پاکستان میں اقلیتیں چوطرفہ حملوں کا شکار


وزیر اعظم پاکستان عمران خان اس وقت عالمی برادری اور بالخصوص عالم اسلام میں یہ پروپگنڈا کرنے میں مصروف ہیں کہ ہندوستان میں مسلم اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران حکومت نے عالمی برادری اور مسلم دنیا کو مسلسل گمراہ کرنے کی غرض سے ایک سفارتی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ گویا ان کی ان گمراہ کن کوششوں سے لوگ واقعی گمراہ ہوجائیں گے اور یہ سمجھنے لگیں گے کہ پاکستان میں اقلیتیں بہت محفوظ ہیں اور وہاں کسی طرح کی زیادتی کسی اقلیت کے ساتھ نہیں ہوتی۔ حالانکہ خود پاکستانی اخبارات میں لوگ آئے دن یہ خبریں پڑھتے رہے ہیں کہ وہاں کن کن عنوانات سے اقلیتوں کو پریشان کیا جاتا ہے۔ بہت سی غیر مسلم لڑکیوں کی جبرا شادی کرانے اور مشرف بہ اسلام کرنے کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان واقعات پر خود پاکستان کے انصاف پسند حلقے احتجاج بھی کرتے ہیں اور حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گزشتہ سال جب عمران خان برسراقتدار آئے تو جہاں انہوں اور بہت سے وعدے کیے تھی وہیں یہ بھی یقین دلایا تھا کہ کسی کے ساتھ کسی طرح کاامتیازی سلوک نہیں ہوگا اور ان کے حقوق کی حفاظت کی جائےگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان جتنا اکثریت کا ہے اتنا ہی اقلیت کابھی ہے۔ ان کے اس طرح کے بیانات کے پس منظر میں امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی ایک حالیہ رپورٹ کا یہ اقتباس دیکھیے‘‘حکومت پاکستان ہندو، عیسائی، احمدی اور شیعہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ امید کی گئی تھی کہ عمران خان کی نئی حکومت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی لیکن مایوسی ہی ہاتھ لگی’’۔

امریکہ کے متعلقہ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اقلیتوں سے متعلق صورت حال بدلتی ہی نہیں اس لیے اسے ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے جہاں صورت حال خصوصی طور پر تشویشناک ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ یہ یکطرفہ اور تعصب اور نا انصافی پر مبنی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے لیے حقیقت کو جھٹلانا تو ایک معمول کی بات بن گئی ہے لیکن خود پاکستان کے ایک غیرمسلم ممبر قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی (Vankwani) کے ایک مضمون سے اصل حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ مسٹر ونکوانی کا مضمون تین جنوری کو پاکستان کے ایک ممتاز انگریزی اکبار ‘دی نیوز’ میں شائع ہوا ہے۔ انہوں نے پشاور میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے کے بعد سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے چرچ پر ہونے والے حملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے تین ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی کہ وہ پاکستان کی محب وطن اقلیتوں کی سلامتی اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی رپورٹ پیش کرے۔

ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کا کہنا ہے کہ انہیں بھی ایک ممبرپارلیمنٹ اور ہندوکونسل کا سرپرست ہونے کی وجہ سے اپنی رائے ظاہر کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے یہ کہا تھا ‘‘میرا مؤقف بالکل واضح ہے۔ تمام مذاہب کا یکساں طور پر احترام ہونا چاہیے اور اہانت دین قانون کا اطلاق بھی تمام مذاہب کے لیے ہونا چاہیے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ سوشل میڈیا اور اسکولوں کے نصاب میں بھی اقلیتوں کے بارے میں قابل اعتراض مواد ہوتے ہیں۔ انہوں نے عدالتی کمیٹی کو اس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ اغوا اور جبرا مذہب تبدیل کرانے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ نابالغ لڑکیوں کی شادی کرائی جاتی ہے اور مندروں پر حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے ممبرپارلیمنٹ ڈاکٹر ونکوانی نے اپنے مضمون میں یہ بھی کہا ہے کہ فاضل جج نے یہ حکم دیا تھا کہ سوشل میڈیا اور نصابی کتابوں سے قابل اعتراض چیزوں کو فورا ہٹادیا جائے۔ انہوں نے ایسی کئی مثالیں دی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح سمیت بیشتر لیڈروں نے پاکستان کو ایک ایسا مثالی ملک بنانے کاخواب دیکھا تھا جہاں مسلم اور غیرمسلم شہریوں کے درمیان کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر ونکوانی کے مطابق، بدقسمتی یہ ہے کہ اس پر عمل نہیں ہوتا۔ انتہاپسند عناصر پاکستان کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جس سے بین الاقوامی برادری کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں ایسی رپورٹ پیش کریں۔

حکومت پاکستان امریکی کمیشن کو تو جھٹلاسکتی ہے لیکن کیا وہ پاکستان کے ایک معزز رکن قومی اسمبلی کے ان خیالات کو بھی جھٹلا دیگی جو پاکستان ہی کے اخبار میں شائع ہوئی ہے۔ غیرمسلم لڑکیوں کی جبراً شادی اورمذہب تبدیل کرانے کے واقعات کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے جو پاکستان کے اخباروں میں آئے دن شائع ہوتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ