پاکستان حوالہ نیٹ ورک کی گرفت میں
لندن میں واقع ایک سرکردہ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ ابھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے بین الاقوامی ادارے جو کچھ کررہے ہیں اس سے کہیں زیادہ اہم یہ امر ہے کہ پاکستان سے حوالہ اور ہنڈی جیسی تکنیکوں کے ذریعے بڑی بڑی رقم باہر جارہی ہے اور یہ عمل ملک کی معیشت کی غارت گری میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بالخصوص مغربی ایشیاکے لیے ایک شہر کا نام لیا گیا ہےجسے زمینی جنت کے طور پر مشتہر کرنے کی سعی کی گئی تھی۔
یہ بات درست ہے کہ حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورک بہت سارے ملکوں میں کام کررہے ہیں اور خطیر رقم کے اس غیرقانونی اخراج سے بہت سارے ملک پریشان ہیں۔ لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ ملک کی کل گھریلو دولت کا کتنا حصہ باہر جارہا ہے اور کوئی ملک اس عمل پر لگام لگانے کی کوشش کرتے ہوئے کس حد تک اس غیر قانونی اخراج کی چوٹ برداشت کرسکتا ہے۔ کسی ملک سے دولت کے غیر قانونی اخراج کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ اس کی مقدار کا کبھی صحیح صحیح تعین نہیں کیا جاسکتا، اور پاکستان سے ان نیٹ ورک کے ذریعہ کتنی دولت باہر جارہی ہے یہ بھی کوئی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا، تاہم اتنی بات طے ہے کہ پاکستان کی کل گھریلو پیداوار میں طرح طرح سے باہر جارہی رقوم کا تناسب خاصہ زیادہ ہے اورپہلے سے لڑکھڑارہی ایک معیشت کب اس کے بوجھ سے کراہ اٹھےگے، کوئی نہیں کہہ سکتا۔
اس سلسلے میں غور طلب بات یہ بھی ہے کہ کسی ملک سے جب کچھ دولت سرمایہ کاری یا قرض کی شکل میں باہر جاتی ہے تو اس کی یا اس سے پیدا ہونے والے منافع یا سود کی واپسی یقینی ہوتی ہے، لیکن حوالہ نیٹ ورک کے ذریعہ باہر جانے والی رقوم پھر کبھی واپس نہیں آتی اور متعلقہ ملک ان سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتا ہے۔ لندن سے موصول حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے سلسلے میں اس عمل کو دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے لیے کیے جارہے اقدامات سے کہیں زیادہ سنگین بتایا گیا ہے۔پھر بھی یہاں یہ بات برملا کہنی ہوگی کہ یہ معاملہ ایسا ہے جس پر خود پاکستان کو ضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس سلسلے میں کوئی بھی دوسرا ملک پاکستان کی ایک حد تک ہی مدد کرسکتا ہے۔
اس سے جڑی ایک دوسری اہم بات بھی ہے جس پر لندن کے مذکورہ انسٹی ٹیوٹ نے غور نہیں کیا ہے۔ پاکستان کے کتنے معزز اور مؤقر شہری ان حوالہ نیٹ ورک میں ملوث ہیں، یہ سوال پہلے بھی اٹھتا رہا ہے۔ لیکن آج ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا دہشت گرد تنظیمیں ان نیٹ ورکس کا استعمال نہیں کریں گی، اس کی ضمانت بھلا کون لے سکتا ہے؟ جس فوج کےمتعدد افسرمنشیات کی غیرقانونی تجارت میں ملوث پائے گئے ہیں وہ فوج ان طریقوں سے اپنے خانہ زاد دہشت گردوں کی مدد نہیں کرے گی۔یہ بات سوچی بھی نہیں جاسکتی۔ لہذا بین الاقوامی ادارے جب ٹیررفنڈنگ کی قدغن کے لیے کوشاں ہیں تو ان کو یہ بات بھی دھیان میں رکھنی ہوگی کہ ان کے اقدامات کی کاٹ کے لیے حوالہ نیٹ ورک کے ذریعہ طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کی مدد کی کوششیں عین ممکن ہیں۔
حوالہ نیٹ ورک کے ذریعہ دولت کے اخراج کا یہ معاملہ پاکستان کے سلسلے میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔مالی اعتبار سے یہ ملک آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور ایک ذرا سا جھٹکا بھی جھیلنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ابھی حال میں اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے جو نام نہاد مدد حاصل ہوئی ہے، اس کے سبب خود پاکستان کے سیاسی مبصرین کے مطابق ملک کی معیشت مزید خستہ حال ہوسکتی ہے۔ مثال کے لیے 6 ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنے کے لیے جناب عمران خاں کی سرکار نے جو شرطیں مانی ہیں ان میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ عام شہریوں کو مختلف ٹیکسوں میں دی جانے والی رعایتیں ختم کی جائیں گی اور ان رعایتوں کی مقدار 700 ارب پاکستانی روپیہ کے برابر بتائی گئی ہے۔
یوں تو اس صورت حال سے باہر نکلنے کے لیے ابھی بھی پاکستان کے سامنے کچھ ایک راستے کھلےہیں، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ سرکار اور بالخصوص فوج اور آئی ایس آئی کی بٹھائی ہوئی ایک سرکار کیا ان راستوں پر چلنے کا حوصلہ دکھاسکے گی۔ اپنے ہمسایہ ممالک مثلا ہندوستان، افغانستان، ایران اور وسط ایشیائی ملکوں سے یا سارک کے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے کر پاکستان سرکار اپنے شہریوں کا بہت کچھ بھلا کرسکتی ہے۔ لیکن اس محاذ پر بھی پاکستان سرکار کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ ایک مثال لے لیجئے! آج پاکستان کے ہی بعض خاندان مغربی ایشیا یا یوروپ کے کچھ ملکوں میں ہندوستان سے دوائیں منگاکر پھران کو پاکستان برآمد کرتے ہیں جس کے سبب وہ تو اربوں کماتے ہیں مگرپاکستان کے عوام اس کی مار جھیلتے ہیں اور ساتھ ہی سرکار بھی کافی کچھ مالیہ سے محروم رہ جاتی ہے۔ لہذا کوئی بھی شخص سمجھ سکتا ہے کہ ہندوستان سے تعلقات کی بہتری کس قدر پاکستان کے حق میں ثابت ہوتی۔ لیکن ہندوستان کا ہوا دکھاکر جس فوج نے ایک کارپوریت ادارہ کی حیثیت حاصل کی ہے، وہ فوج کیا سرکار کو اس سلسلے میں عمل کی آزادی دے گی؟ بنیادی سوال یہی ہے۔
Comments
Post a Comment