤں نیز ملک وبیرون ملک رہنے والے سکھوں نے بھی اس و۱قعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ ادھر نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے دفتر کے سامنے کافی تعداد میں لوگوں نے ننکانہ صاحب واقعہ کے خلاف احتجاج کیا۔ 

لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اس واقعہ کے خلاف دو دن بعد اپنی زبان کھولی۔ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب کا واقعہ ان کے وژن کے خلاف ہے اور ان کی حکومت ایسی حرکتوں کو کبھی بھی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ واقعہ میں ملوث لوگوں کو پولیس اور عدلیہ سمیت حکومت سے کسی قسم کی رعایت یا تحفظ نہیں ملے گا۔ تاہم وہ یہ کہنے سے باز نہیں آئے کہ ننکانہ صاحب کے قابل مذمت واقعہ اور ہندوستان میں اقلیتوں کی صورتحال میں نمایاں فرق ہے۔ عمران خان کا یہ بیان لغو اور قابل مذمت ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستانی قیادت ایک ایسے ہجوم کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہے جو امن ودوستی میں خلل ڈالنے کے درپے ہو۔ 

عمران خان کے تبصرے سے پہلے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ننکانہ صاحب میں تشدد کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ اس کا دعویٰ تھا کہ یہ ایک چائے کی دکان پر دو گروپوں کے درمیان معمولی جھگڑا تھا۔ 

اس واقعہ نے پاکستانی ریاکاری کی پول کھول کر رکھی دی ہے۔ پچھلے سال نومبر میں کرتارپور راہداری کھول کر اس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ کافی مخلص ہے لیکن ننکانہ صاحب کے واقعہ نے اس کے چہرے سے نقاب اتار کر رکھ دیا ہے اور بتادیا ہے کہ وہ کتنا بڑا ریاکار ہے۔ اس لئے پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہندوستان اور بین الاقوامی برادری کو اسلام آباد پر دباؤ بنانے رکھنے کی ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ