Posts

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کا امکان؟

حالیہ دنوں میں ایک طرف امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی سطح پر پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا تو دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان ،ایران کے نیو کلیائی پروگرام کے سوال پر دوبارہ کشیدگی کی فضا تشویش کا باعث بنی۔یہ دونوں باتیں امریکی صدر ٹرمپ کے کئے گئے بعض فیصلوں کی بنیاد پر سامنے آئیں۔ امریکہ اورچین دنیا کی بڑی معیشتیں ہیں اور ان کے درمیان اس نوعیت کی اگر تجارتی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف ان دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات تک نہیں محدود رہ سکتا بلکہ پوری دنیا کی تجارت پر اس کے ناخوشگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور متعدد دوسرے ملکوں کی تجارتی سر گرمیوں پر بھی ناخوشگوار اثر پڑے گا۔ در اصل صدر ٹرمپ کے بعض فیصلے اچانک او رغیر متوقع طور پر سامنے آتے ہیں جس کی وجہ سے خود ان کے روایتی اتحادیوں میں بھی کنفیوژن پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ تجارت کے معاملے میں انہوں نے چین سے متعلق جو فیصلہ کیا اس کا چین نے بھی اسی انداز سے جواب دیا اور اس کی طرف سے بھی کچھ اسی طرح کا انداز اختیار کیا گیا جو صدر ٹرمپ سے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔ظاہر ہے اگر دونوں طرف اس طرح کا رویہ اختیا...

پاکستان حوالہ نیٹ ورک کی گرفت میں

لندن میں واقع ایک سرکردہ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ ابھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے بین الاقوامی ادارے جو کچھ کررہے ہیں اس سے کہیں زیادہ اہم یہ امر ہے کہ پاکستان سے حوالہ اور ہنڈی جیسی تکنیکوں کے ذریعے بڑی بڑی رقم باہر جارہی ہے اور یہ عمل ملک کی معیشت کی غارت گری میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بالخصوص مغربی ایشیاکے لیے ایک شہر کا نام لیا گیا ہےجسے زمینی جنت کے طور پر مشتہر کرنے کی سعی کی گئی تھی۔ یہ بات درست ہے کہ حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورک بہت سارے ملکوں میں کام کررہے ہیں اور خطیر رقم کے اس غیرقانونی اخراج سے بہت سارے ملک پریشان ہیں۔ لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ ملک کی کل گھریلو دولت کا کتنا حصہ باہر جارہا ہے اور کوئی ملک اس عمل پر لگام لگانے کی کوشش کرتے ہوئے کس حد تک اس غیر قانونی اخراج کی چوٹ برداشت کرسکتا ہے۔ کسی ملک سے دولت کے غیر قانونی اخراج کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ اس کی مقدار کا کبھی صحیح صحیح تعین نہیں کیا جاسکتا، اور پاکستان سے ان نیٹ ورک کے ذریعہ کتنی دولت باہر جارہی ہے یہ بھی کوئی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکت...

موضوع:امریکہ کی تجارتی جنگ، عالمی تشویش کا باعث

دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں امریکہ اور چین کے درمیان ان دنوں ایک دوسرے کے خلاف تجارتی پابندیوں اور بیان بازی کی جو جنگ چھڑی ہوئی ہے اس نے دنیا کے تقریباً سبھی ترقی پذیر اور پس ماندہ ملکوں کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس تناظر میں امریکہ اورایران کی جوہری چپقلش بھی ایک منفی کردار ادا کررہی ہے جو خاص طور سے ان ایشیائی ملکوں کے لیے بھی سردرد بن گئی ہے جو اقتصادی اور معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہیں اور ایران سے تیل کی خریداری جن کے لیے کسی قدر منفعت بخش ثابت ہوتی رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےچند ہفتے پہلے، چینی سامان پر محصول بڑھادیے تھے اورانھوں نے چین کی سب سے بڑی، مواصلاتی مصنوعات بنانے والی ٹیلی کوم کمپنی ہُوئےوی کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں چین نے امریکہ پرکھُلی اقتصادی دہشت گردی کا لزام لگا یا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگرچہ چین تجارتی جنگ آرائی کا مخالف ہے لیکن وہ ڈرتا نہیں ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی مشکل ٹرمپ انتظامیہ کے بقول یہ بتائی جارہی کہ چینی مال کی وجہ سے اس کی اپنی کمپنیاں ، خاص طور سے وہ کمپنیاں جو الیکٹرانک سازو سامان، کمپیوٹر، موبائل وغیرہ بناتی ہیں ، تجارتی ...

موضوع: مودی کی دوسری بار حلف برداری، کابینہ نے بھی لیا حلف

عام انتخابات میں دوسری مرتبہ زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر جناب نریندر مودی نے بطور وزیراعظم حلف لیا۔ کل نئی دہلی میں راشٹرپتی بھون کے احاطہ میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں مودی کابینہ کے وزراء نے بھی حلف لیا۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے وزیراعظم سمیت تمام وزراء کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔حلف برداری کی تقریب میں بمسٹیک ممالک کے رہنما مہمانان خصوصی تھے۔ وزراء کی کونسل میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو واقعی باصلاحیت ہیں۔ اس حلف برداری کی تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار وزراء کی کونسل میں سابق خارجہ سکریٹری سبرامنیم جے شنکر کو شامل کیا گیا ہے۔ جناب جے شنکر نے وزارت خارجہ میں سکریٹری کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ چین سے متعلق اُمو رکے ماہر سمجھے جاتے ہیں اس لئے کابینہ میں ان کی شمولیت کافی اہم سمجھی جارہی ہے۔ بی جے پی صدر امت شاہ کو بھی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ وہ حکومت میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔  جناب مودی نے اکثر یہ بات کہی ہے کہ ملک کے لوگوں کو ان کی حکومت سے کافی توقعات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دوسری بار بھی بی جے پ...

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا اشارہ

ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بدلتے وقت کی مناسبت سے اس کی پالیسیاں تبدیل ہوتی رہیں، حکومت حالات کے مطابق اپنی ترجیحات متعین کرے۔ 2014 میں دنیا کے اور علاقائی حالات کچھ اور تھے اور 2019 میں کچھ اور ہیں، چنانچہ حکومت ہند کی ترجیحات 2019 میں بھی وہی نہیں ہو سکتیں جو 2014 میں تھیں، اس بار وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں اسی لیے صرف پڑوسی ملکوں کے سربراہوں کو ہی مدعو نہیں کیا گیا، دیگر اہم ملکوں کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا گیا مگر حلف برداری کی تقریب میں بنگلہ دیش، بھوٹان، میانمار، نیپال اور تھائی لینڈ کے سربراہوں کو شرکت کی دعوت مودی حکومت کی ’پڑوسی پہلے‘پالیسی کا ہی تسلسل ہے۔ تیزی سے بدلتے عالمی حالات کے مدنظر ہندوستان کی ترقی کے لیے نئے امکانات کی تلاش ضروری ہے، امکانات کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، ہندوستان کی ترقی کا دائرہ بھی اتنا ہی وسیع ہو جائے گا، چنانچہ نئی حکومت نے وقت ضائع کیے بغیر حلف برداری کی تقریب سے ہی یہ اشارہ دے دیا ہے کہ پڑوسیوں کی اہمیت اس کے لیے مسلم ہے مگر وہ ممالک بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہیں جو ہندوستان سے مستحکم تعلقات ر...

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طر ف سے شمالی وزیرستان میں ہونے والی ہلاکتوں کی چھان بین کرانے کا دباؤ

حالیہ دنوں میں پشتون کارکنوں کی تنظیم پشتون تحفظ موؤمنٹ کو بدنام کرنے اور کارکنوں کو کچلنے کی جو کوششیں پاکستان کی سیکورٹی فورسیز کی جانب سے ہوئی ہیں، اس کے باعث نہ صرف پاکستان کے تمام انصاف پسند حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے بلکہ عالمی پیمانے کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سخت احتجاج کیا ہے۔ مجموعی طو رپر بھی پورے پاکستان میں بدنظمی اور لاقانونیت اتنی زیادہ بڑھی ہے کہ سنجیدہ حلقوں میں عمران حکومت کی کارکردگی پر سوالوں کی بوچھار ہونے لگی ہے۔ ہر طرف سے یہی سوال کیا جارہا ہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل جو بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ وہ پاکستان کو ایک فعال جمہوریت بنائیں گے ، اصل طاقت پارلیمنٹ کو دلائی جائے گی ، اظہار رائے پر قطعی کوئی پابندی نہیں ہوگی، میڈیا بالکل آزاد ہوگا اور آزاد عدلیہ کے قیام کو یقینی بنایاجائے گا ۔وہ تمام کے تمام وعدے اور دعوے صرف دعوے یا خواب ثابت ہوئے۔ ایک ممتاز صحافی اور سابق سفارت کار واجد شمس الحسن نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے تباہ کن اثرات صاف نظر آنے ہی لگے ہیں لیکن اس ضمن میں ان کے ایک انتخابی وعدے کو ...

پشتون کارکنوں پر پاکستانی فوج کے مظالم

پاکستانی فوج کئی اعتبار سے دنیا کی دوسری فوجوں سے قطعی مختلف ہے۔ دنیا کی بیشتر فوجیں اپنے ملک کو درپیش بیرونی خطرات سے بچاتی ہیں اور قوم کی حفاظت اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اور مناسب قدم اٹھاتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج کا وتیرہ یہ رہا ہے کہ وہ جنگ کرنے کے بہانے تلاش کرتی ہے اور پڑوسی ملکوں سے دست و گریباں رہنے کے لئے کبھی براہ راست اور کبھی در پردہ جنگ لڑتی رہتی ہے۔لیکن وہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ اندرون ملک بھی کسی نہ کسی حلقے یا علاقے کے لوگوں کے خلاف لڑنا اس کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ اگر جوڑ گھٹا کر دیکھا جائے تو اندرون ملک اس کی بنیادی لڑائی جمہوریت اور جمہوریت پسندوں سے رہتی ہے۔ مثلاً گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی کے اواخر اور 70 کی دہائی کے اوائل میں اس کی اصل لڑائی مشرقی پاکستان کے لوگوں سے رہی جو اپنے جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ کررہے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی سیاسی پارٹی نے جب انتخا بات میں قومی پیمانے پر غالب اکثریت حاصل کی تب بھی اسے اقتدار نہیں سونپا گیا کیونکہ پاکستانی فوج کی نظر میں مشرقی پاکستان کے لوگ نسلی اعتبار سے کمتر تھے لہٰذا انہیں...