موضوع:امریکہ کی تجارتی جنگ، عالمی تشویش کا باعث


دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں امریکہ اور چین کے درمیان ان دنوں ایک دوسرے کے خلاف تجارتی پابندیوں اور بیان بازی کی جو جنگ چھڑی ہوئی ہے اس نے دنیا کے تقریباً سبھی ترقی پذیر اور پس ماندہ ملکوں کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے۔ اس تناظر میں امریکہ اورایران کی جوہری چپقلش بھی ایک منفی کردار ادا کررہی ہے جو خاص طور سے ان ایشیائی ملکوں کے لیے بھی سردرد بن گئی ہے جو اقتصادی اور معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہیں اور ایران سے تیل کی خریداری جن کے لیے کسی قدر منفعت بخش ثابت ہوتی رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےچند ہفتے پہلے، چینی سامان پر محصول بڑھادیے تھے اورانھوں نے چین کی سب سے بڑی، مواصلاتی مصنوعات بنانے والی ٹیلی کوم کمپنی ہُوئےوی کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں چین نے امریکہ پرکھُلی اقتصادی دہشت گردی کا لزام لگا یا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگرچہ چین تجارتی جنگ آرائی کا مخالف ہے لیکن وہ ڈرتا نہیں ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی مشکل ٹرمپ انتظامیہ کے بقول یہ بتائی جارہی کہ چینی مال کی وجہ سے اس کی اپنی کمپنیاں ، خاص طور سے وہ کمپنیاں جو الیکٹرانک سازو سامان، کمپیوٹر، موبائل وغیرہ بناتی ہیں ، تجارتی بحران کا شکار ہیں جس کا امریکہ کی اقتصادی صورتِ حال پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ اگرچہ امریکی پالیسیوں کی نکتہ چینی کرنے والے چین کے سامان پر محصول بڑھانے کے فیصلے کو صدر ٹرمپ کااقتصادی فیصلہ کم اور سیاسی فیصلہ زیادہ مانتے ہیں لیکن امریکہ کی عذرداری بلاسبب بھی نہیں ہے۔ اُدھر چین نے بھی جواب میں اپنی طرف سے امریکی سامان پر محصول بڑھا دیا ہے اور اگر چین کے سرکاری میڈیا پر یقین کیا جائے توبیجنگ امریکہ کو اُن کم یاب معدنیات کی فراہمی روک سکتا ہے جو ہائی ٹیک مصنوعات بنانے میں کام آتی ہیں ۔ اگر ایسا ہوا تو یہ واشنگٹن کے خلاف ایک بہت سخت فیصلہ ہوگا چونکہ اس قسم کی نادرمعدنیات میں چین کو اجارہ داری حاصل ہے اور دنیا کی یہ 95فیصد نادرمعدنیات چین میں ہی پائی جاتی ہیں۔اس دوران چین کے سرکاری میڈیا اوردیگر سرکاری حلقوں میں امریکہ کے خلاف بیان بازی اور وطن پرستی کے جذبے کو جگانے کی کوششیں شدّت اختیار کر گئی ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں چینی کمیونسٹ پارٹی امریکہ کے خلاف لمبی لڑائی شروع کرا سکتی ہے۔چینی معدنیات کی فراہمی رکنے سے امریکہ کی الیکٹرانک کمپنیاں مزید مشکلات کا شکار ہوسکتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ عالمی بازار میں چین کے مقابلے میں اور بھی زیادہ پچھڑ جائیں گی۔چین کی اس دھمکی کے جواب میں امریکہ کی طرف سے سرکاری طور پر فی الحال یہ کہا جارہا ہے کہ موجودہ ضابطوں کے تحت ہم برسوں سے تجارتی پریشانیاں جھیلتے آرہے ہیں اس لیے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی توجہ کا واحد مرکز فی الوقت چین کو پیچھے دھکیلنا ہے۔ اس کے ساتھ امریکہ کے اعلیٰ فوجی جنرل اور پنٹاگان کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ کا یہ معنی خیز بیان بھی جڑ جاتا ہے کہ ساؤتھ چائنا سی میں چین کے بڑھتے ہوئے تجاوزات کو روکنے کے لیے ، بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کی مشترکہ کوششیں ضروری ہوگئی ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکرہے کہ اس خطے کے پانچ ملک، ویت نام، ملیشیا، برونائی ،انڈونیشیا اور فلپائن اپنےاپنے علاقوں پر چین کے دعووں کو مسترد کر چکے ہیں اور اس کے خلاف کھڑے ہیں۔ظاہر ہے امریکہ کا اشارہ ان ہی ملکوں کو چین کے خلاف صف آرا کرنے کی طرف ہے۔ تاہم امریکہ کسی عسکری کارروائی کے حق میں نہیں ہے اور چین کو صرف متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ وہ بین الا قوامی سرحدوں کا احترام کرے۔

اسی کے ساتھ ساتھ اقتصادی پابندیوں کا ایک محاذ امریکہ اور ایران کے درمیان بھی کھلا ہوا ہے۔ امریکہ فی الوقت ایران کے مبینہ جوہری عزائم کا نام لے کراس کےخلاف تجارتی تعزیرات کو نافذ کرانے میں کامیاب نظر آرہا ہے لیکن اس سے بھارت سمیت ان ترقی پذیر ملکوں کا مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے جن کی تیل درامدات کا زیادہ انحصار ایران پر ہے اور جو اِن پابندیوں کی بناپر ایران سے اب تیل نہیں خرید پارہے ہیں۔ ان ملکوں کی پریشانی یہ ہے کہ وہ امریکہ سے بھی دوستی قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ایران سے بھی۔دونوں ملکوں کی یہ تنا تنی کل ملاکر نہ امریکی عوام کے حق میں ہے نہ ایرانی اور باقی دنیا کے عوام کے حق میں ۔ ان حالات میں بھارت جیسے امن پسند ملک یہی چاہیں گے کہ امریکہ ہو یا ایران یا پھر امریکہ ہو یا چین ، سب باہمی گفت و شنید سے حقیقت پسندانہ رویّہ اختیار کرتے ہوئے آپس کے تنازعات ایک دوسرے کے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر حل کریں تاکہ دنیا اُس عالمی اقتصادی بحران سے بچ سکے جس کی طرف وہ بڑی تیزی سے بڑھتی نظر آرہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ